سدھارتھ نگر: 14 ستمبر یوم ہندی اور 12 ربیع الاول کے موقع پر ادبی تنظیم "نئی آواز” کے زیر اہتمام ایک شعری نشست کا انعقاد ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ اور کیا گیا۔ جس میں ہندی اور اردو کی گنگا جمنی تہذیب دیکھنے کو ملا۔

پروگرام کا آغاز ادبی تنظیم ’’نئی آواز‘‘ کے اہم رکن اشفاق ابراہیم حیف کے کلام اور اشعار سے ہوا۔ واضح رہے کہ یکم ستمبر 2024 کو ان کی وفات ہو گئی تھی۔ جس پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

"وہ ہے تیرا عزیز تو مشکل گھڑی میں حیف،

تُجھ کو تیرے عزیز کے گھر جانا چاہیے۔

اس کے بعد مونس فیضی نے اپنے نعت پاک سے نشست کا آغاز کیا۔

خواب دیدار کی تعبیر بڑی پیاری ہے،

زا دیے طیبہ کی تنویر بڑی پیاری ہے۔

اس کے بعد نشست کو اپنے کلام سے سنگھشیل جھلک نے سنجیدگی بخشتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا۔

نیندوں کا ہرن ہو رہا ہے

شیگھر ملینگے پرن ہو رہا ہے

ہچکیوں میں وردھی جاری ہے

تمہارا اسمرن ہو رہا ہے۔

ریاض قاصد نے ماحول کو اور خوش گلوئی بخشتے ہوئے اپنے کلام سے اشفاق ابراہیم کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

کسی کے ساتھ جو بیتے تھے وہ لمحے یاد آتے ہیں۔

وہ گھر آنگن وہ دریچے یاد آتے ہیں۔

پنکج سدھارتھ نے اپنے قومی زبان کی نسبت سے اشعار پیش کیے۔

ہم کو گرو ہے اس بھاشا پر ہم کو لگتی پیاری ہے،

ہندی ہے هردے کی دھڑکن، ہندی جان ہماری ہے۔

 ایک بار پھر مونس فیضی نے یکجھتی کا مشور ه دیتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا۔

نفرتوں کے شعلوں میں دیش ہی نہ جل جائے،

بھائی چارہ پھیلاؤ مشورہ یہ میرا ہے۔

ہندی زبان کو جِلا بخشتے ہوئے شیو ساگر سحر نے بھی اپنے روایتی انداز میں اشعار پیش کیا۔

میگھ گگن کی چوما سا ہو نول پنج کی جگ آشا ہو،

ہے ونيتا تم دھرا سے امبر اسکند پریم کی پریبھاشا ہو۔

شاداب شبیری نے بھی اپنے مخصوص انداز میں اپنا کلام پیش کیا۔

دل کے زخموں کو اندمال نہیں،

پھر بھی ہم درد سے نڈھال نہیں۔

ہم نے جب کہ دیا ہاں تو ہاں

پھر نہیں کا کوئی سوال نہیں۔

آخر میں ڈاکٹر جاوید کمال نے بھی حب الوطنی سے تعلق ملک کے موجودہ حالات اور درد سے آشنا اشعار سامعین کی نذر کیے۔

ماؤں کی لوریوں سے آتی تھی جہاں نیندیں،

چڑیوں کی بولیوں سے کھلتی تھی جہاں آنکھیں۔

اب تم کو کیا دکھائیں اب تم کو کیا بتائیں۔

کیا ہو گیا چمن کو کیا ہو گیا وطن کو۔

نشست کی صدارت سینئیر ڈاکٹر کے پی پانڈے نے کیا اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر جاوید کمال نے انجام دیا۔

One thought on “بھائی چارہ پھیلاؤ مشورہ یہ میرا ہے”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے