ڈاکٹر شارب رضوی بارابنکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواہشات نفسانی ایک ایسی بلا ہے جو دُنیا و آخرت دونوں کو خراب کرنے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ یہ خواہشات نفس ہی وہ شے ہے جو آنکھوں پر پردے ڈال دیتی ہے جس سے انسان اپنا راستہ یا تو بھول جاتا ہے یا اُس سے منحرف ہو جاتاہے اور خواہشوں کے دکھائیے ہوئے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے نفسِ امارہ وہ نفس ہے جو ہندوں کو دعوت گناہ دیتا ہے اور پھر اُسی میں ایسا ملوث کرتا ہے کہ انسان اُسکا مرید ہو جاتا ہے اور اپنے قلب کو گناہوں کی آماجگاہ بنا لیتا ہے پھر یہی نفس انسان کو گناہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ دھیرے دھیرے انسان گُناہوں کا عادی ہو جاتا ہے اور انسان اپنی خواہشات کے زیرِ سایہ خواہش کے کیچڑ میں پھس کر ڈبکیاں لگانے لگتا ہے جب کہ نفسِ لوامہ آپکے کئے ہوۓ گناہوں پر آپکی ملامت کرتا ہے اُسے روکنے کی کوششیں بھی کرتا ہے جبکہ نفس مطمئنہ : آپکو اور آپکی انسانیت دونوں کو مطمئن کرنے کی سعی کرتا ہے، دین اور اطاعت الٰہی دونوں کے لئے یہی نفس آگے بڑھ کر اللہ کے ذکر و فکر میں آپکو ہر طرح سے مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش کے درمیان آپ سے ہونے والے گناہوں اور اُس کے وسوسوں سے آپ کو دور رکھنے میں آپکا بھر پور تعاون کرتا ہے جس سے آپ اور آپکا دین دونوں محفوظ رہ سکیں۔ ہمارا جسم مٹی، آگ اور پانی سے بنایا گیا ہے اس میں روح سب سے مقدّس شئے کا نام ہے جس کا تعلق دل سے ہوتا جبکہ جِسم کا تعلق دِماغ سے ہوتا اسی لئے جِسم اور روح دونوں کا نفس بھی الگ الگ نظر آتا ہے روحِ انسانی پاک ہوتی ہے جبکہ جسم میں دوڑنے والا خون نجس ہوتا ہے پھر بھی آپکا اور ہمارا جِسم جسے ہم نفسِ انسانی کہتے ہیں وہ جسم و روح کا مرکّب ہے لیکن نفس ایک ایسا برتن ہے جو بذاتِ خود کوئی بھی مادی وجود نہیں رکھتا اسکے وجود کو ہم روح کی طرح کا ایک جوہر سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی موجودگی صِرف ایک روحانی شے ہے جو ہماری عقل اور قلب پر مسلّط ہے ہم جسکے اشاروں پر غلاموں کی طرح تائید کرتے ہیں۔نفس پر کنٹرول حاصل کرنے سے ہمیشہ قلب کو سکون ملتا ہے اور خواہشات نفسانی پر قابو پا لینے سے گناہ کی جانب مائل ہونے والے قدموں کو روكا جا سکتا ہے ہم اِسکو اصطلاحی زبان میں تقویٰ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کر نے سے خُدا کو بہت ہی اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے اس طرح اللّٰہ تعالٰی کو قریب سے سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
