مدرسہ عربیہ مصباح العلوم جامع مسجد مہولی کے زیر اہتمام تحفظ اوقاف و تحفظ ناموس رسالت کانفرنس تزک و احتشام کے ساتھ منعقد 

سمریاواں، سنت کبیر نگر ( محمد رضوان ندوی ): مدرسہ عربیہ مصباح العلوم جامع مسجد مہولی میں ایک عظیم الشان کانفرنس بعنوان تحفظ اوقاف و تحفظ ناموس رسالت منعقد ہوئی جس کی سرپرستی مولانا ابو الحسن مظاہری استاذ مدرسہ معین الاسلام چھتہی صدارت مولانا ومفتی محبوب احمد قاسمی صدر مجلس ارشاد المسلمين بستی سنت کبیر نگر و نگرانی مولانا ندیم احمد ثاقبی استاذ عالیہ مدرسہ مصباح العلوم روضہ، قیادت مولانا عبد الواحد قاسمی بھگوتی پوری ناظم مدرسہ کاشف العلوم بھگوتی پور اور نظامت ڈاکٹر اطہر حسین رحمانی حقی ہومیوپیتھی مہولی نے انجام دیا۔ پروگرام کا آغاز مفتی عبدالمالک قاسمی امام مسجد فاران مہولی اور نعت و منقبت مولانا محمد وسیم قاسمی ندوی استاذ مدرسہ مصباح العلوم روضہ اور حافظ فیاض احمد پٹھان واڑی ممبئی نے پیش کرکے کیا۔

مفتی محبوب احمد قاسمی صدر اجلاس نے کہا کہ وقف املاک اللہ کی ملکیت اور بندوں کا حق ہے، وقف خالص مذہبی اور دینی عبادت ہے، وقف کی اہمیت اور اس کا مقام مذہب اسلام میں بہت بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملت اسلامیہ سیاسی یتیمی کا شکار ہے، ایسے موقع پر علماء کرام اور ہر ذی شعور کو سیاسی طور پر پیش قدمی کرکے ملک کی دوسری بڑی اکثریت مسلمانوں کی رہبری اور قیادت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مقرر خصوصی مولانا و مفتی تبریز عالم آرگنائزر دار القضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ اسلام کی عبادات دو طرح کی ہیں ایک بدنی اور ایک مالی۔ بدنی عبادات زندگی کی آخری سانس تک رہتی ہے لیکن مالی عبادات کا تعلق مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، اور ہر انسان کو اس کا نفع اور اجر پہونچتا رہتا ہے۔ وقف یہ بھی مالی عبادات کا ایک حصہ ہے جو صدقے کی ایک شکل ہے، وقف کی ہوئی چیز نہ بیچی جاسکتی ہے اور نہ ہی ہبہ اور وراثت اس میں جاری ہوسکتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ وقف ترمیمی بل حکومت ہند کا مسلمانوں کی مذہبی آزادی چھیننے اور مسلمانوں کی املاک پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بند اقدام ہے۔

پروگرام کو مولانا محمد مستقیم قاسمی بلرامپوری ناظم مدرسہ مرکزی معراج العلوم چھتہی پوکھرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا نبی اکرم کی شان اتنی نرالی اور بڑی ہے کہ خدا خود نبی کا مدح خواں ہے، اور نبی اکرم کی محبت ایمان کا لازمی جزو ہے، محبت رسول کے بغیر آدمی خدا تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا ہے۔

اس موقع پر علماء کرام اور عوام الناس کا کثیر مجمع موجود تھا جس میں مولانا مبشر حسین ندوی منیجر مولانا علی میاں ندوی پبلک اسکول خلیل آباد، مفتی عبد التواب قاسمی، حافظ سمیع اللہ، مولانا حبیب اللہ حلیمی، مولانا شہاب الدین قاسمی، مولانا قمر الہدی قاسمی، مولانا انیس احمد ندوی، ابو الوفاء خان، نثار احمد، عبد السلام صدیقی، قاری نفیس احمد، ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی روپن، مولانا محمد حذیفہ مظاہری، ماسٹر محمد عارف، جنید احمد، مسیح اللہ انصاری، ڈاکٹر احمد مکین، ڈاکٹر نور الامین، ابو سعد، امجد سلمانی، معاذ احمد، عطاء اللہ، حاجی اختر عالم خان، منشی شفیع محمد، مقبول احمد، ماسٹر محمد یونس، حافظ ٘محمد عیسی کے نام قابل ذکر ہیں۔

پروگرام کے داعی مولانا محمد حسان ندوی ناظم مدرسہ مصباح العلوم مہولی نے تمامی مہمانوں کا استقبال و شکریہ کے ساتھ دونوں موضوع کا تعارف بھی پیش کیا_ پروگرام کا اختتام مولانا محمد مستقیم قاسمی بلرامپوری کی رقت آمیز دعا پر ہوا _

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے