بارہ بنکی،(ابوشحمہ انصاری): سعادت گنج کی سرگرم و فعال ادبی تنظیم "بزمِ ایوانِ غزل” کے زیرِ اہتمام عظیم الشان سالانہ طرحی مسالمہ کہنہ مشق استاد شاعر عاصی چوکھنڈوی کی صدارت میں آئیڈیل انٹر کالج کے وسیع ہال میں منعقد ہوا جس میں بطور مہمانانِ خصوصی اثر سیدنپوری اور ظہیر رامپوری نے شرکت کی مسالمہ کی نظامت کے فرائض معروف شاعر اسلم سیدنپوری نے بحسن و خوبی انجام فرمائے مسالمے کا آغاز عالمی شہرت یافتہ شاعر علی بارہ بنکوی کی نعت پاک سے ہوا اس کے بعد دیئے گئے مصرع طرح:  "نبی کا دین ہے روشن چراغِ حیدر سے”
پر باقائدہ طور پر طرحی مسالمے کا آغاز ہوا۔ مسالمہ بہت ہی زیادہ کامیاب رہا، پسندیدہ اشعار کا انتخاب نذرِ قارٸین ہے، ملاحظہ فرمائیں:
جنابِ حر کی نگاہیں بھی کام کرنے لگیں
اک آفتاب چمکنے لگا جو اندر سے
        عاصی چوکھنڈوی
تو ان لبوں پہ چھڑی مارتا ہے ابنِ زیاد
نبی نے چوما تھا جن کو لبِ معطر سے
       ذکی طارق بارہ بنکوی
یہ کون سویا ہے دیکھو زمینِ کربل پر
کہ بوئے مصطفٰے آتی ہے جسمِ اطہر سے
       ماٸل چوکھنڈوی
حدیث میں یہ لکھا ہے کہ حوضِ کوثر تک
جدا نہ ہوگی خدا کی کتاب حیدر سے
       اثر سیدنپوری
ضمیر و ظرف کے سودے میں خم نہ کرنا سر
ظہیر ہم نے یہ سیکھا ہے ابنِ حیدر سے
       ظہیر رامپوری
حسین پاک کے شیدائی جتنے ہیں اسلم
وہ ہونگے حشر میں سیراب آبِ کوثر سے
        اسلم سیدنپوری
وہ جسم الاماں ہیں خاک و خوں سے آلودہ
اجالا  اگتا تھا جن کے رخِ منور سے
       مشتاق بزمی
"علی” نکل پڑیں چیخیں زبان سے اس کی
یزید ایسا ڈرا تھا کٹے ہوئے سر سے
       علی بارہ بنکوی
اسے نہ چھوڑیں گے ہاتھوں سے ہم قیامت تک
ملا ہے دامنِ سرور ہمیں مقدر سے
      راشد رفیق چوکھنڈوی
ہے سرخ آسماں ان کے لہو سے اے باسط
ہیں غمزدہ سبھی کرب و بلا کے منظر سے
        باسط رامپوری
شفاعت ان کی کرے گا خدا نہ محشر میں
جو بغض رکھتے ہیں مولا علی کے دلبر سے
       دلکش چوکھنڈوی
مٹا نہ پائے گی دنیا کبھی یہ دیں مصباح
نبی کا دین ہے روشن چراغِ حیدر سے
       مصباح رحمانی
مرے حسین کی عظمت تو دیکھئے اے حسن
صدائیں ذکر کی ان کے ہیں آتی گھر گھر سے
       حسن چوکھنڈوی
غلامِ آلِ نبی ہو گیا ہوں اے ارشد
کہ رشتہ جوڑ لیا میں نے ربِ اکبر سے
      ارشد عمیر صفدر گنجوی
ان شعراء کے علاوہ نازش بارہ بنکوی، سحر ایوبی، ابو ذر انصاری اور صغیر قاسمی وغیرہ نے بھی بارگاہِ حسینی میں اپنا اپنا طرحی کلام بطور نذرانہء عقیدت پیش کیا، بزمِ ایوان غزل کی آئندہ ماہانہ طرحی نشست حمدِ پاک کے مندرجہ ذیل مصرع طرح: "اے خدا میری نظر کو تیرا جلوہ چاہئے”
پر ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے