محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ حج بیت اللہ سے واپسی 
حج بیت اللہ سے مشرف ہوکر وطن واپس ہونے پر ہر کوئی ملنے والا مسرت کااظہار کررہاتھا اور سیٹھ سلیم چاؤش کو مبارک بادی دی جارہی تھی۔ اس موقع پرایک پرتکلف دعوت سیٹھ سلیم چاؤش نے اپنی جانب سے سبھی کے لئے رکھی تھی۔
سیٹھ سلیم چاؤش کے لنگوٹی یاراورگوشہ نشین دوست احمد پیراں بھی تشریف لائے توگلے ملتے ہی پوچھ بیٹھے ’’سنا ہے ، کچھ لوگ اور گھر والے بھی تمہاری بخیروعافیت وطن واپسی پرخوش ہیں ‘‘
سیٹھ سلیم چاؤش نے احمد پیراں کی بات پر دانت دِکھاتے ہوئے گویاگھراور دیگر افراد کی خوشی کی اطلاع پر مہرلگادی ۔ احمد پیراں نے راز دارانہ انداز میں پوچھا’’یار،وہیں رہ جانے یامرکھپ جانے کاخیال تجھ پر غالب تھایا وطن واپس ہونے کا‘‘
سیٹھ سلیم چاؤش نے سادگی سے فوری جواب دیا’’وطن واپس ہونے کاخیال تو ہر کسی کورہتاہے نامیاں ‘‘احمد پیراں نے مغموم انداز میں صرف اتنا کہا’’یار چاؤش ، تیرا حج تو ہوگیا لیکن تو حج کی روح تک نہیں پہنچ سکا۔ وہیں مرکھپ جانے کاغالب خیال دل کی صفائی سے تعلق رکھتاہے، اور ایسا خیال ہرکسی کے بس کی چیز بھی نہیں ہے‘‘
پھر کچھ توقف کے بعد انھوں نے کہا’’جب  وطن واپس ہواہے تو دنیا داری میں ہی لگارہے گا۔ کسی ضرورت مند کی مدد بھی بہت سوچ کربڑی تحقیق کے بعد کرے گا۔ تینوں اولادیں کون سی فرمانبردار ہیں ، اسی فکر میں گھلارہ جائے گامیرایار، خیر‘‘ پھر وہ اٹھے اورواپس چل دئے۔
احمد پیراں نے کھانے کے سیکشن کی طرف جھانکابھی نہیں تھااوریہ تک نہیں پوچھا تھاکہ دعوت کامینو کیاہے ؟
۲۔ تقدیر کی انکاری 
مقدرکے لکھے کو پڑھنااور اس پر راضی رہنا آسان نہیں ہوتا۔یہ مشکل کام وہ انجام نہ دے سکی۔ اپنے مقدرپر راضی نہ رہ کر اُس نے ایک ہندوسے محبت کی شادی کرلی۔ ڈیڑھ سال بعدجب وہ حاملہ تھی، اس کو اسکے ہندوشوہر نے نہایت ہی بے دردی سے قتل کرڈالا۔وہ بھگوالوٹریپ کاشکار ہوچکی تھی۔
وہ مرتے ہوئے حیرت زدہ تھی کہ اس کاجرم کیاہے کہ میرااپناشوہرمجھے مارڈال رہاہے۔ مرحومہ کواس با ت پر شاید غور کرنے کی مہلت نہ ملی کہ والدین کے پاس رہ کر ان کی پسند کی شادی اس کا مقدر تھی لیکن اپنے مقدر پرراضی نہ ہوکر جوقدم اس نے اٹھایااس کاانجام یہی کچھ ہوا۔ لوگ اس کی عبرتناک موت پر سہمے سہمے ہوئے ہیں۔
۳۔ لکھنے سے کیاہوتاہے ؟
وہ بولا’’لکھنے سے کیاہوتاہے صاحب ؟، کچھ نہیں ہوتا ، کوئی تبدیلی نہیں آتی ‘‘
میں نے اس سے پوچھا’’دیش کادستو رلکھاہواہے نا؟‘‘ وہ بولا’’بالکل لکھاہواہے ‘‘ میں نے پھرپوچھا’’کبھی اس لکھے ہوئے دستور کو پڑھاہے ؟‘‘ وہ بولا ’’ہاں پڑھاہے ‘‘ میں نے پھرایک سوال کیا’’کیااسی کے مطابق دیش چل رہاہے ؟‘‘ اس نے سادگی سے جواب دیا’’ہاں ،اسی کے مطابق دیش چل رہاہے ‘‘
اب مجھے غصہ آنامناسب ہی تو تھا، میں نے پوچھا’’دیش کے لکھے ہوئے آئین کے مطابق سب کچھ چل رہاہے تو پھر لکھنے سے کیاہوتاہے کہنا کہاں تک درست ہے ؟‘‘
وہ خاموش ہوگیا۔ میں بڑبڑاتارہ گیا’’تم لوگ نا۔۔۔۔۔۔مایوسی کے جراثیم پھیلاکر لکھنے پڑھنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو لکھنے پڑھنے کے کاز سے دور کررہے ہو۔تمہیں لکھنے پڑھنے کی اہمیت سے پہلے خود واقف ہونا چاہیے۔ اگر واقفیت نہ ہوتب بھی خاموش رہ کر نوجوانوں کورائٹراورانٹلکچول بننے کی طرف راغب کرنا ہوگا،ورنہ یہ ملک ان پڑھوں کے حوالے ہوجائے گااور پھرتباہی مقد رہوگی‘‘
۴۔ دولت مندی 
وہ ایک مشہور معروف دولت مند تھے. روزانہ دولت کی اس قدر ریل پیل تھی کہ کئی نوکر  کمائی ہوئی رقم بینک میں جمع کیا کرنے پر مامور تھے. بچے بھی کاروبار سے لگے ہوئے تھے لیکن سیٹھ امجد اللہ کی دعا تھی کہ”اے خدا، سکون عطا کر، بے کلی ختم کردے…. تھوڑی وہ نیند دے جس نیند کو کرنے کے بعد خود کو فریش محسوس کر سکوں”
لیکن ان کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا، اور یہ بات انھوں نے کسی کو بتائی بھی نہیں۔
 ۵۔ رنگ آتاہے 
جمعرات بھری مراد کہہ کر مانگنے والے سائل مفقود ہوچکے ہیں۔ہمارے اطراف اب ’’ امبابائی جوگا‘‘ کہہ کر مانگنے والے آگئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جمعرات نے ان کی مرادیں واقعی بھردی ہوںاورانھوں نے سائل والا پیشہ ترک کردیاہوبس یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس طرف نظر نہیں آتے۔جب میں نے کہاتو میرے دوست نے بھی کہہ دیاکہ ’’اماں یار ، وہ کیلوں پر کھڑے ہونے والے گوسائیں بھی نظر نہیں آتے‘‘
میں نے کہا’’شاید وہ ایودھیاچلے گئے ہوں ‘‘ میرے دوست نے میری ہاں میں ہاں ملادی۔ ہاں میں ہاں ملانا واقعی آسان ہوتاہے ۔کیوں کہ ہاتھ میلانہ پاؤں، رنگ بھی اپناجوبن دِکھائے بغیر نہیں رہتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے