ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی بارہ بنکی
آج کل معاشرے میں جس طرح بہن بیٹیاں حجاب کے ساتھ جلوس عزا دیگر محافل اور بازاروں میں شرکت فرماتی ہیں اسے دیکھ کر حجاب نسواں کا تصور تو ایک کنارے بلکہ حاشئے پر آ جاتا ہے اور بجائے آبروئے نسواں کے آبروئے مرداں کا سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ان خواتین کی زیبائش و آرائش دیکھ کر کسی مرد کے لئے اپنے ایمان کو بچا پانا ذیادہ مشکل نظر آنے لگتا ہے۔ بھیڑ بھاڑ میں ہاتھ پیر اور اجسام کا مس ہو جانا عام بات ہے۔ مسلم عورتوں میں حجاب سے ہی اس کی عصمت اور وقار کو سربلندی عطا ہوتی ہے، عورت کے لئے پردہ کرنا اُس کے ایمان کا حصہ سمجھا گیا ہے، ذاتِ نسواں کے لئے پردہ اِس لئے ضروری ہے کہ پردے کی دیوار اُس کی حیا کو قائم رکھتی ہے۔ یہ حیا اُس کے ایمان کا نِصف حصہ ہوتی ہے۔ اگر عورت میں حيا باقی نہ رہے تو اُس کا اور اُس کے ایمان کا محفوظ رہنا دشوار ہے۔ اُسے گمراہیاں گھیر لیتی ہیں اور وہ عورت فحش سماج کی جانب راغب ہو جاتی ہے جس سے آنے والی نسلیں صدیوں پیچھے ہو جاتی ہیں اور نئی نسل کے جوان گمراہیوں کا شکار ہوکر ممنوعہ راستوں کے راہی بن جاتے ہیں جس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لئے عورت کو ہمیشہ اپنے پردے کا خیال خود رکھنا پڑتا ہے کیوں کہ آپ کسی مرد کی طینت سے واقف نہیں ہیں، مردوں میں بھی ہر طرح کے افراد اِس سماج میں موجود ہیں۔ اسلامی معاشرے کے درمیان خواتین کو بیٹی، بہن یا ماں کے رُوپ میں جو درجہ ملا ہے وہ کہیں اور نہیں ہے مگر جب یہی خواتین تنگ اور چست کپڑے زیبِ تن کر کے جلوس میں یا پھر بھیڑ میں شامل ہوتی ہیں تو سارے نشیب و فراز عیاں ہونے لگتے ہیں، صِرف اتنا ہی نہیں ان کے حجاب بھی اتنے چست ہوتے ہیں کہ وہ حجاب میں رہ کر بھی بے حجاب لگتی ہیں صِرف منھ ڈھک لینا ہی پردہ نہیں ہے بلکہ آنکھوں کا کانوں کا اور آواز کا پردہ بھی ضروری ہے۔
میری نظر میں اِن بہن بیٹیوں سے زیادہ ان کے خانوادے کے مرد افراد لائقِ لعنت ہیں جو اِس بے غیرتی پر خاموشی اختیار کئے رہتے ہیں۔ اُن کی نظر میں وہ بھلے ہی ماڈرن ہوں لیکن اسلام کی نظر میں یا عام مسلمان کی نظر میں اِنہیں کوئی بھی اچھا نہیں سمجھ سکتا، ہاں وہ اپنی نظر میں ہیرو ہو سکتے ہیں لیکن عام مسلمان کیا سوچ رہا ہے یہ تو وہی بتا سکتا ہے جو سوچ رہا ہے۔ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تنگ اور چست کپڑوں سے پرہیز کیا کریں تاکہ جِسم کی نمائش سے بچا جا سکے۔ عورتوں کے لئے بھیڑ سے بچنا بھی اسی لیے ضروری ہے تاکہ نامحرم افراد کے جِسم سے مس ہونے کا خدشہ تک باقی نہ رہے ورنہ آنے والا وقت ہمارے آپ کے گھروں کی شادی بیاہ کے موقع پر چھپنے والے کارڈز تو دور کی بات ہے مجلس و ماتم اور محافِل میں چھپنے والے کارڈز پر وضاحت کے ساتھ رقم ہوگا کہ صنفِ نسواں کے لئے بے پردگی کا معقول انتظام بھی کیا گیا ہے۔ آپ حضرات سے دست بستہ گذارش ہے کہ فلاں فلاں محفل میں آنے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔
بہت معذرت کے ساتھ دین کو دین کی طرح سمجھیں صرف اسلامی تعلیمات کو ذہن میں رکھنے کے بجائے اسے عمل میں لانے اور اختیار کرنے کی ضرورت ہے، تبھی اسلام کی اچھی شبیہ ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں اور نئی نسل کی گمراہی کا سدباب کرتے ہوئے اچھے معاشرہ کی تشکیل میں نمایاں رول ادا کر سکتے ہیں۔
