بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری): قصبہ چوکھنڈی کی ادبی تنظیم "بزمِ مدنیؒ” کے زیرِ اہتمام سالانہ طرحی مسالمہ بعنوان "یادِ امامِ حسینؓ” منعقد کیا گیا جسکی صدارت قصبہ کے استاد شاعر ماٸل چوکھنڈوی نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے مایہ ناز شاعر ذکی طارق بارہ بنکوی نے شرکت کی مسالمہ کی نظامت کے فرائض راشد رفیق چوکھنڈوی نے بصد حسن و خوبی انجام فرمائے مسالمے کا آغاز وکیل چوکھنڈوی کی نعت پاک سے ہوا اس کے بعد دئے گئے مصرع طرح "پیکرِ صبر و رضا کا نام ہی شبیر ہے” پر باقائدہ طور پر طرحی مسالمے کا آغاز ہوا بہت زیادہ پسندیدہ اشعار کا انتخاب نذرِ قارٸین ہیں ملاحظہ فرمائیں:
سر پہ ابنِ مرتضٰی کے سایہء شمشیر ہے
پھر بھی انکے لب پہ شکرِ کاتبِ تقدیر ہے
       ذکی طارق بارہ بنکوی
لےگئی ہے خلد میں دوزخ سے انکو کھینچ کر
دیکھئے پائی جنابِ حُر نے کیا تقدیر ہے
       ماٸل چوکھنڈوی
پیکرِِ صبر و رضا نے خوں سے جو روشن کیا
اُس چراغِ عشق کی ہی ہر طرف تنویر ہے
       ظہیر رامپوری
کس قدر سینہ سپر ہیں ظلم کے آگے حسین
یہ علی شیرِخدا کے خون کی تاثیر ہے
       وکیل چوکھنڈوی
بند پانی کردیا تونے نبی کی آل پر
کیسا ہے کردار تیرا کتنا تو بےپیر ہے
       سلیم ہمدم رودولوی
عابدِ بیمار کی مظلومیت ہے اسقدر
رو رہے ہیں آبلے اور رو رہی زنجیر ہے
       راشد رفیق چوکھنڈوی
سبطِ پیغمبر سے دوعالم میں یہ تنویر ہے
گفتگو شبیر کی قرآن کی تفسیر ہے
       دلکش چوکھنڈوی
عاشقانِ مصطفیٰ کے دل میں جو تصویر ہے
وہ نبی کا ہے نواسہ حضرت شبیر ہے
       نعیم سکندرپوری
بھیجتا ہے حق تعالٰی ان شہیدوں پر سلام
جن کی جانوں نے بچائی دین کی توقیر ہے
        چٹک چوکھنڈوی
نام روشن ہے جہاں میں آج جو اسلام کا
یہ شہیدِ کربلا کے خون کی تاثیر ہے
            ابوذر انصاری
کربلا کی سر زمیں سے اب بھی آتی ہے صدا
پیکرِ صبر ورضا کا نام ہی شبیر ہے
       حسن چوکھنڈوی
ان شعراء کے علاوہ نازش بارہ بنکوی، سحر ایوبی، ابو ہریرہ احمد اور مشتاق بزمی نے وغیرہ نے بھی بارگاہِ حسینی میں اپنا اپنا طرحی کلام بطور نذرانہء عقیدت پیش کیا، بزمِ مدنیؒ کی آئندہ طرحی نشست مندرجہ ذیل مصرع طرع
"کہاں بٹھاؤ گے اُس کو اگر وہ آجاۓ”
پر 28/اگست بروز بدھ بعد نماز عشاء ہوگی بزم کے جنرل سیکریٹری راشد رفیق نے سبھی سامعین و شعراء کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے