سہارنپور ( احمد رضا): اتر پردیش میں درجن پر ہجومی تشدد کے واقعات نے سرکار کی نیت کو ظاہر کر دیا ہے وہیں شا ملی میں کل فروز کے منظم قتل نے تو مسلم مخالف سازش کی پول ہی کھول کر رکھ دی ہے ملک کے صوبہ جھا د کھنڈ ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور اتر پردیش میں ایک کے دیگر یعنی مسلسل قاتلانہ حملہ ہورہے ہیں، مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا کر انہیں زمیں دوز کیا جا رہا ہے ملک کی قیادت مسلم آبادی کی تبا ھی پر خاموش بیٹھی ہے، مسلم ووٹ سے منتخب ہوکر ایوان بالا میں آنیوالے افراد زبان بند کئے ہوئے بیٹھے ہیں، کل ملاکر آج مسلم آبادی بھاجپا کے طاقتور شدت پسند جابر ٹولہ کے ظلم و ستم کا شکار بن کر خون کے گھونٹ پی رہی ہے جبکہ یہ ملک سبھی مذہب کے ماننے والے افراد کا ہے۔ ہمارا دستورِ ہند سبھی کی جان و مال اور تحفظ کی گارنٹی دیتا ہے مگر اس کے بعد بھی مسلم طبقہ کے خلاف ظلم و جبر ایک گھنونی سازش کے سواۓ کچھ بھی نہیں۔ اب اس ظلم اور فرعونیت پر نکیل کسی جانی چاہئیے۔
سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ علیگڑھ کے بعد آج بلند شہر میں دکاندار سنت لعل اور ہندو شدت پسند افراد نے بلاوجہ تنظیم اور فیضان پر قاتلانہ حملہ کر دیا دونوں بھائیوں کو بری طرح سے مارپیٹ کرتے ہوئے زخمی کردیا گیا حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے ہندو شدت پسند حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ دونوں مسلم لڑکوں کے خلاف ہی فوجداری مقدمات قائم کر لئے ہیں عام رائے ہے کہ آج کانگریس کے لیڈران آج بھی دستور میں اقلیتی فرقوں کو حاصل بنیادی حقوق پر کھل کر سامنے آنے سے خوف زدہ رہتی ہے اس لئے ہی راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں پچھڑتی جارہی ہے جب تک آپ سچّائی سے منھ پھیر تے رہیں گے تب تک آپ پورے ملک کے عوام کے ساتھ سے محروم ہی رہیں گے۔ یاد رہے اقلیت کمزور ہے لاٹھی گولی سے بچنا چاہتی ہے مگر قطی طور سے بزدل نہیں ہے جو کچھ ظلم اور جبر ہورہاہے ہے اس سے سبھی بہ خوبی واقف ہیں۔ دس سالوں سے مسلم آبادی کی بھاجپا سرکار نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ فرضی مقدمات اور بلڈوزر کی مار سے مسلم آبادی سو سال بیچهے دھکیل دی گئی ہے۔ سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس تباھی سی آنکھیں پھیر لی ہیں!
آپ کو بتاتے چلیں کہ نماز یا اذان سے کسی بھی انسان کو آج تک کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا ہے، اگر نقصان پہنچا ہے تو تیز آواز سے جاگرن اور کيرتن میں بجنے والے اسپیکرس سے ہی عوامی زندگی کو نقصان پہنچا ہے۔ سرکار اذان کے بجائے جگہ جگہ تیز آواز سے ہونے والے بھجن کیرتن پر پابندی عائد کر ے، صرف اذان کی آوازوں سے ہی آج سرکار اور پولیس کو نفرت کیوں؟ سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے آج حالات حاضرہ پر اپنا ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مسجدوں پر قبضہ کرنے کی سازشیں آج کل عروج پر ہیں۔
سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ 2014 میں جس طرح سے مسلم افراد کے خلاف ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے اب تیسری مرتبہ مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسی طرح سے مارپیٹ اور مسلم افراد کے قتل کے شرمناک دہشت پھیلانے والے واقعات جگہ جگہ زور پکڑنے لگے ہیں جہاں علیگڑھ کے مقتول اورنگریب اور دس دیگر علاقہ کے رہنے والے مسلم افراد کے خلاف علیگڑھ پولیس نے فرضی لوٹ پا ٹ اور ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ پولیس اور سرکار قاتلوں کو بچانا چاہتی ہے علیگڑھ کی طرح پہلے مدھیہ پردیش ،پھر جھار کھنڈ اور اسکے بعد پھر لگتار چار جگہ اتر پردیش کے شاملی اور لند شہر میں معمولی کہا سنی پر درجن بھر شدت پسند ہندو افراد نے اعلانیہ طور پر دو مسلم افراد پر جان ليوا حملہ کر دونوں کو بری طرح سے زخمی کردیا ہے جبکہ شاملِی کے رہنے والے نوجوان فروز کو ہندو شدت پسند افراد نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا وہیں مظفر نگر کے علاقہ شاہ پور میں تین ہندو افراد نے گولی چلاکر محمد طالب کو بری طرح سے مجروح کر دیا جو اسپتال میں زیر علاج ہے سبھی سنگین نوعیت کے معاملات میں پولیس نے ہندو شدت پسند افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی صرفِ معمولی دفعات لگا تے ہوئے ایف آئی آر درج کرنیکا دکھا وا کر دیا، دوسری طرف مسلم افراد پر شکایت واپس لینے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، مقتول کے اہل خانہ پر دوہری مار پڑ رہی ہے۔
حیرت کی بات تو بہ ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے خلاف ہی مقدمہ درج کئے جا رہے ہیں، ملک بھر میں روز بہ روز اعلانیہ پولیس اور سرکار کی شہ پر ہندو شدت پسند تنظیم کے شرارتی عناصر مسلم افراد کے خلاف شرمناک اور مذہبی منافرت پھیلانے والی حرکتیں کر رہے ہیں اور گالیاں دے رہے ہیں، جمھوریت کی لمبی چوڑی باتیں کرنے والے قائدِ اور پورے ملک کے مہذب دانشمند تماشائی بنے ہیں، اب جواب دینا ھوگا کہ مسلم آبادی کے خلاف یہ ظلم و جبر کب تک یوں ہی چلتا رہیگا؟
