مجلس علماء اترپردیش کے قیام کے سلسلہ میں مشاورتی اجلاس کا انعقاد

لکھنؤ: اس ملک میں آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد بھی قوم و ملت کی ہرقدم پر علماء کرام نے رہنمائی کی ہے۔ ملت کی تعمیر و ترقی اور علمی معیار کو بلند کرنے میں بھی علماء کا اہم رول رہا ہے۔ گویا کہ جب جب معاشرہ انحطاط کی طرف بڑھتا ہے تو ہمارے علماء سامنے آکر اہم کردار نبھاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر ابو سحبان روح القدس ندوی، استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء نے کیا۔
’’ملت اسلامیہ ہند کے موجودہ حالات اور علماء کا مطلوبہ کردار‘‘ کے موضوع پر ہونے والے مشاورتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا ابو سحبان ندوی نے کہا کہ آج ایک بار پھر حالات علماء کرام سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم اپنے آپسی مسلکی اور علمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔
شہر نگاراں کے مختلف مدارس اسلامیہ کے فضلاء ، اداروں کے ذمہ داران، علماء کرام، مساجد کے خطیب حضرات کا ایک مشاورتی اجلاس مجلس علماء کے قیام کے سلسلہ میں منعقد ہوا۔ مجلس علماء کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے سابق ناظم جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ مولانا محمد طاہر مدنی نے کہا کہ ہمارے ملک کی جو صورتحال ہے، وہ سبھی لوگوں پر عیاں ہے۔ اس ملک میں ایک بڑی تعداد میں مسلمان رہتے اور بستے ہیں۔ تقریباً 25 کروڑ کی مسلم آبادی والا یہ ملک ہے، لیکن جب ہم ملت کے حالات کا ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملت کے اندر ایمان و عمل کی کمزوری ہے۔ جس دین سے ہماری وابستگی ہے اس سے علمی اور عملی طور سے ہمارا رشتہ انتہائی کمزور ہے، اس سے ہمارا تعلق محض روایتی، نسلی اور دکھاوٹی ہے۔ ملت اسلامیہ کو دین اسلام کا عکاس ہونا چاہیے۔ ہمارے اعمال اور اخلاق سے اسلام کی عکاسی ہونی چاہیے۔ ملت کا دینی، اخلاقی اور علمی معیار انتہائی کمزور ہے۔
مولانا محمد طاہر مدنی نے کہا کہ کسی امت کے ترقی کی بنیاد اس کے اخلاق پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر کوئی قوم اخلاقی لحاظ سے انحطاط کا شکار ہو جائے تو وہ اپنی حیثیت کھو دے گی۔ ملت اس شعور سے بھی خالی ہے کہ اس کو برپا کرنے کا اصل مقصد کیا ہے۔ امت کو اپنے مقصد حیات کا شعور نہیں ہے۔ ہماری جو ممتاز حیثیت ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ تعلیمی لحاظ سے بھی ہندوستان کا مسلمان انتہائی پیچھے ہے۔ مسلمانوں نے علم کے میدان میں صدیوں تک دنیا کی امامت کی ہے۔ جس قوم کے لیے حصول علم عبادت ہے، اس قوم کی تعلیمی حالت انتہائی ابتر ہے۔ہم معاشی لحاظ سے بھی انتہائی کمزور ہیں، فقر و فاقہ انسان کو گناہوں کی طرف مائل کرتا ہے۔
مولانا نے کہا کہ آج ہمارے درمیان اتحاد نہیں ہے، جزیات کی بنیاد پر ہم الگ الگ تقسیم ہیں۔ اگر ہمیں قوم و ملت کو ترقی کی جانب لے جانا ہے تو آپسی اختلافات سے اٹھ کر ملی مفاد کے لیے سوچنا ہوگا۔ ہمارے سماج میں علماء کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ علماء کے پاس مدارس و مکاتب ہیں، منبر و محراب ہیں، جن کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ہم معاشرہ کی اصلاح اور اس کی تعمیر و ترقی میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مجلس علماء کے قیام کی ضرورت اسی لیے محسوس کی جارہی ہے کہ علماء اپنی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ کردار کو ادا کر سکیں۔
معاشرہ میں جو اہم کام ہمارے کرنے کے ہیں ان میں تعلیم کا فروغ، اصلاح معاشرہ کی کوشش، ملت کو اسلام کی صحیح تصویر بنایا جائے، ملت میں اخوت، بھائی چارہ اور اتحاد کی فضاء ہموار کیا جائے، مکاتب کو مضبوط کریں، اسکولوں کی سرپرستی کریں، تعلیم کے ہر میدان میں اپنے نوجوانوں کو آگے بڑھائیں۔ معاشی استحکام کے لیے بھی کوشش ہونا چاہیے۔ سیاسی طور پر معاشرہ میں بیداری لانی چاہیے۔
اجلاس میں اختتامی کلمات کے طور پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ملک فیصل فلاحی نے کہا کہ یہاں پر مختلف علماء کرام کا مجلس علماء کے قیام کے سلسلہ میں جمع ہونا ایک خوش آئند تحریک کا آغاز ہے۔ وطن عزیز کے حالات ہم سب پر مخفی نہیں ہیں۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کے ان واقعات کا مطالعہ کریں جب ہمارے اسلاف کو قربانی کی ضرورت پڑی تو انہوں نے بلا دریغ ملک کی آزادی کے لیے اپنی قربانیاں پیش کیں۔ علماء کرام اس روئے زمین پر واحد ایسا گروہ ہے جو انسانیت کی بقا اور ان کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔
مشاورتی اجلاس کی نظامت مولانا محمد علی نعیم رازی نے کی۔ اجلاس سے مولانا عتیق الرحمان اصلاحی، مولانا منور سلطان ندوی، مولانا ذکی نور عظیم ندوی، مولانا مصطفیٰ مدنی، مولانا ڈاکٹر امجد سعید فلاحی، مولانا مسعود عالم ندوی، مولانا فخر الاسلام فلاحی، مولانا سید محمد عمیر حسینی ندوی، مولانا عطاء الرحمان ندوی نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں باہمی مشاورت سے ایک کمیٹی کا بنانے کا فیصلہ ہوا، اور ۱۵؍ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنا ئی گئی، جو مجلس علماء کے قیام کے سلسلہ میں باہمی مشاورت سے ایک نظم تشکیل دے گی۔

مذکورہ اطلاع (مولانا) محمد علی نعیم رازی کے ذریعہ جاری ایک پریس ریلیز میں دی گئی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے