نفرت اور بلڈوزر کلچر نے ملک کے عوام کو بہت برے حالات میں دھکیل دی
سہارنپور (احمد رضا): ملک کا تیس کروڑ سے زائد مسلم اس ملک کی مٹی سے محبت کرتا ہے اسلئے اس مٹی پر سجدے کرتا ہے نمازیں پڑھتا ہے اور بعد کو اسی مٹی میں دفن ہوا کرتا ہے یہ ہے وطن عزیز کی مسلم آبادی کے دلوں میں محبت کی لازوال مثال آپ ہمکو وطن پرستی کا سبق سکھانے والے ہیں کون کبھی اپنے ہزار سال کے حالات کا مشاہدہ کرو پھر بتاؤ یہ ملک کس کا ہے اور کون اس ملک کا اصل وارث ہے ملک کے عوام کو انصاف اور بنیادی حقوق سے محروم رکھنا کھلی ہوئی فرعونیت اور دستور ہند کی کھلی نا فرمائی اب عوام کو انصاف کے لئے ہمت کرنی ہوگی جس ملک میں ایک زمه دار فرد آزان کو چینخ کہتا ہو اور سبھی تھانوں اور جیلوں میں جنم اشهٹمی منانے کی ہدایت دیتا ہے اس ریاست سے آپ انصاف اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی توقع کیسے کر سکتے ہیں یہاں صرف بلڈوزر کی طاقت پر اور پولیس کو آگے رکھ کر حکومت چلائی جا رہی ہے عوام کے تحفظ اور انکو انصاف دلانے کے لئے انکے پاس کچھ بھی حکمت عملی نہی ہے نفرت اور فر قہ وارانہ اقدم کرنے والے اداروں اور تنظیموں کو بڑھا وا دینا یہاں ایک عام بات ہوچکی ہے امن پسند ہندو مسلم سکھ اور عیسائی یہاں خد کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں بلڈوزر کی دہشت گرد ی نے ملک کے لاکھوں افراد کو سڑک پر لا کھڑا کیا ہے عدالتیں بھی صورت حال کا از خود نوٹس نہی لے رہی ہیں کمزور اور بی بس آبادی کو غلامِ بنانے کی کوشش عروج پر ہے!واضع رہے کہ ملک بھر میں موجودہ نظم و نسق ملک کے اقلیتی ،پچهڑے ،دلت اور پسماند عوام کے لئے زرہ برابر بھی راحت بخش نہی ہے سرکار کی من مانی سبھی قاعدے اور قانون پر حاوی ہے کھلے عام کمزور افراد کو دبایا اور ڈرایا جا رہا ہے سرکاری مراعات سے کمزور عوام کو باہر نکال دیا گیا ہے سرکاری مشینری کا نظریہ بھی جانب دارانہ دیکھنے کو مل رہا ہے عام افراد کی بات نہیں سنی جا رہی ہے مہنگائی ، بیروزگاری اور نفرت کی بہتات ہے ملک بھر میں سیاست داں اپنے اپنے مفا د۔ کے لئے کام کر رہے ہیں سوشل تنظیم کے سربراہ ایڈوکیٹ محمد علی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یونفارم سول کوڈ اور وقف بل کے نام پر مٹھی پر ہندو لابی کے ذریعہ ملک کے اتحاد و سالمیت کو بگاڑنے کی خطرناک ترین سازشیں شروع ہو گئی ہیں اس طرح کی سازش کی کوششیں وہ لوگ ملک کے آزادی کے بعد سے کر رہے تھے، ہماری آپسی پھوٹ اور کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب وہ گروہ بند لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ ہم نے انگریزوں کو اپنی ایکتا ،اتحاد و سالمیت کے ذریعہ ہی شکست دے کر ملک سے راہ فرار اختیار کر نے کو مجبور کر دیا تھا آج بہت خطرنا ک حالات ہم سب کے سامنے ہیں ہمیں اسی اتحاد کا قائم رکھنے کے لئے اپنے نسلوں کو فرقہ پرست ذہنیت والے لوگوں سے دور رکھنا ہوگا اور آپسی بھائی چارہ اور حب الوطنی کی اہمیت دلوں میں جگانا ہوگا آپنے زور دیکر کہا کہ ہندوستان میں اس وقت بڑھتی نفرت ،یونیفارم سول کوڈ اور وقف بل کو لے کر زبردست بحث جاری ہے جہاں وقف سے مسلم افراد اپنے بزرگوں کی جائیدادوں کو لیکر فکر مند ہیں وہیں صرف مسلم طبقہ ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ دلت اور قبائل طبقات کو بھی یونیفارم سول کوڈ کے نقصانات کو لیکر فکر مند ہونا ہوگا نہوں نے کہا کہ ” یونیفارم سول کوڈ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ سبھی ہندوستانیوں کا مسئلہ ہے اور یہ سبھی کے مزہبی حقوق کو پامال کر تا ہے اس قانون کے بارے میں حکومت کو سبھی مذاہب، سماجی اور قبائلی گروپوں کے نمائندوں سے صلاح و مشورہ کرنا چاہیے اور انھیں اعتماد میں لینا چاہیے، یہی جمہوریت کا مطالبہ ہے سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ ہندوستانی جیسے متنوع سماج میں، جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے امن اور خیر سگالی کے ساتھ رہتے آئے ہیں، وہاں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کا نظریہ اپنے آپ میں نہ صرف حیرت انگیز لگتا ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص مذہبی طبقہ کو دھیان میں رکھ کر باقی آبادی کو گمراہ کرنے کے لیے آرٹیکل 44 کی آڑ لی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بات تو آئین میں موجود ہے، حالانکہ خود آر ایس ایس کے بڑے لیڈر گولوالکر نے کہا تھا کہ ’ یونیفارم سول کوڈ ہندوستان کےلئے غیر فطری ہے اور اس کے جمہوری اور بنیادی ڈھانچہ کے برعکس ہے!
