از: اِرم فاطمہ، بیدر شریف 
زینب نے گھرآکر اپناپرس سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیااور غصہ سے آگ بگولہ ہوکر کہنے لگی ’’اِن لوگوں کی اتنی ہمت ہوگئی ہے کہ میرے حجاب کو میری ملازمت کی اڑچن بتارہے ہیں۔ مجھے ایسی ملازمت کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو میری پہچان کو بدل دے ۔ یہ بات مجھے ہرگز منظور نہیں ‘‘
والدہ نے پوچھا’’کیوں اتناغصہ ہورہی ہو، بات کیاہے؟‘‘ تب زینب نے بتایاکہ ’’میراحجاب پہننا میرے صدر صاحب کو منظور نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں بنا حجاب کے آفس آناہے تو آؤورنہ مت آؤ‘‘ اس نے ایک سانس لے کر دوبارہ والدہ سے کہا’’مجھے میری پہچان سے ہٹانے کی ان کی کوشش کوناکام بناتے ہوئے میں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیاہے بلکہ استعفیٰ ان کے منہ پر دے ماراہے۔ اللہ کاشکر ہے ہم جس حجاب کی پاس داری کررہے ہیں وہ ہماری قوم کی پہچان ہے ۔ ہم کیسے اپنے سر سے ان چادروں کواُتاردیں؟ میں نے صحیح کیانا امی؟‘‘
امی بولیں ’’خوش رہو میری بچی ، ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے زینب کوگلے سے لگالیااور ایسے ہی روپڑیں ۔
زینب کے چہرے پر اطمینان بخش مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے