ڈاکٹر اکرم نقاش، پروفیسر عبدالحمید اکبر، امجد جاوید، ڈاکٹر ماجدداغی اور رؤف قادری کا خطاب
گلبرگہ۔ 28؍اگسٹ(ڈاکٹر ماجد داغی/محمدیوسف رحیم بیدری): خلیل مامون نئی نظم کی معتبر اور منفرد آواز تھے وہ بہ ظاہر ڈسپلن کے پابند سخت گیر پولیس آفیسر نظر آتے تھے لیکن وہ ایک دردمند دل کے مالک اور انسانیت نواز فرد تھے ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اکرم نقاش صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے انجمن کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ یہ اجلاس 25/ اگست 2024 بروز اتوار ساڑھے گیارہ بجے دن انجمن کے خواجہ بندہ نوازؒ ایوان اردو ہال گلبرگہ میں منعقد ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ خلیل مامون غیر معمولی طور پر متحرک اور فعال شخصیت تھے ، انکی رحلت بلاشبہ ادب اور بالخصوص نظم کی دنیا کا نقصان ہے۔
انہوں نے سلیمان خمار کے انتقال پر کہا کہ ان کا گزرجانا کرناٹک میں غزل کی معروف و مقبول آواز کا خاموش ہوجانا ہے۔سلیمان خمار بے حد ملنسار منکسر المزاج اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ اللہ دونوں مرحومین کو غریق رحمت کرے ۔ڈاکٹر اکرم نقاش نے اس موقع پر خلیل مامون پر لکھا اپنا خاکہ پیش کیا۔خلیل مامون اور سلیمان خمار پر اظہار خیال کرتے ہوے پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر صدر شعبہ ء اردو کے بی این یونیورسٹی گلبرگہ نے کہا کہ خلیل مامون اپنے اصولوں کے پابند غیر متزلزل مزاج کے حامل تھے وہ ہمیشہ نا انصافیوں اور جبر کے خلاف نہ صرف کھلے طور پر اظہار کیا بلکہ اپنی شاعری میں بھی ان عوامل کو موضوع بنایا ۔ان کا انتقال اردوادب کا ایک بڑا نقصان ہے۔ سلیمان خمار کے متعلق انہوں نے کہا یہ وہ شاعر تھے جو شاعری کے حوالے سے ہماری ریاست کی بھرپور نمائندگی کرتے تھے۔ وہ ایک شریف النفس سادہ مزاج آدمی تھے۔
جناب امجد جاوید نے اجلاس سے مخاطب ہوتے ہوے کہا’’ دنیا انہیںلوگوں کو یاد کرتی ہے جنہوں نے قوم و سماج کو کچھ دیا ہے۔ یہ دونوں شخصیتیں ادب کے حوالے سے ہمیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔ مرحومین سے اپنے ذاتی مراسم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی شخصیتیں چھوٹوں کی تنقید پر ناراض نہیں ہوتیں بلکہ اپنی مسکراہٹ سے انکا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ ڈاکٹر ماجدداغی نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ خلیل مامون اور سلیمان خمار سے کرناٹک اردو اکادمی کی ممبرشپ کے دوران انہیں قریب سے جاننے کا موقع ملا اور یہ مراسم ہمیشہ قائم رہے۔انہوں نے خلیل مامون کی رحلت کو ادب کے بڑے نقصان سے تعبیر کیا۔
اس موقع پر انہوں نے سلیمان خمار کی شاعری کے اختصاص پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سلیمان خمار انتہائی خوش مزاج، خوش پوشاک، خوش خِصال اور بامروّت یَار بَاش شخصیت کے مالک تھے، شاعری میں وہ اپنی جدت طرازی، لفظیات کے دلفریب استعمال اور تخیّل کی موثر ترجمانی کی وجہ نہ صرف ریاستی و قومی سطح پر شہرت حاصل کی بلکہ خلیجی ممالک میں منعقدہ بین الاقوامی مشاعروں میں بھی مدعو کئے گئے، ان کی مطبوعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سلیمان خمار کی اب تک چار کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ تین مجموعہ ہائے کلام’ تیسرا سفر’، ‘سمندر جاگ سکتا ہے’ اور ‘دشتِ جنوں’ کے علاوہ نعتوں کا مجموعہ ‘پیکرِ نور’ اردد شعری سرمایہ میں قابلِ قدر اضافہ ہیں۔
خلیل مامون کے قریبی ہم کار سید رؤف قادری نے خلیل مامون کی شخصیت ان کے احوال و آثار پر روشنی ڈالتے ہوئے ان سے اپنے مراسم کا مفصل ذکر کیا اور انتقال سے قبل خلیل مامون سے ہوئی ان کی گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ جناب ولی احمد نے ابتدائی کلمات کہے جس میں انہوں نے دونوں مرحومین کی ادبی کارگذاریوں کا موثر انداز میں جائزہ لیا۔جلسہ کا آغاز جناب مظہر احمد گرمٹکالی کی قراتِ کلام پاک سے ہوا ۔محمد سجاد حسین اور بابو بھائی نے نذرانہ نعت پیش کیا ۔ڈاکٹر محمد افتخارالدین اختر نے جلسہ کی نظامت بحسن و انجام دی۔ جلسہ کے آخر میں ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے قراردادِ تعزیت کی قرات کی۔
قراردادِ تعزیت:۔ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کا یہ تعزیتی اجلاس ممتاز شاعر، ادیب و صحافی خلیل مامون اور معروف شاعر سلیمان خمار کے سانحہ ارتحال پر اپنے رنج و ملال کا اظہار کرتا ہے۔ خلیل مامون جدید نظم کا ایک معتبر نام ہے۔ خلیل مامون بہ یک وقت منفرد شاعر، نثرنگار، صحافی و ادیب تھے۔ خلیل مامون بے باک اور بے لاگ اظہارِ خیال کے قائل ادیب تھے۔ انھیں ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ، کرناٹک راجیہ اتسو ایوارڈ اور غالب ایوارڈ کے علاوہ قومی و ریاستی سطح کے اعزازات سے نوازا گیا۔ان کی جملہ سولہ کتابیں منظرِ عام پر آئیںجو نظم و نثر پر مشتمل ہیں۔ خلیل مامون انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدہ پر فائز رہے۔ ساتھ ہی وہ کرناٹک اُردو اکاڈمی کے صدر کی حیثیت سے بھی غیر معمولی کام کئے۔ ان کے دورِ صدارت میں اکاڈمی کی نیک نامی میں بیحد اضافہ ہوا۔انھوں نے اُردو منچ کے زیرِ اہتمام ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس منعقد کی جس میں برِصغیر ہند و پاک، بنگلہ دیش اور مغربی ممالک سے مندوبین نے شرکت کی۔
خلیل مامون بیحد متحرک اور فعال شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے ایک ادبی رسالہ، نیا ادب کے نام سے جاری کیا اور یہ سوغات کے معاون مدیر بھی رہے۔ ان کے انتقال سے اُردو دنیا ایک بیحد فعال شاعر و ادیب سے محروم ہوگئی۔ سلیمان خمار کرناٹک کے ان شعراء میں شمار ہوتے ہیں جن کی شہرت مشاعروں کے حوالے سے بھی تھی اور وہ ادبی رسالوں میں تواتر کے ساتھ شائع ہونے والے شعراء میں سرِ فہرست بھی تھے۔ سلیمان خمار کا تخلیقی سفر پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ پرمحیط ہے۔ ان کے چار شعری مجموعے شائع ہوکر مقبول ہوئے۔ سلیمان خمار پاکستانی رسائل میں بھی مسلسل شائع ہوتے رہے. انھیں خلیجی ممالک کے مشاعروں میں بھی بہ طور خاص مدعو کیا جاتا رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہم عصروں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔
سلیمان خمار محکمہ تعلیمات میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ کرناٹک اُردو اکاڈمی کی رکنیت کے علاوہ دیگر تعلیمی اور ادبی اداروں سے ان کی وابستگی رہی۔ سلیمان خمار بیحد سادہ مزاج، ملنسار، نفاست پسند اور دوست نواز شخصیت کے مالک تھے. ان کی وفات سے کرناٹک میں اُردو شاعری کا ایک روشن ستارہ بجھ گیا۔ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ ان مرحومین کی رحلت پر بارگاہِ لم یزل میں دعا گو ہے کہ اللہ تعالی انہیں غریقِ رحمت کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ ڈاکٹر محمد افتخارالدین اختر نائب صدر انجمن کے شکریہ پر جلسہ اختتام پذیرہوا۔اس بات کی اطلاع ایک پریس نوٹ جاری کرکے دی گئی ہے۔

