مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی

صدر جمعیت علماء گورکھپور

 

اسلامی سال کا پہلا مہینہ بھی قربانی کا ہے اس میں امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کی شہادت سے اسلام کو قوت ملی ہے تو اس کا آخری مہینہ بھی قربانی کا ہے، اس میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اپنے لختِ جگر کی قربانی پیش کرکے خدا کو راضی اور خلیل اللہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ان دونوں واقعات سے ہم کو سبق ملتا ہے کہ ہماری پوری زندگی ہمارا پورا سال قربانی میں ہی گزرنی چاہیے، ایک دوسرے کے لئے کام آنا بھی قربانی ہے، تو آؤ ہم مل بیٹھ کر یہ عہد کریں کہ اس سسکتی، دم توڑتی انسانیت میں ایک نئی روح ڈالیں گے، آپس میں عدل وانصاف قایم کریں گے، دوسرے کے جان ومال اور عزت و آبرو کو احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے، دوسروں کے دکھ درد میں کام آئیں گے، شعائر اسلام کو زندہ کریں گے، اوامر کی پابندی اور نواہی سے اجتناب کریں گے اور ایک ایسا معاشرہ بنائیں گے جس میں انسانیت پھل پھول رہی ہو جہاں انسانیت کی کھیتی لہلہا رہی ہو، ہر طرف سکون کی زندگی ہو۔ اسی طرح کے ماحول شہدائے کربلا کو سچی خراج عقیدت ہوگی۔

آج ہم نے حسین کو یاد کیا مگر کس انداز سے؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا حسین کے نانا کو آج کے افعال پسند آئے ہونگے؟ آپ نے فرمایا کہ فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے, جس نے فاطمہ کو خفا کیا اس نے مجھے ناراض کیا، جو فاطمہ کو بری معلوم ہوتی ہے وہ مجھے بری معلوم ہوتی ہے، جو چیز فاطمہ کو دکھ دیتی ہے وہ مجھے دکھ ریتی ہے۔ اسی طرح حضرات حسنین بھی حضور کو بہت محبوب تھے، آپ فرماتے کہ یہ دونوں میری دنیا کے دو پھول ہیں، یہ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ ایک روز آپ صلّی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ کے یہاں تشریف فرما تھے حضرت حسین آپ کی چھاتی پر کھیل رہے تھے، آپ مسکرا رہے تھے پھر رونے لگے، جب حضرت حسین چلے گئے تو حضرت ام سلمہ نے پوچھا آپ ہنس رہے تھے پھر رونے لگے ماجرا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب حسین میرے سینہ پر کھیل رہے تھے تو میں مسکرا رہا تھا اچانک جبرئیل نے میرے ہاتھ میں مٹی دیکر فرمایا کہ حسین اسی مٹی میں شہید ہوگا تو میرے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

عزیز نوجوانو! یہ تھا کردار اہل بیت جس کے سبب اسلام پھلا پھولا، اس کی چمک دمک آج تک باقی ہے آئیے اس ماہ میں اپنے اہل وعیال، غرباء و مساکین کے لئے اپنے ہاتھوں کو کشادہ کرلیں، مدارس مساجد اور خانقاہوں کی حفاظت کی فکر کریں، ان کو خوب آباد کریں، محلہ محلہ تنظیم بنا کر ضرورت مندوں کی خبر گیری کریں۔ وما توفیقی الا باللہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے