بیدر۔ 12؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): شہر کے امبیڈکر سرکل پرواقع ضلع انچارج وزیر کے دفترکاگھیراؤ کرتے ہوئے ایک عرضداشت پیش کی گئی حالانکہ وزیر کے دفترمیں درخواست کو قبول نہیں کیاگیا۔درخواست میں لکھاگیاتھاکہ تعلیمی شعبے کو تمام سہولیات فراہم کرنا حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، لیکن ریاستی حکومت کلاسز شروع ہونے کے بعد طلباء کو وقت پر بس پاس نہیں دے رہی ہے۔ استری شکتی یوجنا کی وجہ سے زیادہ خواتین بسوں میں سفر کر رہی ہیں، بسوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہونے سے طلباء کو روزانہ کی بنیاد پر اسکول اور کالج جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ غریب اور ہونہار طلبہ کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اسکالرشپ فراہم کرے، لیکن گزشتہ سال کی اسکالرشپ صحیح طریقے سے طلبہ کو نہیں دی گئی۔ اسکول اور کالجز کھلنے کے ایک ماہ بعد ہاسٹلز کے لیے درخواستیں شروع کردی گئی ہیں، طلبہ کوداخلہ نہیں مل رہاہے۔ داخلے کا عمل ختم ہونے سے قبل تین ماہ تک داخلے، طلبہ کی تعداد کے مطابق ہاسٹل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے تعلیمی شیڈول میں کافی تبدیلیوں سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس موقع پر اہم مطالبات کئے گئے جن میں
اہم مطالبات: ریاست میں طلباء کی تعداد کے مطابق ہاسٹل کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، اسکولوں اور کالجوں کے شروع ہونے کے بعد طلباء کو ہاسٹل کے انتخاب کے عمل میں تاخیر کئے بغیر داخلہ دیا جائے۔ طلباء کے ا سکول؍ کالج کے اوقات میں بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ طلباء کا وظیفہ جاری کیا جائے۔ ریاست کی تمام یونیورسٹیوں کے لیے یکساں تعلیمی شیڈول کو مناسب طریقے سے لاگو کیاجانا چاہیے۔ کرائے کی عمارتوں میں چلنے والے ہاسٹلز اور ہاسٹلز کی سہولیات کو ان کی اپنی ذاتی عمارت میں منتقل کیا جائے۔ SAP اور KHISP گرانٹس کے ذریعے SC اور ST طلباء کو بہت سی سہولیات فراہم کی
جاتی ہیں، حکومت کو گرانٹس اورا س کے استعمال کے بارے میں وضاحت کرنی چاہئے۔
اس موقع پر آنند نگراسسٹنٹ سکریٹری، پون کمبار، ناگراج سلطان پور، ابھیشیک شمبھو ممتاز جہدکار، اے بی وی پی تعلقہ کوآرڈینیٹر مہیش، ششی کانت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر، امبریش برادار، پدماکر کاویری مٹھ پتی، سیاست دان پرارتھنا ممتا اور دیگر طلبہ و کارکنان موجود تھے۔
اس بات کی اطلاع ایک پریس نوٹ کے ذریعہ اے بی وی پی نے دی ہے۔
