ایمان کی کمی اور صفوں میں اتحاد نہ ہونیکے باعث ہی آج امت مسلمہ پستی اور بزدلی کا شکار ہو کر مزاق کا موضوع بن گئی ہے! مفتی محمد صادق مظاہری
سہارنپور(احمد رضا): بڑی شرم آتی ہے یہ دیکھ کر کہ اعلانیہ دو ہزار شدت پسند افراد کی بھیڑ آصف نگر شہر میں مسلم آبادی پر حملہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر لوٹ پا ٹ اور آگ زنی کرتی ہے عالم دین مولانا محمد صادق مظا ہر ی نے اپنے ایک اہم بیان میں بتایا کہ یہ ملک سب سے پہلے ہم مسلم اقوام کا ہے اسکے بعد ہم سبھی اہل ہند اس وطن کے باشندے ہیں ملک کو دو سو سال کی سخت ترین مشقت کے بعد لاکھوں جانیں ملک پر نچھاور کرنے اور زبردست مالی خسارہ اٹھانے کے بعد ہمارے بزرگوں اور اکابرین نے علماء کرام کی مدد سے اپنے وطن عزیز کو آزادی دلائی اور آج انگریزوں کے مخبر اس ملک کو اپنا ملک بتاکر ہم پر ظلم اور جبر ڈھائے جا رہے ہیں یہ ہر گز برادشت نہی ہو گا یہ تیس کروڑ مسلم افراد کا اپنا ملک ہے!
واضع رہے کہ نتیش رانا جیسا ملعون مسلسل چار روز سے مسجد میں گھس کر مسلم افراد کے قتل کی اعلانیہ دھمکیاں دے رہا ہے اور کہ رہا ہے کہ یہ ہندو راشٹر ہے ہم کچھہ بھی کریں سرکار اور پولیس ہمارے خلاف کچھ بھی کاروائی کی ہمت نہیں کر سکتی ہے نتیش رانا کی دھمکیاں پورے ملک میں اسکے ذریعہ جاری کی گئی ویڈیو میں کھلی آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے اتنا سب کچھ مسلم افراد کے خلاف دیکھ کر اور سن کر مھاراشٹرا اور مرکزی سرکار خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ آخر کچھ تو ہے کہ جس کی پردہ داری ہے۔

سیکڑوں علماء کرام اور مسلم دانشور حضرات کا کہنا ہے کہ اگر ہماری آنکھوں کے سامنے مسجدیں اور مدارس شہید ہوتے رہیں گے اور ہمکو جان مال کا خسارہ اٹھانے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں گی تو پھر اس زندگی کو مسلمان نام دیکر جینے سے کیا فائدہ آپ یقین کریں کہ پچہلے پندرہ روز کے دوران ہر یانہ، ترپورہ، آسام، اٹرپردیش، مدھیہ پردیش، بھار، ممبئی، پربھنی، حیدرآباد اور اتراکھنڈ کے روڈکی اور ہردوار کے بہت سے علاقوں میں سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت پولیس کی موجودگی میں اور پولیس کے ساتھ ملکر مسلم افراد کو جس طرح سے ما رتے پیٹتے ہوئے بری طرح سے مجروح کیا گیا قتل کیا گیا اور جے شری رام کانعرہ دینے پر مجبور کیا گیا دوسری جانب دہلی میں دو سو سال پرانے مسجد، مدرسہ، مزار شریف اور مسلم آبادی کے گھر اور دکانیں کو تحس نحس کر دیا گیا۔ ترین میں مسلمانوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی جسمیں تین مسلم افراد ہلاک ہوئے اسی طرح اتر کھنڈ کے ہلدوانی کے بن پھول پورا میں مسجد مدرسہ اور مسلم گھروں کو نیست و نابود کیا گیا آواز اٹھانے پر سیدھی فائرنگ کی گئی جسمیں درجنوں زخمی ہوئے اور چھ نے موقعے پر ہی جان گنوادی ہے مگر اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ملک کے زمہ دار اور سبھی سیاست داں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں!
قرآنِ حکیم کا فرمان ہے کہ ” آزمائے ہوئے کو آزمانا بیوقوفی” اصلی بات یہ ہے کہ ہم لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا ہونے کا اصل سبب” دین اسلام سے دوری اور ایمان کا کمزور پڑ جانا ایمان کے کمزور پڑ نے سے ضمیر مردہ ہوجاتا ہے اچھے برے کے درمیان اندازہ لگایا جا نا مشکل ہو جاتا ہے آج ملت اسلامیہ کی تنزلی اور پستی کی بنیادی وجہ دین کی تعلیم سے نا واقفیت کے سواۓ کچھ بھی نہیں” اللہ رب العزت نے جس امت کے پاک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے لئے اپنے عرش عظیم پر بلایا اور عزت افزائی کی اسلئے ہم پر یہ بڑی زمہ داری ہے کہ ہم آج جہاں معجزه معراج النبی کا جشن منائیں اور عام لوگوں کو اس عظیم الشان واقعہ کے عظمت اور اس معجزہ کے جامع پیغام کو خد اپنائیں اور املت مسلمہ کو اپنانے کی تاکید و تلقین کریں کیونکہ جس امت کے رسول اکرم معراج کی بلندیوں تک پہنچے اس امت کو پستیوں کا قیدی نہیں بنایا جاسکتا ہے”!
مفتی محمد صادق مظا ہری نے صاف شفاف انداز میں بیان کیا کہ معراج النبي ﷺ کی بلند پایہ ذکر خاص سے امت کو بلندیوں کی طرف پرواز کرنے کا سبق ملتا ہے امت مصطفیٰ کی معراج اطاعت مصطفیٰ میں موجود ہے جو عرش کی بلندیوں سے ساری کائنات کا مشاہدہ کر رہے تھے ان کا دیا ہوا نظام اور ضابطۂ حیات ہی سب سے جامع اور کامل ترین ہو سکتا ہے آپ کی وسعت نگاہ نے ہر خطے اور ہر صدی کے مسائل کا حل عطا فرمایا ہے ضرورت صرفِ اور صرفِ خد کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی اور صورت میں ڈھالنے کی ہے ایک بار نظام مصطفیٰ کو اپنا امام تسلیم کریں تب دیکھیں دنیائے فانی کے طاقتور سے طاقتور ترین شہنشاہ آپکے پاؤں میں جھکنے کو مجبور ہوں گے یہی اصل نام محمد الرسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک ہے ،معراج مصطفى نظام مصطفى كامل ہونے کی دلیل ہے۔ معجزہ معراج سے پتہ چلتا ہے کہ دینی احکام اور دنیاوی امور کے لحاظ سے کوئی شخص بھی علوم مصطفیٰ کے ہم پلہ نہیں ہے معراج کا جشن منانا بہت بڑی سعادت مندی ہے معجزہ معراج کے مطالعہ سے نسل نو کے لیے انکشافات کی راہیں کھلتی ہیں معراج کی رات کے مشاہدات نبوی میں امت کیلئے فکر آخرت کے بہت بڑے بڑے اسباق موجود ہیں۔
سفر معراج میں دو مسجدوں کا ذکر واضح کر رہا ہے کہ امت کے دل میں مسجد کا شوق کس قدر ہونا چاہیے۔ اور حضور کے معراج سے واپسی پر اللہ عزوجل کی طرف سے نمازوں کا تحفہ ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس تحفہ کی قدر کرتے ہوئے نمازوں کی پابندی کریں اللہ تعالیٰ ہمیں جملہ اوامر شرعیہ بالخصوص نماز پنجگانہ با جماعت کی ادائیگی کی توفیق بخشی ! آمین ثم آمین۔
