سیرت النبی ﷺ کے موقع پر تعمیر ملت جلسے کا آن لائن کامیاب انعقاد

اقرا اسلامک اکیڈمی دینی و اسلامی تعلیم کا آن لائن مرکز کی جانب سے آن لائن گوگل میٹ پر ۱۶ ستمبر ۲۰۲۴ مطابق ۱۲ ربیع الاول سیرت نبیﷺ کے ضمن میں بعنوان ”تعمیر ملت جلسہ کا نعقاد ادارے کی بانی عرشیہ فردوس خان کی زیر صدارت عمل میں آیا۔ اس جلسے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جلسے کی نظامت کے فرائض محترمہ بے نظیر تنویر صاحبہ نے انجام دیئے۔ جلسے میں مہمانان خصوصی کی حیثیت نے رکن جماعت اسلامی آکولہ محترمہ اسماء تزئین صاحبہ” اور "پرنسپل جامعہ ریاض الصالحات حیدرآباد محترم جمیرا نشاط صاحبة نے شرکت کی ۔ ادارے میں زیر تربیت طلباء نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
جلسہ کا آغاز باقاعدہ قرآن کریم کی تلاوت سے ہوا کا جو ادارے ہذا کی زیر تربیت طالبہ عنایہ وسیم پٹھان نے کی۔ تذکیر بالقرآن گلشن فردوس نے پیش کیا۔ ذارعہ تبشیر نے حمد اور بزیمہ مریم نے نعت پاک اور محمد مصطفیٰ اور محمد رافع نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اسطرح معاویہ خان نے نبی کریمﷺ کا مشن اس عنوان پر تقریر پیش کی، اور شدہ عدین نے حجۃ الودع اور نبی پاکﷺ کی وفات کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام کے دوسرے سیشن میں شاہین صاحبہ تفسیر القرآن کی طالبہ نے سیرت کا تصور و پیغام کے عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ سیرت کے موضوع پر زنیرہ خان نے انگریزی زبان میں اپنے خیالات پیش کئے بعد ازاں ادارے کی کو آرڈینیٹر محترمہ رمضاء سلیم رفاقت خان نے ادارے کے اغراض و مقاصد اور رپورٹ پیش کرتے ہوئے سامعین کو بتایا کہ موجودہ دور میں جہاں دنیاوی علوم کو اس اعتبار سے سمجھنا لازم ہے کہ ان کے ذریعے انسان دنیاوی امور کو احسن طریقے سے سرانجام دے پاتا ہے، وہیں دینی اداروں کا کام ایسے علم کی ترسیل ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحی سے متعلق ہے۔ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ امت مسلمہ کا ہر بچہ دینی تعلیم سے آراستہ ہوں، ہر مسلمان کا عقیدہ اور عبادات درست ہوں، حلال و حرام کے درمیان تمیز کرنے والا ہو، اور اس کا نفس پاک ہو، اخلاق درست ہوں علم شرعی سے روشناس ہو، اور اسلامی کلچر کو فروغ دینے والا ہو، اور انہی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اقرا اسلامک اکیڈمی نے سات سال کی عمر سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کی تربیت کے لئے سہ ماہی کو رس کو اس طرح سے ترتیب دیا ہے کہ اس ایک طالب علم کی شخصیت کی بہترین تعمیر ہو سکے ۔
مزید رمضاء سلیم نے ادارے کے اس سہ ماہی نصاب کی تفصیل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہمار انصاب میں قرآن کی منتخب سورتیوں کی تفسیر جس میں سورۃ البینہ سے سورۃ الناس تک سورتیں موجود ہیں، قصص الا انبیاء عشرہ مبشرہ کے واقعات ، نماز وضو کے فرائض ، اخلاقیات و آداب، عقائد و ایمانیات ، موجود ہیں۔ جو ہفتے میں چار دن گوگل میٹ پر کلاس لی جاتی ہے اور ہر ہفتے ایک گوگل فارم پر ٹیسٹ لیا جاتا ہے، یہ مختلف بچز مختلف اوقعات میں چلتی ہیں۔ کورس کے اختتام پر طلباء کوای سرٹیفکیٹ بھی دیا جاتا ہے۔ اور اس کورس کو تقریبا گزشتہ تین ماہ میں پینتیس لڑکے لڑکیوں نے مکمل ترتیت حاصل کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے۔ اور پچس طلبہ زیر بیت ہیں ، اس کے علاوہ خواتین کی مکمل تفسیر کی کلاسیس بھی ہفتے میں پانچ دن لی جاتی ہیں جس پچس لڑکیاں اور خواتین تفسیر پڑھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی کو آرڈینیٹر رمضاء سلیم نے ادارے کی جانب سے اعلان کیا کہ جلد ہی نوعمر لڑکوں کے لئے بھی قرآن کی مکمل تفسیر کا کورس ادارہ شروع کرنے جا رہا ہے۔
بعد ازاں والدین نے انے تاثرات پیش کرتے ہوئے ادارے ہذا کے تعلق سے اطمینان کا اظہار کیا ، جو طلبہ نے تین ماہ کی تربیت حاصل کی ان کے والدین نے مزید ا گلے لیول کورس کی فرمایش کرتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ ہم آپ کے آن لائن کلاس سے بہت خوش ہیں۔ واقعی آپ نے اس کا حق ادا کیا۔ اور ہماری خواہش ہیں کہ اس کورس کے دوسرے لیول کی کلاس بھی شروع کی جائے ۔ صدر جلسہ عرشیہ صاحبہ نے اظہار تشکر کے دوران والدین کو تیقین دلایا کہ ان شاء اللہ وہ اس مشورے پر ضرور غور کریں گے۔
مہمانان خصوصی نے سامعین سے خطاب کیا محترمہ اسماء تزئین صاحبہ نے سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں تربیت اولاد روشنی ڈالتے ہوئے والدین سے کہا کہ، ہر انسان حضور ﷺ سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے کیونکہ ایسی کامل و جامع تعلیمات لیکر آنے والی ہستی جو اپنی زندگی میں ہر نوع اور ہر قسم، ہر گروہ اور صنف انسانی کے لئے ہدایت کی مثالیں اور نظیر رکھتی ہو وہی اس لائق ہے کہ اس اصناف وانواع سے بھری ہوئی دنیا میں عالمگیر اور دائمی رہنمائی کا کام انجام دے۔ مزید رسول ﷺ کے دور کی ماؤن کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اہل و عیال کی اصلاح کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ ابتداء سے ہی نو مولود کے قلب ودماغ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار ہوں ۔
مہمان خصوصی حمیراء نشاط صاحبہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ اور تکریم انسانیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ۔ عصر حاضر میں انسانی جان کی وہ حرمت ختم ہو رہی ہے، جو رسول اللہ ﷺ نے انسانوں کو عطا کی تھی، جنگی جنون میں مبتلا مما لک معصوم بچوں، عورتوں مردوں کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ اور انھیں اس بے رحمی کا احساس نہیں، معاشرے میں قتل اولادہ جنسی زیادتی عام ہے۔۔ جب کہ نبی کریمﷺ بیٹیوں کی پیدائش اور انکی پرورش پر جنت میں اپنی معیت کی بشارت دی ہے۔ ایک انسان کا بے جا قتل تمام انسانیت کا قتل قرار دیا، ایک انسان کی جان بچانے کو انسانیت کی جان بچانا ہے فرمایا۔
ایک مسلمان کے لئے اپنے بھائی کی جان، مال، عزت و آبرو پامال کرنا "حرام” قرار دیا۔ آپ عورتوں، غلاموں اور تیموں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید فرمائی ۔ زمانہ جاہلیت میں ان پر ظلم روا رکھا جاتا تھا، آج بھی اللہ ورسول کی تعلیمات سے غافل معاشرے میں یہی ظلم ہے۔ کسی کالے کو گورے پر کسی عربی و عجمی پر کو فخر نہیں بلکہ تم میں اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ جلسے کا اختتام صدر جلسہ عرشیہ فردوس خان کے اظہار تشکر سے ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے