ملک وملت کے درد مند دل رکھنے والے مکاتب ،نرسری اسکولوں اور مدارس کے قابل قدر ذمہ داران وپرنسپل صاحبان کے نام۔
محترم قارئین! اس نازک دور میں جب دین سے دوری بڑھتی جارہی ہے بہت ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ جیسے علم دوست احباب کی خدمات میں دینی تعلیمی کونسل لکھنؤ کی شاخ انجمن تعلیمات دین گورکھپور کی اہمیت وافادیت کے چند اہم نکات پیش کردیئے جائیں۔ حصول آزادی سے قبل چند مفکران ملت، مولانا منظور احمد نعمانی، مولانا محمد میاں، مولانا سید اسعد مدنی، مولانا شاہ سلیم اللہ بنارسی، سید ابوالحسن علی میاں ندوی، مولانا عبد السلام فاروقی، ارادت حسین بارہ بنکوی، ریاض الدین الہ آبادی، مولانا ابو الیث اصلاحی، مولانا ابو الوفاء شاہجہاں پوری، مولانا عبد القیوم علیگڑھی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، ظفر احمد، حکیم ابو الکلام صدیقی اور میر کارواں قاضی عدیل احمد عباسی نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ ہندوستان ایک نہ ایک دن انگریز وں کی غلامی سے آزاد ہوکر رہیگا اور آزاد ہندوستان میں تعلیمی نظام جمہوری ہوگا لیکن ایک فرقہ جو اپنی بالا دستی بنائے رکھنا چاہتا ہے وہ اپنے اقتدار کے نشے میں اپنی من مانی ضرور کریگا اس طرح مسلم گھرانوں کے بچوں کا بے دینی اور کفر وشرک کے ماحول میں تعلیم پاکر اپنے عقیدے پر قائم رہنا نہ صرف مشکل ہوگا بلکہ نا ممکن ہوجائے گا، ساتھ ہی ساتھ مسلم دشمنی میں جنگ آزادی کی محبوب زبان اردو کی ہمت آفزائی نہیں کی جائے گی بلکہ اسکی نشر واشاعت کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی۔
ان ناگفتہ بہ حالات میں بانیان تحریک کو ایک فکر دامن گیر تھی بلکہ اضطراب کا عالم تھا کہ مسلمانوں کے موجودہ نسل کے ایمان وعقیدہ پر قاءیم رکھنے اور دین متین کی حفاظت کا قابل اطمینان بند وبست کیا جائے یہ ایک ایسا مسلہ ہے کہ جس کے سامنے کسی بھی مسئلے کی کوئی حیثیت نہیں، اگر ہمارے دیگر مسائل حل ہونے سے رہ جائیں اور ہمیں موت آجائے تو ان کے لئے اللہ کی بارگاہ میں شاید ہم سے باز پرس نہ ہو لیکن خدا نہ خواستہ ہمیں اس حال میں موت آگءی کہ ہماری نسلوں کے ایمان وعقیدہ کا مسلہ باقی رہا اور ہم نے اسکے حل کرنے کی پوری جد وجہد نہ کی تو ہمیں اللہ کے سامنے جوابدہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
ان معروضات کی روشنی میں انجمن تعلیمات دین گورکھپور آپ سے بار بار مخلصانہ درخواست کرتی ہے کہ آپ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کو ہر حال میں مقدم رکھیں تاکہ وہ اپنے خالق ومالک اپنے پیغمبر اپنی آخرت اور اپنے سعادت دارین اور اپنے عقیدے اور فرایض دینی کو پورے طور پر پہچان سکیں، خالص رواجی اور معاشی تعلیم دلانا گناہ بلکہ اپنے مذہب سے بغاوت سمجھیں گے اور یہ عہد کریں گے کہ قریہ قریہ صباحی اور شبینہ مکاتب کا ایک ایسا جال بچھا دینگے جس سے کوئی قریہ، شہر و محلہ محروم نہ رہیگا اور اردو زباں کی تعلیم و ترویج کو پوری توجہ سے فروغ دینگے۔
محترم قارئین! اگر آپ کو ان امور سے اتفاق ہے اور ہم کو قوی امید ہے کہ انشاء اللہ آپ ضرور اتفاق کرینگے تو انجمن تعلیمات دین گورکھپور کے کاموں میں معاون بنیں کیونکہ ان کوششوں میں اپکی شرکت رضاء الٰہی کا ذریعہ ہوگا اللہ تعالیٰ سے دعا بھی فرمائیں کہ اللہ ہم سب کو اس تحریک کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت مولانا منظور نعمانی نے کہا تھا کہ مسلمان بچوں کی دینی تعلیم اور ان کے عقائد کے تحفظ کی اس تحریک میں اپنے حصہ کو اللہ کی ایک بڑی نعمت سمجھتا ہوں اور اس کے لیۓ شکر گزار ہوں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے موجودہ ذمّہ داروں اور کارکنوں کی ہر طرح مدد فرمائے اور نہایت ضروری کام اطمینان بخش پیمانے پر جاری رہے آمین۔
مرتبہ: مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی صدر جمعیت علماء گورکھپور آفس سکریٹری انجمن تعلیمات دین گورکھپور
