✒️ احمد حسين مظاہری

 

تکبیرات تشریق کا پس منظر اور واقعہ کی تحقیق!

کچھ کتابوں میں تکبیر تشریق کی ابتداء اس طرح لکھی ہوئی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا، حق جل مجدہ نے آپ کی اس قربانی کو قبول فرما کر بطور فدیہ حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ مینڈھا نازل فرمایا، جب حضرت جبریل علیہ السلام اس فدیہ کو لے کر آرہے تھے، تو اس ڈر سے کہیں جلدی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح نہ کرالیں،، اللہ اکبر اللہ اکبر پکارنے لگے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت جبریل علیہ السلام کی یہ آواز سنی تو بشارت سمجھ کر پکارنے لگے،، لاالہ الااللہ واللہ اکبر،، پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد گرامی قدر کو کہتے ہوئے سنے اور ان کو منجانب اللہ فدیہ آنے کی اطلاع ہوئی تو،، اللہ اکبر وللہ الحمدللہ،،کہتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء اور اس کا شکرانہ ادا کیا۔

نوٹ: علامہ شامی ؒ نے یہ واقعہ ذکر کرکے فتح القدير اور البحر الرائق کے حوالے سے فرمایا کہ: یہ واقعہ محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ (شامی٢ /١٧٨)

 

تکبیرات تشریق کہنے کی وجہ؟

تکبیرات تشریق اس لئے کہی جاتی ہے کہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالی کاحکم ہے کہ ان دنوں میں اللہ تعالی کاذکرکرو،اوروجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ ان دنوں میں اسلام کارکن فریضہ حج کی ادئیگی ہوتی ہے ،اورحجاج کرام تلبیہ پڑھتے ہوئے اللہ کی عظمت ووحدانیت بیان کرتے ہیں ،عام لوگ چونکہ حج میں نہیں ہوتے ،توان کے لئے تکبیرات تشریق کاحکم ہے تا کہ وہ بھی حجاج کرام کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے ان دنوں میں خاص طورپراللہ کی عظمت وکبریائی بیان کرتے رہیں ۔

 

تکبیرات تشریق کن پر واجب ہے؟

تکبیرات تشریق ہرفرض نماز کے بعد مسلمان مرد،عورت،مسافر ،مقیم شہری ،اور دیہاتی پر یکساں واجب ہیں ،فرض جماعت سے اداء کرے یا بغیر جماعت کے نمازکے بعد جب تک مسجد کے اند رہو، کوئی بات نہ کی ہو اور طہارت پر باقی ہو، یاد آجائے تو پڑھ لی جائیں ،اور اگر بالکل بھول گیا تو ساقط ہوجائیں گی اور کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔(ماخذ: دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی)

 

تکبیرات تشریق کے ایام؟

تکبیرات تشریق، نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں ذوالحجہ کی عصر تک ہر نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔

 

تکبیراتِ تشریق کتنی دفعہ پڑھنا واجب ہے؟

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے تکبیرایک بارکہناواجب ہے،تین بارکہنامسنون نہیں،تین بارکہنے کاقول صحیح اورمفتیٰ بہ نہیں ہے‘‘۔(6/175)

 

تکبیر تشریق ہر فرد پر واجب ہے یا کچھ لوگوں کا کہہ لینا کافی ہے؟

تکبیر تشریق ہرفرد پر واجب ہے، کچھ لوگوں کا کہہ لینا کافی نہیں، (ماخذ:دار الافتاء دارالعلوم دیوبند)

کیا مسبوق پر تکبیر تشریق واجب ہے؟ :

مسبوق پر بھی تکبیر تشریق واجب ہے وہ اپنی بقیہ رکعات پوری کرنے کے بعد کہے گا۔(فتاوی رحیمیہ ٦)

امام مسجدنماز عیدین سے پہلے تکبیر تشریق پڑھانا:

عید گاہ پہنچنے سے پہلے پہلے راستہ میں تکبیر پڑھنے کا حکم ہے عید گاہ پہنچنے کے بعد تکبیرات، ذکر اﷲ وغیرہ میں لگ جاوے لیکن جہراً منع ہے سراً پڑھے یا خاموش بیٹھا رہے ، امام صاحب یا کسی مقتدی کے تکبیر تشریق پڑھانے پر حاضرین کا پکار کر تکبیر پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ ہے۔(فتاوی رحیمیہ ٦)

 

تکبیر تشریق بھول جانے پر کیا کرے؟

تکبیر تشریق کا وقت فرض نمازوں کے بعد متصلاً ہے، لیکن اگر کوئی بھول جائے تو جب تک نماز کے خلاف کوئی کام نہ کیا ہو مثلا کسی سے بات چیت نہ کیا ہو، یا دوسری نماز نہ پڑھا ہو یا جان بوجھ کر وضو نہ توڑا ہو تو فوراً تکبیر پڑھ لے تو واجب کی ادائیگی ہو جائے گی، اور مذکورہ امور میں سے کوئی کرلیا ہو تو اب تکبیر تشریق پڑھنے سے واجب کی ادائیگی نہیں ہوگی بلکہ اب اس واجب کے چھوٹنے کی وجہ سے توبہ واستغفار کرے۔(فتاوی ہندیہ)

 

تکبیر تشریق کی قضا ہے یا نہیں؟

ایام تشریق کی کوئی نماز اگر کسی وجہ سے چھوٹ جائے تو ایام تشریق ہی میں قضا کی صورت میں نماز کے بعد تکبیر تشریق کا پڑھنا واجب ہوگا، اور اگر ایام گزرنے کے بعد قضا کرے یا ایام تشریق ہی میں سال گزشتہ کے ایام تشریق کی قضا کرے تو ایسی صورت میں تکبیر تشریق کا پڑھنا واجب نہیں ہے۔(فتاوی ہندیہ)

حق جل مجدہ ہمیں مذکورہ باتوں پر عمل کرنے نیز صحیح دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمیــــــــــن۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے