انوار الحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
دارالعلوم دیوبند کے معاون مہتمم،جمعیت علماء ہند کے آٹھویں صدر،کل ہند تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے ناظم اعلیٰ،مجاہد آزادی حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے محبوب ترین داماد،امیر الہند رابع حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری صاحب مختصر علالت کے بعد،76/سال کی عمر میں 21/مئی 2021ء جمعہ کو بعد نمازِ جمعہ ،گروگرام کے میدان تال ہسپتال میں اپنی مدت زندگی پوری کرتے ہوئے اپنے حقیقی مالک کے پاس تشریف لے گئے: انا لله وانا إليه راجعون.
حضرت کی نمازِ جنازہ دو مرتبہ ادا کی گئی۔ ایک مرتبہ دہلی میں واقع جمعیت علماء ہند کے مرکزی دفتر کے احاطہ میں اور دوسری مرتبہ نو(9)بجے شب میں دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں۔ نمازِ جنازہ حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے پڑھائی اور پھر حضرت -علیہ الرحمہ- کے جسدِ خاکی کو قافلہ علم وادب کے آخری مسکن ‘مزار قاسمی ‘میں سپرد خاک کردیاگیا۔ اللہ تعالیٰ حضرت -علیہ الرحمہ- کی تربت کے چہار گوشوں کو روشن فرمائے اور سکون و راحت عطا فرمائے آمین۔
مولانا قاری عثمان منصور پوری دارالعلوم دیوبند کے چوٹی کے اساتذہ میں ایک تھے۔تدریس میں انہماک،علمی رسوخ،جرأت و شیر دلی کے ساتھ گمراہ فرقوں کا رد،ذکر اللہ کی کثرت ،خدا ترسی،حقوق کی ادائیگی،اصول پسندی،منصف مزاجی،پختہ عزمی اور افراد سازی حضرت -علیہ الرحمہ- کے منفرد اور خاص اوصاف میں سے ہیں۔
حضرت -علیہ الرحمہ -دارالعلوم /دیوبند میں مسلسل چالیس سال تک:یعنی 1982ء سے 2021ءتک کتب احادیث کا انتہائی مستعدی کے ساتھ درس دیا،اسی دوران دارالعلوم دیوبند کے انتظامی امور کو بھی بحیثیتِ نائب مہتمم 1997ء سے 2008ء تک اور بحیثیت معاون مہتمم اکتوبر 2020ء سے انتقال تک بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا۔یہ دونوں خدمات حضرت -علیہ الرحمہ -کے ایک کامیاب مدرس اور ماہر منتظم ہونے پر شاہکار دلیلیں ہیں۔
حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب سے مجھے 2018ء میں دورہ حدیث شریف کی ایک معروف کتاب ‘شرح معانی الآثار للإمام الطحاوي ‘پڑھنے کا موقع ملا ہے۔میرے دورہ حدیث شریف کے ساتھیوں میں مولانا محمد مستفیض الرحمن سپہی مشرقی چمپارن، مولانا محمد سعید الرحمن قاسمی سپہی مشرقی چمپارن،مولانا محمد شعیب قاسمی مغربی چمپارن کے نام شامل ہیں۔
2019ء میں دارالعلوم دیوبند میں یک سالہ صحافتی کورس کے دوران حضرت- علیہ الرحمہ- سے رد قادیانیت پر علمی محاضرات سے استفادہ کا سنہرا موقع ملا ہے۔ حضرت- علیہ الرحمہ -کا انداز درس القائی تھا۔ درمیانی آواز میں روانگی کے ساتھ بغیر کسی تصنع و تکلف کے نفس عبارت سمجھانے میں حضرت -علیہ الرحمہ -کو بڑی مہارت حاصل تھی۔حضرت -علیہ الرحمہ- کی آواز میں شیرینی اور بڑی چاشنی تھی ،یہی وجہ تھی حضرت کا درس طلباء کے ذہن و دماغ میں حرف بہ حرف سیٹ ہوجایا کرتاتھا۔حضرت -علیہ الرحمہ- دوران درس غیر ضروری باتیں بالکل نہیں کرتے تھے اور درس گاہ حضرت بر وقت پہنچتے تھے۔
حضرت مولانا قاری عثمان منصور پوری صاحب کی وہ چند بڑی خصوصیات،کہ جن کے تذکرہ کے بغیر حضرت پر لکھی گئی ہر سوانحی تحریر ناقص قرار پائے گی،انھیں یکے بعد دیگرے نوشت کی سعی کرتاہوں۔
پہلی خصوصیت: خاموش مزاجی تھی: حضرت -علیہ الرحمہ- ضرورت پر اور ضرورت کے مطابق ہی لب کشائی کرتے تھے اور ضرورت سے زیادہ ایک حرف بھی نہیں بولتے تھے۔
دوسری خصوصیت: طلباء کی تعلیم و تربیت پر گہری نظر تھی: حضرت -علیہ الرحمہ -طلباء کی تعلیم و تربیت پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔حضرت کو طلباء کے سبق میں غیر حاضری سے بڑی تکلیف ہوتی تھی،جس تکلیف کا اظہار حضرت حاضری کے ذریعہ عموماً کرتے رہتے تھے۔دورہ حدیث شریف کے طلباء کی حاضری اکثر حضرت ہی لیا کرتے تھے۔حضرت کو یہ بات بالکل ناپسند تھی کہ کوئی انسان اور خاص کر طالب علم اپنے اوقات کو غیر ضروری اور لایعنی کاموں میں صرف کرے۔حضرت کی خواہش یہی ہوتی تھی کہ ہر طالبِ علم اپنی پوری توجہ تعلیم پر رکھے اور تعلیم کو متاثر کرنے والے کاموں سے اپنے آپ دور رکھے۔
حضرت -علیہ الرحمہ- کے دونوں صاحب زادے:(1) حضرت مولانا مفتی سلمان منصور پوری (2) حضرت مولانا مفتی عفان منصور پوری،حضرت- علیہ الرحمہ- کے مثالی مربی ہونے کی ایک صریح دلیل ہے۔
تیسری خصوصیت:انتظامی امور میں مہارت تھی: حضرت- علیہ الرحمہ- کو جو بھی ذمے داری ملتی ،اسے بڑی تندہی اور شوق و لگن کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے،اسی نمایاں خوبی کو دیکھتے ہوئے دارالعلوم/ دیوبند کے اصحابِ اختیار نے حضرت کو دارالعلوم /دیوبند کا نائب مہتمم،معاون مہتمم اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم /دیوبند کا ناظم مقرر کیا اور الحمد للّٰہ حضرت نے دارالعلوم/ دیوبند کی تمام ذمے داریوں کو انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا۔
چوتھی خصوصیت:جرأت و بہادری تھی: حضرت -علیہ الرحمہ- ایک جری اور نڈر انسان تھے۔حق بات بولنے کے لیے حکومت تک سے بھی نہیں ڈرتے تھے اور حکومت کے غلط رویے کو غلط قرار دینے میں زرا بھی نہیں جھجھکتے تھے اور جب بھی کبھی مسلم مخالف کوئی قانون آتا،تو حضرت اس قانون کی سخت مذمت کرتے اور مذمت و تنقید سے اگر قانون واپس نہیں لیاجاتا،تو پھر حضرت بڑی بے باکی کے ساتھ حکومت پر دباؤ دیتے تھے۔
پانچویں صفت: اصول پسندی تھی: حضرت -علیہ الرحمہ- اصول کے بڑے پابند تھے،ہر کام میں اصول اور ضابطہ ہی مد نظر رکھتے تھے۔ اور ضابطہ کے خلاف کوئی چھوٹا سا کام بھی نہیں کرتے تھے۔
حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری کی ولادت 21/اگست 1944ء کو ضلع مظفر نگر کے منصور پور میں ہوئی۔آپ کے والد گرامی کا نام نواب سید محمد عیسیٰ تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی اور انتہائی تعلیم،ایشیا کے منتہی ادارے: دارالعلوم/ دیوبند سے حاصل کی۔ آپ کی فراغت 1966ء میں ہوئی۔واضح رہے کہ دورہ حدیث شریف میں آپ اول نمبر سے کامیاب ہوئے تھے۔گویا آپ اپنے ساتھیوں میں سبھوں سے ممتاز تھے۔
فراغت کے بعد حضرت -علیہ الرحمہ -نے دارالعلوم دیوبند ہی میں عربی زبان وادب میں تخصص کیا۔ اور پھر متصلاً ہی آپ نے تدریسی سلسلہ کا آغاز کردیا؛چناں چہ آپ نے سب سے پہلے مدرسہ اسلامیہ قاسمیہ گیا بہار میں مسلسل پانچ سال تک تدریسی خدمات انجام دیا،پھرآپ مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ منتقل ہوگئے۔ یہاں آپ نے تدریس کے ساتھ انتظامی خدمت بھی انجام دیا۔اس ادارے کی ترقی میں آپ کی محنت کا بڑا دخل ہے۔1982 میں آپ بحیثیت مدرس دارالعلوم/ دیوبند بلائے گئے۔دارالعلوم/ دیوبند میں آپ نے احادیث کی بڑی بڑی کتابیں پڑھائی ہیں،جن میں سر فہرست: شرح معانی الآثار للامام الطحاوی، مؤطا امام مالک ،مؤطا امام محمد ،مشکوة المصابیح شامل ہیں۔1997ء میں آپ دارالعلوم/ دیوبند کے نائب مہتمم بنائے گئے اور اس منصب پر آپ 2008ء تک رہے۔اکتوبر 2020ء میں آپ دارالعلوم /دیوبند کے معاون مہتمم منتخب کیے گئے،اسی عہدہ پر رہتے آپ 21/مئی 2021ء کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ 2008ء میں جمعیت علماء ہند کی سرکردہ شخصیات نے آپ میں سیاسی سوجھ بوجھ کو دیکھتے ہوئے جمعیت علماء ہند کا صدر منتخب کرلیا،چناں چہ آپ جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے بھی زریں اور روشن خدمات انجام دی ہیں،صدر بننے کے بعد تاحیات آپ ہی صدر رہے ہیں۔ قادیانیت کے کامل تعاقب اور بیخ کنی کے لیے 1986ء میں دارالعلوم دیوبند میں ‘کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت’کے نام سے ایک شعبہ قائم کیا گیا،جس کے ناظم حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصوری صاحب نامزد کیے گئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے آپ کا انتقال ہوا ہے۔ حضرت -علیہ الرحمہ- نے اس شعبہ کے ذریعہ قادیانیت و شکیلیت کا خوب جم کر تعاقب کیاہے؛چناں چہ جب کبھی آپ کو یہ خبر موصول ہوتی کہ فلاں جگہ قادیانیت اور فلاں جگہ شکیلیت جڑ پکڑ رہی ہے،تو آپ فوراً اس کے استیصال کے لیے کمر باندھ کر میدان عمل میں کود پڑتے۔
21/مئی 2021ء جمعہ کو بعد نمازِ جمعہ آپ کا انتقال ہوا ہے۔ آپ کے انتقال سے علمی حلقوں میں ماتم چھاگیاتھا۔ آپ کے انتقال پر جمعیت علماء ہند کے حال صدر مولانا محمود مدنی ،دارالعلوم/ دیوبند کے صدر المدرسین اور امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی،دارالعلوم/ دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب اور بحر العلوم حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی سمیت دیگر اساطین علم وفضل نے گہرے رنج کے اظہار کے ساتھ،تعزیت مسنونہ بھی پیش کیا۔
پس ماندگان میں اہلیہ عمرانہ خاتون اور ایک صاحب زادی سمیت دو باکمال فرزند ہیں:ایک کا نام مفتی محمد سلمان منصور پوری ہے،جو ان دنوں دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث ہیں اور دوسرے کا نام مفتی محمد عفان منصوری ہے،جو مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ کے استاذ حدیث اور صدر المدرسین ہیں۔
اللہ حضرت -علیہ الرحمہ -کی مغفرت فرمائے اور پسمان دگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔
