مولانا محمد یعقوب مظاہریؒ مثالی مربی اور ایصال الی المطلوب کے عظیم ترین علمبردار: مفتی خبیر ندوی
سہارنپور (احمد رضا): عالم دین مفتی محمد خبیر ندوی نے اپنے استاد کے انتقال پر ملال پر اپنا اظہار تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارنپور کے صدر المدرسین، ایصال الی المطلوب کے عظیم تر سچے علمبردار، میرے محبوب ترین استاذ محترم اور شیخ التفسیر حضرت مولانا حافظ محمد یعقوب صاحب مظاہری رحمہ اللہ اپنی بعض امتیازی خصوصیات کے سبب دیگر اساتذہ کرام کے بالمقابل اپنی منفرد شان و شوکت کے مالک تھے، اور آپ کی کی یہی امتیازی شان و شوکت طالبان علوم و فنون اور عاشقان احادیث نبویہ ص کو کھینچ کھینچ کر جوق در جوق آپ کے پاس آنے کو مجبور کرتی تھی، افسوس آج ہم ایسے متبحر عالم، عظیم مفسر قرآن کریم، مر موق استاد سے محروم ہو گئے اس پر جتنا رنج و الم کیا جائے کم ہے، اللّٰہ تعالیٰ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے آمین۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب مظاہری سہارنپوری رحمہ اللّٰہ سے میری پہلی ملاقات سال 1980 میں داخلہ کے وقت ہوئی تھی میرا سب سے پہلا سابقہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب مظاہری سہارنپوری رحمہ اللّٰہ سے ہی ہوا اور میرا داخلہ ٹیسٹ حضرت مولانا رحمہ اللّٰہ نے ہی لیا تھا اور تبھی سے مُجھے آپ سے خاصی انسیت ہوگئی تھی، مُجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں اپنے مقامی مدرسہ اسلامیہ ضیاء العلوم تمبور سے شرحِ جامی پڑھنے کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے لیے تگ و دو شروع کی تو اس وقت میرے قصبہ تمبور کے سب سے بڑے عالم اور میرے خصوصی مربی استاذ حضرت مولانا حامد علی صاحب مظاہری رحمہ اللہ کا مشورہ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور جانے کا ہوا، جب کہ اس وقت میرے قصبہ کے ممتاز عالم دین اور میرے چچازاد بھائی جناب مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی رح اس وقت اپنے پورے طمطراق کے ساتھ دارالعلوم دیوبند میں جلوہ افروز ہوکر اپنے علم و فن کے موتی بکھیر رھے تھے، اور حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی موجودگی کے سبب میرے دیگر ساتھیوں کی ایک کثیر تعداد اپنے ساتھ مُجھے بھی دارالعلوم دیوبند میں ہی مزید تعلیم کے حصول کی خواہاں تھی، لیکن میرے خصوصی مر بی استاذ حضرت مولانا حامد علی صاحب مظاہری رحمہ اللہ کا مشورہ ان سب خواہشوں پر غالب آیا اور پھر میں نے اپنے والد بزرگوار جناب الحاج شیخ محمد شبیر صاحب رح (سابق ریاستی آفیسر محکمہء جنگلات حکومت اترپردیش) کی معیت میں مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے لیے رخت سفر باندھ کر سہارنپور کے لیے روانہ ہو گیا، رات بھر کی مسافت کے بعد جب علی الصباح اسٹیشن سے باہر آیا تو رکشہ ڈرائیوروں کا ایک جم غفیر مسافروں کو اپنے رکشہ پر بٹھانے کے لیے سبزی فروشوں کی طرح ” عربی مدرسہ چلا چلا آواز دے رہے تھے، ناچیز اپنے والد صاحب کے ساتھ رکشہ پر بیٹھ کر عربی مدرسہ پہونچ گئے، یہاں دارالطلبہ قدیم کے دکھنی جانب زینہ کے اوپری حصہ میں آپ کا کمرہ تھا یہیں حضرت مولانا محمد یعقوب سہارنپوری نے ابتدائی تعارف کے بعد ہم دونوں کو اپنے ساتھ لے کر اوپر لے گئے اور پہلی ملاقات میں ہی غیر معمولی ضیافت سے نواز کر اپنا بنا لیا،
مختصر تعارف:
آپ کی پیدائش شہر سہارنپور کے محلہ ٹوپیہ سرائے میں سن ۱۹۴۸عیسوی میں ہوئی ، ساڑھے چار سال کی عمر میں آپ کی بسم اللہ آپ کے والد محترم جناب محمد اسحاق صاحب نے کرائی، پھر آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر کے قریب واقع مکتب میں حاصل کی، کچھ دن مدرسہ خلیلیہ میں ابتدائی فارسی و عربی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حفظ قرآن کریم کیا، اس کے بعد مقامی طور پر اپنے شہر کے علمائے کرام سے درس نظامی کی مرکزی کتابیں پڑھ کر باقاعدہ طور پر عظیم دینی درسگاہ مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور میں۱۳۸۲ھ میں داخلہ لیا، اور یہاں پابندی وقت اور شدید محنت کے ساتھ چار سال تعلیم حاصل کرکے ۱۳۸۶ھ میں دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کرکے سند فضیلت حاصل کی، یہاں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ آپ نے دورۂ حدیث شریف کے اپنے سبھی ساتھیوں میں سب سے اعلیٰ اور امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوکر نقد انعام سے سرفراز ہوئے، نیز اس کے ساتھ ساتھ کتب انعا میہ کے بھی مستحق قرار پائے،
اساتذہ کرام:
صحاح ستہ میں آپ کے ممتاز حضرات اساتذہ کرام مندرجہ ذیل ہیں (1) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنیؒ، رحمہ اللہ، جن سے آپ نے مکمل صحیح بخاری شریف کی دونوں جلدیں پڑھیں، (2) مشہور محدث حضرت مولانا *شیخ منور حسینؒ صاحب پورنوی رحمہ اللہ، جن سے آپ نے صحیح مسلم شریف، جامع ترمذی شریف، سنن نسائی شریف، سنن ابن ماجہ شریف، دونوں مؤطین شریفین مؤطا امام مالک رح اور مؤطا امام محمد رح پڑھیں (3) فقیہ الاسلام حضرت مولانا حافظ قاری مفتی مظفر حسینؒ صاحب اجڑا روی رحمہ اللہ، جن سے آپ نے طحاوی شریف پڑ ھی (4) مشہور مناظر اسلام اور حضرت تھانوی کے اجل خلیفہ حضرت مولانا محمد اسعد اللہ خان رام پوری رحمہ اللہ جن سے آپ نے سنن ابوداؤد شریف پڑھی۔(5) موجودہ وقت میں علوم نبویہ کا بحر بیکراں حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب مظاہری دامت برکاتہم (شیخ الحدیث و ناظم اعلیٰ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور)جن سے آپ نے مشکوٰۃ شریف اور بیضاوی شریف پڑھیں۔
رفقائے درس:
آپ کے رفقائے درس میں یوں تو سبھی ساتھی با کمال تھے لیکن آپ کے وہ درسی ساتھی جو بعد میں اپنے فن تقریر و خطابت میں بہت زیادہ مقبول ہوئے ان میں سابق ناظم اعلیٰ مدرسہ مظاہر علوم دار جدید حضرت مولانا سید محمد سلمان حسنی مظاہری رحمہ اللہ، مدرسہ مظاہر علوم کے صدر القراء حضرت مولانا حافظ قاری محمد رضوان نسیم صاحب رحمہ اللہ، آپ کے جلالین شریف کے درسی ساتھی، مشہور خطیب اور عظمت صحابہ کرام رض کے ترجمان جناب مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب رحمہ اللہ، مختصر المعانی، شرح عقائد نسفی اور سلم العلوم کے درسی ساتھی جناب مولانا مفتی شکیل احمد صاحب، کے اسمائے گرامی خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔۔۔۔۔۔
فراغت کے بعد ۱۳۸۷ھ مادر علمی مظاہرعلوم میں درجات وسطیٰ میں تقرر ہوگیا،اور آپ نے بطورِ استاذ سب سے پہلے مرقات, نور الایضاح، اور نور الانوار جیسی کتابیں پڑھا کر اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا، پھر درجہ بدرجہ ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے کنزالد قائق، شرح وقایہ، میبذی، جلالین شریف ، بیضاوی شریف، مشکوٰۃ شریف، اور صحاح ستہ میں سنن نسائی شریف، سنن ابن ماجہ شریف ،مؤطاامام مالک اور سب سے آخیر میں صحیح مسلم شریف جیسی امھات الکتب پڑھاتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کے حضور پہونچ گئے۔
انتظامی خدمات:
آپ ۱۴۲۳ھ میں مدرسہ مظاہرعلوم وقف سہارنپورکے صدر مدرس مقرر ہوئے ۔آپ سے پہلے اس عہدہ پرآپ کے استاذ حضرت مولانا محمد عاقل سہارنپوری فائز تھے آپ نے تقریباً 20/22 سال مسلسل جلالین شریف کا درس دیا۔اسی لئے جلالین شریف میں جو ملکہ تامہ اور ایک قدرت خاصہ حاصل تھی، یہی وجہ تھی کہ آپ کو جلالین شریف کی اکثر عبارتیں حفظ تھیں۔ بس اللّٰہ تعالیٰ سے یہی دعاء ھےکہ وہ آپ کی مغفرت تامہ عطا فرما کر آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔
