ثمینہ رحمت
یہ کرشمے اجل کے دیکھو تو
اس مصیبت سے ٹل کے دیکھو تو
بات کرتے ہو کیوں گئے کل کی
مسئلے اگلے کل کے دیکھو تو
کتنے لوگوں کو مل گیا پانی
فائدے ایک نل کے دیکھو تو
میں ذرا تم سے قد میں چھوٹی ہوں
تھوڑا نیچے بغل کے دیکھو تو
اس کی راہوں میں جل کے دیکھ لیا
میری آنکھوں میں جل کے دیکھو تو
تم نے بدلا ہے پوری دنیا کو
میری دنیا بدل کے دیکھو تو
کیسی ہوتی ہے عشق کی تہمت
منہ پہ کالک کو مل کے دیکھو تو
ہر نوالے سے زہر نکلے گا
میرے ٹکڑوں پہ پل کے دیکھو تو
سب تمھارے خلاف بولیں گے
حق کے رستے پہ چل کے دیکھو تو
ڈھلتے آئے ہو اس کے آنگن میں
میرے آنگن میں ڈھل کے دیکھو تو
کیسے اٹھتی ہے پاس سے دنیا
تھوڑا پہلو بدل کے دیکھو تو
دل مچلتا ہے جن کھلونوں کو
ان سے اک دن مچل کے دیکھو تو
میں لبھاتی ہوں کیسے دل تیرا
تھوڑا مجھ سے بہل کے دیکھو تو
