مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد
سمریاواں، سنت کبیر نگر (محمد رضوان ندوی): قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی گزارنے والے لوگ تمام مخلوقات میں سب سے بہتر ہیں اور جو حصول علم و معرفت کے لئے اپنے گھر، رشتہ دار، دوست یار، والدین، بھائی، بہن اور اعزہ و اقرباء سب کو چھوڑ کر راہ خدا میں مشقت برداشت کرتے ہیں، حالات سے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو تیار و بیدار کرتے ہیں وہ تو بہت خاص ہیں، اخص الخواص ہیں، ان کی کوشش اور ان کا روز و شب کا مجاہدہ بے حساب اجر و ثواب کا سامان اور ذخیرہ آخرت ہے، ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی اور سماجی کارکن مولانا مجیب الرحمن قاسمی نے مدرسۃ تعلیم القرآن سمریاواں شاخ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں منعقد تقریب تقسیم انعامات کو خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ مدرسہ میں رہ کر طلبہ اپنا وقت ضائع نہ کریں ،
وقت کا صحیح استعمال کریں۔ اللہ نے آپ کو خدمت دین کیلئے منتخب کیا اور آپ کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دیا، آپ قرآن وحدیث سے وابستہ لوگ ہیں اورآپ کی ذمہ داری دوگنی ہے۔ آپ بہترین اخلاق کا خوبصورت نمونہ بن کر کے علاقہ اور ملک میں اپنی افادیت ثابت کریں،
مہتمم مدرسہ مولانا منیر احمد ندوی نے کہا کہ حصول علم کے لئے محنت اور قدردانی دونوں لازم و ملزوم ہیں، کامیابی کے لئے بلا شبہ محنت شرط اولین ہے۔ طلبہ نے اگر دوران تعلیم انعام حاصل کرکے یہ خوش گمانی پال لی کہ ہم با کمال اور ہنر مند ہو گئے تو اسی دن ان کی ترقی رک جائے گی اس لئے ہر وقت محنت کی ضرورت ہے اور جو طلبہ انعام کے مستحق نہیں ہوئے ہیں ان کو احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا ہے ،
سینئر صحافی ماسٹر ظفیر علی کرخی نے کہا کہ طلبہ کسی ایک فن میں خوب محنت کریں ،خوشی کی بات ہے کہ یہاں کے متعدد طلبہ جنہوں نے محنت کی اور اساتذہ سے جڑے رہے پورے ہندوستان اور ہندوستان کے باہر کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور مدرسہ اور اساتذہ کی نیک نامی کا ذریعہ بنے، اس لئے محنت اور لگن سے تعلیمی میدان میں لگے رہنا ہے کیونکہ محنت اور کوشش کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے،
صدر مدرس مولانا غفران احمد ندوی نے کہا کہ طلبہ اسلاف کے واقعات پڑھیں اپنے اسلاف سے وابستہ رہنے سے علم وعمل میں برکت ہوتی ہے،پہلے طلبہ کئی کئی سال تعلیم حاصل کرنے کیلئے ایک ہی استاذ کے آستانہ پر پڑے رہتے تھے، دو چار حدیثوں کیلئے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتے تھے ، ذرا ذرا سی چیز کے لئے مہینوں سفر کی مشقت برداشت کرتے تھے تو جب کوئی چیز ملتی تھی تو شکر گزار ہوتے تھے۔ اور اب ہر چیز آسانی کے ساتھ میسر ہے پھر بھی ناقدری ہے ،اللہ نے بہتر موقع دیا تھا اس موقع سے خوب فائدہ اٹھائیں
آخر میں سہ ماہی امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو ممبرانِ مدرسہ کے ہاتھوں قیمتی انعامات سے نوازا گیا،
عربی وفارسی درجات میں فہیم الدین، ابرار احمد، عبد الرحمن، محمد ذیشان ، محمد مکرم، محمد عاصم نے پہلی پوزیشن حاصل کی،
شعبہ حفظ کے پانچوں درجات میں فیاض احمد ،محمد اویس، امیر معاویہ، محمد انس، محمد حامد، اسید احمد، محمد معاذ بن کلیم اللہ نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے اپنے آپ کو انعامات کا مستحق بنایا، طلبہ انعام پاکر کافی خوش نظر آرہے تھے،
اس موقع پر حمید الدین چودھری ،حاجی انوار عالم چودھری ،حاجی کرم حسین ،مولانا محمد اسلم قاسمی ،حاجی سمیع اللہ ،مولانا عُزیر احمد ،حاجی مسعود احمد مفتی محمد عاصم ندوی ،مولانا ذکی احمد ندوی ،مولانا انیس الرحمن ندوی سمیت مدرسہ کے تمام اساتذہ خاص طور پر موجود رہے.
