بیدر۔ 19؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): سود کی حرمت سے ہم اچھی طرح واقف ہیں،اسلامی معیشت سود سے بالکل صاف ہے۔مسلمان بڑی تعداد میں رہنے کے باوجود اس سے بچنے کی شعوری کوشش نہیں ہو پارہی ہے۔جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کئی سال سے یہ کوشش کررہی ہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق بلا سودی قرض کا لین دین کا سسٹم قائم ہو سکے۔الحمد للہ کرناٹکا میں کامیاب تجربات ہیں۔آج جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے دفتر حلقہ آر ٹی نگر بنگلور میں چھوٹے پیمانے پر متحرک اسلامک میکرو فینانس کے ذمہ داران کے اجلاس سے امیرحلقہ ڈاکٹر سعد محمد بلگامی صاحب اختتامی خطاب فرما رہے تھے۔ اجلاس کا آغاز مولانا مظفر حسین شکیل ندی چتردرگہ کے درس قرآن سے ہوا۔
مقامی سطح پراسلامک میکرو فینانس کی کارکردگی پر 13مقامات کے منتخب ذمہ داروں نے اظہار خیال کیا۔ان مقامات پر اب تک کا ٹرن اوور 2.14کروڑروپیوں کا ہے۔چھوٹے کاروبار،بچوں کی اسکول فیس جیسے فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قرضے فراہم کئے جاتے ہیں۔جناب محب الدین خان صاحب CA نے رہنمائی کی۔لائف لائن فاؤنڈیشن بنگلور کے مینیجر جناب مصعیب نے میکرو فینانس کی اہمیت و ضرورت پر اظہار خیال کیا۔میکرو فینانس کے کامیاب تجربات کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب مکرم اسحاق ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر آف کسٹم نے کہا کہ سماج میں سودی کاروبارکی ایک وباء پھیل گئی ہے۔اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بڑی کوشش درکار ہے۔
جناب محمد یوسف کنی سیکریٹری حلقہ نے ’’ہمارے اصول اور ضابطے‘‘ کے عنوان پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرض دینے کے لئے بھی أصول کی پابندی ضروری ہے۔فضول خرچ کرنے والے،بچوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے،گالی گلوج کرنے والوں کو قرض نہ دیاجائے۔محلے والوں سے اچھا سلوک کرنے والے،ایک قرض پر ادائیگی سے قبل کم از کم 5پودے لگانے کی شرط پر قرضہ فراہم کرنے کی بات مناسب رہیگی۔انہوں نے کہا تین باتوں سے پرہیز کرنے کی ترغیب دلانا چاہئے۔جھوٹ سے بچنا چاہیے،امانت میں خیانت نہ ہو اور وعدہ خلافی نہ کی جائے۔تبادلۂ خیال کا موقع رہا،شرکاء نے مختلف امور پر سوالات کئے ۔
محترم امیر حلقہ ڈاکٹر بلگامی نے جواب عنایت فرمایا۔اظہار تشکر و دعا کے بعد اجلاس اختتام کو پہنچا۔اس بات کی اطلاع میکروفینانس کے ذرائع نے دی ہے۔
تصویر منسلک ہے
