شہادت شیخ اسماعیل ہانیہ اور حقائق کے پردے کے پیچھے کی باتیں!

اظفر منصور
7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی دہشت گردانہ و انسانیت سوز جنگ اپنے اندر نہ جانے کتنے انسانی نفوس کو ہضم کر چکی ہے، اس کے باوجود بھی نہ ان کے دل سرد پڑے ہیں اور نہ ہی امن و آشتی کا دف بجانے والے ممالک ہی اپنی خوشی توڑنے کی جرأت کر پا رہے ہیں، فلسطین و غزوہ کے علاوہ پوری دنیا شہر خموشاں کا منظر پیش کر رہی ہے، ہزاروں لاکھوں جانیں یہ دہشت گرد اسرائیل تلف کر چکا ہے، اور خون ایمانی سے مسلسل اپنے ہاتھ رنگین کرتا ہی جا رہا ہے، پھر بھی مسجد اقصیٰ و ریاست فلسطین کی بازیابی کے لیے تحریک حماس پیہم جد و جہد میں لگی ہوئی ہے، شہادتوں کی لمبی فہرست ہے، جس میں بچے بھی ہیں، جوان بھی، بوڑھے بھی ہیں اور کچھ نیم جان بھی۔ لڑکیاں، خواتین بھی ہیں اور بوڑھی مائیں بھی، کچھ تو اپنے پورے خاندان کے ساتھ اس عظیم فہرست کا حصہ ہیں، اسی زندہ و پائندہ فہرست میں آج بتاریخ 31 جولائی 24 محرم الحرام میں ایک ایسا نام بھی شامل ہو گیا ہے جس کے 70 سے زائد اہل خانہ پہلے ہی اس عظیم سلسلہ کی کڑی بن چکے ہیں۔ عقل اس بات کو اب بھی تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ حریت اقصیٰ و فلسطین کا سب سے بڑا داعی، حماس کا روح رواں، امت مسلمہ کا حقیقی قائد و رہنما شیخ اسماعیل ہانیہ بھی اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے، ابھی دو ڈھائی مہینے قبل ہی تو اس صبر و استقلال کے پیکر جانباز نے عین عید کے دن اپنی فیملی کو الوداع کہا تھا، کہ ظالموں نے اب انہیں بھی پری پلان ایران کے شہر تہران میں شہید کر دیا۔
وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جسکی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
ایران جو کہ اپنے وزیر اعظم کی تقریب ِ حلف برداری میں شیخ اسماعیل کا میزبان تھا، اس سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ دہشت گردوں اور ظالموں سے اس کی حفاظت کر پاتا، کیا ایسے موقع پر ہم نہ کہیں کہ ایران نے بلکہ اخلاف ِیزید نے اپنی تاریخ دہرائی ہے، جس طرح حضرات حسنین کو کوفہ بلا کر کرب و بلا کو جمع کر دیا تھا اسی طرح آج یزید کے جانشینوں نے امت مسلمہ کے اس عظیم قائد کو اپنے ہی گھر بلا کر موت کا جام پلا دیا۔ معرکہ طوفان اقصیٰ کے مصنف حمزہ اجمل جونپوری نے کیا خوب لکھا ہے کہ: ”جس کو اردن میں شہید نہیں کر پائے، ترکی میں بھی جو شخص محفوظ رہا، قطر میں امریکی اڈوں کے درمیان وہ شان سے جیتا رہا، لیکن جب ایران پہنچا تو حسینت کے دعوے دار غدار کی شکل میں باہر آئے اور ایک اصلی حسینی کو دھوکہ دے کر شہید کر دیا“۔
مجاہدین کا خیمہ جلایا ، مار دیا
خباثتوں کا وطیرہ دکھایا، مار دیا
ہزار سال کے ماتم سے بھی نہ بدلا مزاج
وہی روش ہے کہ گھر پر بلایا ، مار دیا
حقیقت ِواقعہ جو کچھ بھی ہو مگر یہی جرم کم نہیں ہے کہ ہمارے اپنے ہی نے امت کی امانت میں خیانت کی ہے، کیونکہ ایرانی وزیر خارجہ نے جس ڈھٹائی سے بیان دیا ہے وہ ان کے کالے کرتوتوں کی وضاحت کے لیے بہت کافی ہے، بیان میں اس نے کہا کہ: ”اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت کے بعد فلسطین اور ایران کا رابطہ اور مضبوط ہوگا“۔ قصاص عثمان ؓ کے لیے حضرت علیؓ کے خلاف سیف زنی کرنے والی جماعت کے موجودہ جانشین گروہ پر تو واجب تھا کہ وہ قصاص اسماعیل کا ارتعاش آمیز اعلان کرتے مگر یہاں تو تعلقات اور سیاست کی ہی دیوار کو مضبوطی دینے کی بات کی جانے لگی۔ علامہ اقبال سے ہلکی سی معذرت کے ساتھ
یوں دادِ سخن مجھ کو دیتے ہیں ہنود جہاں
یہ کافرِ ایرانی ہے بے تیغ و سناں خُوںریز
شیخ اسماعیل کی شہادت کا اثر موجودہ جنگ پر کیا پڑتا ہے یہ دیکھنے والا مرحلہ ہوگا، مگر اتنا تو کنفرم ہے کہ یہ شہادت متوقع آزادی کی سب سے بڑی علامت ہے، کیونکہ آزادی قربانی مانگتی ہے، تبھی تو سبھاس چندر بوس نے کہا تھا کہ ”تم ہمیں خون دو ہم تمہیں آزادی دیں گے“۔ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے سالوں سے اہل غزوہ و فلسطین اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، اب ضرورت پڑی تو خود قائد نے بھی اپنی جان کا تحفہ دشمنوں کو پیش کر دیا، اور پورے عالم کو یہ بتا دیا کہ
یہ خون شہیداں کا سفر ہے، رائیگاں نہ جائے گا
