مفتی فیاض الدین نظامی، محمد معظم، سید عبدالوحیدقاسمی، مفتی معین الدین نظامی اور مفتی سید سراج الدین نظامی کا جلسہ حضرت ابراھیم علیہ السلام سے خطاب
بیدر۔ 15؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے سیرت کے جلسے منعقد کرنے کی آج ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ تاکہ دونوں پیغمبروں کے اسوہ کو ہمارامسلم معاشرہ اختیار کرسکے۔ یہ بات جناب محمد معظم امیرمقامی جماعت اسلامی ہند بیدر نے کہی۔ وہ کل شب شہر بیدرکی خوبصور ت مسجد’’مسجد عثمانیہ ‘‘ میں کاروان ادب ومرکزی رحمت عالم کمیٹی کی جانب سے منعقدہ جلسہ ’’حضرت ابراھیم علیہ السلام کی ایثاروقربانی سے امت مسلمہ کو پیغام ‘‘سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزید کہاکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی قربانیوں کویاد کرنے ہم جمع ہوئے ہیں۔ اور اطاعت کا جو نمونہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے پیش کیاہے وہ قابل تقلید ہے۔ اس عشرہ میں ہم سب کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس عظیم الشان جلسہ کا خطبہء استقبالیہ جناب محمد فراست علی ایڈوکیٹ صدر کاروان ادب ومرکزی رحمت عالم کمیٹی بیدر نے پیش کیاا ور کہاکہ مال ودولت ہی نہیں اپناسب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرناحضرت ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے اوریہ سنت تاقیامت جاری رہے گی ۔ موصوف نے اس موقع پر اہل فلسطین کی قربانیوں کویاد کرتے ہوئے کہاکہ کوفہ کے منافقین کی طرح آج کئی ممالک خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ مسٹر ایڈوکیٹ نے اس طرح کے جلسوں کی افادیت کااقرار کیا۔ مفتی فیاض الدین نظامی نائب قاضی بیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے خود تلقین کی ہے کہ تم ابراھیم کاذکر کرو، وہ ایک سچے نبی تھے۔ نیک کام کرنے کے بعد اس کی شرف ِ قبولیت کے لئے دعا کرنا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی سیرت میں ملتاہے۔ مفتی صاحب نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زندگی کے مختلف واقعات بیان کرنے کے بعد کہاکہ ایثا روقربانی، عشق ووارفتگی، ایمان، عقیدۂ توحید، عزم وحوصلہ اور ثابت قدمی یہ سب صفات حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زندگی میں مل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان صفات سے متصف فرمائے۔ آمین۔
جناب عبدالوحید قاسمی امام وخطیب مسجد مدرسہ عمادالدین محمودگاوان بیدر نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی جتنی دفعہ آزمائش کیا ، ان تمام آزمائشوں میں وہ پورااُترے۔ قربانی کے ایام میں نمازوں کے بعد خون کابہانہ اللہ کو پسند ہے۔ دیگر کسی کام کی اہمیت ثانوی ہے۔ اور خون کاقطرہ زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ قربانی قبول فرمالیتاہے۔ مفتی خواجہ معین الدین نظامی مہتمم مدرسہ معہدانوارالعلوم ، فیض پورہ بیدر نے اپنے موثر خطاب میں کہاکہ قربانی کامقصد گوشت حاصل کرنانہیں ہے۔ اسی لئے فرمادیاگیاکہ اللہ کوتمہارا گوشت یاجانور کاخون نہیں پہنچتا۔ تمہاراتقویٰ پہنچتاہے۔اور جس قدر آزمائشوں سے حضرت ابراھیم علیہ السلام گزرے ہیں وہ ہمارے حوصلہ کو بڑھانے کے لئے کافی ہے۔ بڑھاپامیں اولاد، اس اولاد کو کالے پتھروں (پہاڑوں) کے درمیان چھوڑ کر چلاجانا جہاں کوئی آدم زاد نہیں رہتا اور پھر بارہ سال بعداسی اکلوتی اولاد کی قربانی۔یہ قربانی اس قدر پسند آ ئی کہ تاقیامت قربانی واجب کردی گئی۔ آخر میں مفتی سید سراج الدین نظامی فاضل حدیث جامعہ نظامیہ حیدرآباد اور مہتمم روضہ مشن ہائی اسکول بیدر نے اپنے خطاب میں کہاکہ کچھ لوگ دریافت کرتے ہیں کہ حالات کی بناپر قربانی ضروری ہے کیا؟اس کی جگہ رقم بھی تو خیرات کی جاسکتی ہے۔ ایسا نہیں ہے ۔اسلام نے جس چیزکاحکم دیاہے وہی کام انجام دیناہے۔ جب قربانی کی جائے گی تو وہ جانور پل صراط پر سے گزرنے کے لئے ہماری سواری بن جائے گا۔ موصوف نے بتایاکہ سیرت ابراھیم علیہ السلام میں عظمتیں پوشیدہ ہیں۔ وہ صبرواستقامت کاپہاڑ تھے۔ فرزند ، شوہر ، اوروالد بن کر انھوں نے جوکام کیاہے وہ رہتی دنیاتک کے لئے مثال ہے۔ اور اس کی تقلید ہم سب کوکرنی ہے۔
مفتی سید سراج الدین نظامی نے تلقین کی کہ سبھی لوگ انبیاء علیہ السلام کی سیرتوں کواپنائیں۔ انھوں نے قربانی دینے کی سختی سے تاکید کرتے ہوئے کہاکہ اولاد یہ نہ کہے کہ مجھے نہیں قربانی کامعاملہ تو ابا کو معلوم ہوگا۔ قربانی صاحب نصاب، بالغ اور مقیم پر واجب ہے جبکہ نابالغ پر قربانی واجب نہیں ہے۔ حالات دگرگوں ہوتب تو قربانی پوری حکمت اور ہوشیاری سے دی جائے تاکہ ہمارے اندر ایمان وتازگی پید اہوسکے۔ اس عظیم الشان پروگرام کاآغاز حافظ نذیر احمد شرفی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعت شریف جناب محمد شفیع الدین نے پیش کی۔جب کہ نظامت کافریضہ جناب محمد عبدالصمد منجووالا نے بخوبی انجام دِیا۔ ان ہی کے شکریہ پر جلسہ اپنے اختتام کوپہنچا۔ مسجد عثمانیہ کے صدر جناب الحاج محمد حبیب الدین، حاجی محمدغلام دستگیر،کونسلر جناب عبدالعزیز منا اور دیگر افراد موجودتھے۔ شب دیر گئے جلسہ اپنے اختتام کوپہنچا۔
تصویر منسلک ہے
