کسی بھی ملک کے تاناشاہ کی منمانی ,انسانی خسارہ اور ظلم و جبر کی روک تھام کیلئے مہذ ب سماج ہی زمہ دار!

سہارنپور(احمد رضا): پوری دنیا میں ایک فیشن سا ہو گیا ہے کہ کوئی بھی ملک کا موقع پرست اور من مانی کرنے والا رہبر اپنے سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے گھٹیا  سے گھٹیا اور  وحشی پن کی حرکتیں کر نے سے بھی باز نہی آتا کیونکہ وہ صرفِ خد کو مضبوط اور مستحکم بنائے رکھنا چاہتا ہے ہندوستان کے مختلف حصوں میں جہاں ہجومی تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے وہیں منی پور کی درندگی کسی سے بھی چهپی ہوئی نہی ہے مدھیہ پردیش ، اتراکھنڈ ،راجستھان ،ہریانہ ہجومی تشدد میں سرفہرست ہے اب تو اتر پردیش کے ساتھ ساتھ چھتیس گڑھ بھی ہجومی تشدد کا مرکز بن گیا ہے وجہ یہ کہ حکومت اپنے لوگوں کے خلاف ایکشن لینا نہی چاہتی جس وجہ سے دہشت گرد گروہ کے حوصلہ بلند ہو گئے ہیں اسی طرح پاکستان ،امریکہ ، افریقی ممالک اور میانمار میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہی اضافہ  دیکھنے کو ملتا ہے کوئی بھی سرکار عام افراد کے خلاف ہونے والی اس درندگی کو روکنے میں نيز ظالموں اور قاتلوں کو پھانسی کے پھندے تک لیجانے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے جس وجہ سے انسانی حقوق اور انسانیت کی حفاظت ممکن نہیں!

7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی دہشت گردانہ کارروائیوں جیسے معصوم بچوں ،خواتین نوجوانوں اور بوڑھوں پر سنگین نوعیت کی بم بار ی  لگاتار جاری رکھنا اور اسپتالوں اسکولوں پر خطرناک میزائیلی حملو ں سے ثابت ہوتا ہے کہ جس خاموش اور نرم انداز میں اقوام متحدہ کی سخت وارننگ کے بعد بھی اسرائیل معصوم افراد پر بم باری کر رہا ہے رکنے کا نام نہی لے رہا ہے اور آٹھ ماہ کے دوران چالیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کرچکا ہے  یعنی اسرائیلی وزیراعظم اور آرمی کی دہشت گردی کے سامنے عالمی برادری تماشائی بنی ہوئی ہے یہ ایک خطرناک صورت حال ہے اقوام متحدہ کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہئے اور ممالک کو امن کے قیام کے لئے اقوام متحدہ کے وجود کو مزید فعال اور پائیدار بنانا چاہئیے تبھی انسانی حقوق اور انسانیت کی حفاظت ممکن ہو سکتی ہے۔

واضع ہو کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ 75 سال کا ہو چکا ہےجنیوا کنونشن جو کہ بین الا قوامی انسانی حقوق فراہم کرتا ہے اس کو 76 سال ہو گئے ہیں 75 اور 76 سال گزرنے کے بعد بھی ان قوانین کا احترام نہیں کیا جاتا ہے عالمی سطح پر شیطانیت میں اضافہ ہوا ہے جس نے شہریوں کو شدید تباہی کی قطار میں ڈال دیا ہے امن کے قیام اور امن کی اتباع کیلئے مساوات ، انصاف، آزادی کی ضرورت ہے سب کیلئے انصاف کے تصور پر امن قائم کیا جا سکتا ہے اگر طبقاتی، ذات پات ، مذہب ، رنگ ، نسل اور علاقے کی بنیاد پر انصاف سے انکار کیا جائے گا تو بھر کسی بھی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا! دنیا کے رہنماؤں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سب کیلئے راحت بخش ،امن سکون اور انصاف کیلئے کام کریں جدید ترین دور میں ملک کی ترقیوں سے دنیا کے تمام لوگوں کو فائدہ پہنچنا چا ہئے جنگ جدل اور حسد اور بڑھتی نفرتوں کو ایک چیلنج کے طور پر لیا جانا چاہئے اور اقوام متحدہ کی مشینری کے ساتھ موثر طریقے سے نمٹا جانا چاہئے۔

آئی او ایس کے جنرل سکریٹری پر وفیسر زیڈ ایم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاست کی فطرت میں لڑائی ہے ، سیاست کا کام دو افراد کو آپس میں الجھانا اور لڑانا ہے ، ترقی یافتہ دنیا میں لڑائی پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اب لڑائی کا انداز اور طریقہ بدل گیا ہےامن کا قیام اسی وقت ممکن ہے مظلوموں اور کمزوروں کا استحاصل بند کیا جائے گا اور طاقت کے درمیان توازن کو یقینی بنایا جائے گا اور قدرتی وسائل پر سبھی کی حصہ داری کو تسلیم کیا جائے گا افتتاحی اجلاس میں نظامت کا فریضہ آئی اوایس کے وائس چیر مین پروفیسر افضل وانی نے انجام دیا، قبل ازیں مولا نا عد نان ندوی نے قرآن کریم کی چند آیات تلاوت کر کے آغاز کیا، پر وفیسر حسینہ حاشیہ نے تمام مہمانوں کا شکر یہ ادا کیا واضح رہے کہ یہ سمینار آ ن لائن اور آف لائن دونوں موڈ میں چل رہا ہے، دلچسپی رکھنے والے زوم کے ذریعہ جوائن کر سکتے ہیں یا آئی اوایس کے فیس بک پیچ پر لائیو بھی دیکھ سکتے ہیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے