دینی مدارس اسلامی قلعے ہیں لہذا ہر مسلمان کو اسکی حفاظت کرنی چاہیے: مقیم الدین مدنی
بڑھنی(سدھارتھ نگر): حلقہ بڑھنی میں آج مورخہ ۵ صفر المظفر ۱۴۴۶ ہجری بمطابق ۱۱ اگست ۲۰۲۴ بروز اتوار جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی کے امیر جمعیت فضیلۃ الشیخ مولانا خورشید احمد سلفی حفظہ اللہ و ناظم جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی مفکر اسلام فضیلۃ الشیخ الحاج مولانا مقیم الدین مدنی حفظہ اللہ کی سرپرستی میں مدارس اسلامیہ کے بقاء و تحفظ و دیگر پیچیدہ مسائل کے متعلق حلقہ بڑھنی کے علاقہ جات کے نظماء و ذمہ داران کے ساتھ ایک اہم ہنگامی میٹنگ کا قبا پبلک اسکول تلسیاپور چوراہا کی مسجد میں انعقاد کیا گیا، جس کی سرپرستی مفکر اسلام فضیلۃ الشیخ الحاج مولانا مقیم الدین مدنی حفظہ اللہ نے صدارت فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالجبار فیضی حفظہ اللہ نے و نظامت مبلغ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات تلسیاپور چوراہا سید عرفان الحق ہاشمی (Hashmi King) نے کی۔
شرکت کرنے والے اکثر شرکاء نے قابل عمل تأثرات پیش کئے جن میں سے چند تأثر کنندگان کے اسماء گرامی حاضر خدمت ہیں فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالحفیظ سلفی حفظہ اللہ موضع اکرہرہ، فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالمبین سلفی حفظہ اللہ مینیجر ڈاکٹر ذاکر حسین نگر پبلک اسکول بھرولی، فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالرسول سلفی حفظہ اللہ موضع ملگہیا، فضیلۃ الشیخ مولانا ابوالکلام سلفی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ مولانا یعقوب سنابلی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ مولانا جمیل فیضی حفظہ اللہ، جناب ماسٹر محبوب عالم صاحب موضع دودھونیاں، جناب ماسٹر آفتاب عالم صاحب موضع مجہنا۔
اس ہنگامی میٹنگ میں علاقہ دیار کے آئے ہوئے مدارس اسلامیہ کے نظماء و ذمہداران کے ساتھ صبح ۱۰ بجے سے ۱۲ بجکر ۱۳ منٹ تک چلی، ہاشمی کنگ کے دعائیہ اشعار کے بعد بانی الجامعہ و ناظم جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی فضیلۃ الشیخ مولانا مقیم الدین مدنی حفظہ اللہ نے میٹنگ کے اختتام کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ ہندوستان میں منظم اسلامی جماعتوں و تنظیموں میں سے ایک منظم و منصوبہ بند و فعال تنظیم جماعت اہل حدیث بھی ہے جس کے اہلکار و ذمہ داران مرکزی، صوبائی، ضلعی و علاقائی پیمانے پر منتخب و مقرر ہیں۔ اسی منظم جماعت کی ایک ٹکڑی صوبہ اترپردیش مشرق کے بستی کمشنری کے ضلع سدھارتھ نگر میں ایک حلقہ بڑھنی میں بھی ہے جس کی قیادت و رہبری مفکر اسلام فضیلۃ الشیخ الحاج مولانا مقیم الدین مدنی حفظہ اللہ کے ہاتھوں میں ہے اور وہ جمعیت و جماعت کے کام کو اپنا کام سمجھ کر کرتے ہیں، بعض مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ مولانا شیخ مدنی نے جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی کے عمومی کام کے لئے اپنا دنیاوی ذاتی و خصوصی کام بھی ترک کر دیئے ہیں اور ان کے رفقاء جو جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی کے دیگر بڑے چھوٹے مناصب پر فائز ہیں، ان کا بھی جمعیت کے تئیں یہی حال ہے کہ اپنا کام چھوٹ جائے منظور ہے مگر کسی صورت جمعیت کا کام نہیں چھوٹنا چاہئے اور اگر میں یہ بات تحریر کر دوں کہ ضلع سدھارتھ نگر کے دیگر حلقہ جات کی جمعیتوں میں سب سے فعال و متحرک جمعیت بڑھنی حلقہ کی ہے تو اس میں مبالغہ بالکل نہیں ہوگا۔
حال ہی میں حکومتِ اترپردیش کے مدارس پر چند عارضی حیلہ حوالی کو وضع کرکے قدغن لگانے کی منشاء کو دیکھتے ہوئے شیخ نے ۱۰ تجاویز کو ترتیب دے کر حلقہ بڑھنی کے تمام مدارس کے ذمہ داران کو دعوت نامہ بھیج کر ایک ہنگامی میٹنگ بلائی جس کی ابتداء جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات تلسیاپور چوراہا ضلع سدھارتھ نگر کی ایک متعلمہ عزیزہ راشدہ خاتون سلمہا کی تلاوت سے ہوئی۔
ناظم جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی نے جن ۱۰ تجاویز پر ہنگامی میٹنگ کی وہ مندرجہ ذیل ہیں :
(۱) سب سے پہلے جن مدارس کا رجسٹریشن نہیں ہے ان کے ذمہ داران فوری طور پر اپنے مدرسے کا رجسٹریشن کرو الیں (۲) آمدنی و اخراجات کا حساب نیز رجسٹر داخل خارج درست کرلیں (۳) جو مدارس سرکاری ریکوائر کے حساب سے پورے ہیں (جیسے کمروں کی تعداد کھیل کا میدان وغیرہ) ان کے ذمہ داران منظوری کے لئے اپلائی کردیں (۴) جو مدارس سرکاری ریکوائر کے حساب سے پورے نہیں ہیں ان مدارس میں بھی حسب سابق تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں (۵) اگر کوئی سرکاری حاکم (ادھیکاری) آکر دھمکاتا ہے تو اس سے تحریری نوٹس کا مطالبہ کریں اور اس سے کہیں کہ جب تک آپ تحریری نوٹس نہیں دینگے تب تک ہم اپنے مدرسہ کو بند نہیں کرینگے (۶) اگر کسی مدرسہ کے نام کوئی تحریری نوٹس آئی ہو یا آئے تو فوری طور پر اس کی کاپی جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی کے ذمہ داران تک پہونچائیں تاکہ اس کو لے کر ہم کورٹ کا رُخ کرسکیں (۷) اگر خدا نخواستہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ اب مدارس کو بند ہی کرنا پڑے گا تو اپنے مدرسے کے بچوں کو سرکاری اسکولوں کے بجائے قریبی منظور شدہ مدرسے میں داخلہ دلوائیں (۸) اگر بوجہ مجبوری بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کرانا پڑجائے تو صبح و شام ان کے دینی و اسلامی تعلیم کا انتظام کیا جائے (۹) مساجد کے ذمہ داران بھی مساجد کا رجسٹریشن (اگر نہیں ہے) تو کروالیں (۱۰) ایک وہاٹس اپ گروپ بناکر تمام مدارس و مساجد کے ذمہ داران ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی مدرسے اور مسجد کے ساتھ پیش آنے والے مسائل اور مشکلات کا حل فوری طور پر تلاش کیا جاسکے۔
مندرجہ بالا مسائل کو لے کر ہنگامی میٹنگ کی گئی جس میں حلقہ بڑھنی کے جملہ مدارس کے اساتذہ و ذمہ داران نے بڑے ہی خوش مزاجی سے شرکت کیا اور چند اساتذہ و ذمہ داران کو چھوڑ کر باقی سب نے اپنے قیمتی تجاویز و مشورے پیش کئے۔ جمعیۃ التوحید التعلیمیہ والخیریۃ کے تحت کئی رفاہی ادارے چل رہے ہیں جس میں سے جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات تلسیاپور چوراہا و قبا پبلک اسکول تلسیاپور چوراہا بھی ہیں اور اسی ادارہ کے مسجد میں جمعیت اہلحدیث حلقہ بڑھنی کا یہ عظیم الشان و تاریخ ساز پروگرام منعقد کیا گیا جس میں فضیلۃ الشیخ مولانا جمیل احمد فیضی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ مولانا محمد معروف سراجی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ مولانا محمد سراجی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ مولانا مجیب الرحمٰن عالیاوی حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ مولانا اکبر سراجی حفظہ اللہ کے ساتھ علاقہ و دیار کے بیشمار معزز شخصیات نے شرکت کی۔
