منصور قاسمی کی خصوصی رپورٹ
ریاض: سعودی عربیہ کے۹۴واں یوم الوطنی کے موقع پر گلف اردو کونسل ریاض کے زیر اہتمام ایک شاندار اور پروقارآن لائن مشاعرہ منعقد کیا گیا ، جس میں سعودی عرب، قطر، دبئی، عمان اور کویت کے شعراء کرام نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرخورشید علیگ(بحرین) نے کی؛ جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے منفرد لب و لہجہ کے شاعر اور کئی کتابوں کے خالق باقی احمد پوری (پاکستان) اور ڈاکٹرسعید روشن (ہندوستان) شریک رہے۔ نئی نسل کے نمائندہ شاعر حسان عارفی (ریاض) نے اپنے مخصوص انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ منصور قاسمی کی نعت پاک سے باضابطہ مشاعرے کا آغاز ہوا۔
واضح رہے کہ گلف اور ہند و پاک کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے باذوق اور سخن فہم سامعین کی ایک بڑی تعداد اپنی اپنی قیام گاہوں سے اس مشاعرہ سے محظوظ ہو رہی تھی ۔ اختتام پر گلف اردو کونسل ریاض چیپٹر کے رکن، سہ ماہی نقیب الخلیج کے ایڈیٹراوراس مشاعرہ کے کنوینر منصور قاسمی نے تمام شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس مشاعرہ کو برپا کرنے والے ڈاکٹر افروز عالم تھے، جبکہ پاکستان سے کامران عثمان ٹیکنیکل ذمہ داری بخوبی نبھا رہے تھے ۔ قارئین کے لئے منتخب اشعار پیش ہیں:
چاہت کا فلک پر جو مہتاب نکل آئے
ہم ہجر کے ماروں کی تقدیر بدل جائے
انیس احمد (جدہ)
مجھے حوادث نے رفتہ رفتہ ہنر سکھائے ہیں زندگی کے
میں غم کی تاریک راہ گزر میں وفا کی شمع جلا رہا ہوں
حکیم اسلم قمر ( الہفوف)
رات کی صورت کا لی ہے راحت دینے والی ہے
آخری کش سگریٹ کی اور چائے کی پیالی خالی ہے
خورشید الحسن نیر (ریاض)
ڈرتا ہوں کہ سویا ہے جو طوفاں مرے اندر
اک درد کی ٹھوکر سے کہیں جاگ نہ جائے
حسان عارفی( ریاض)
شب تاریک اتر آئی ہمارے آنگن
کس کے گھر اترا ہے مہتاب نہ پوچھو ہم سے
منصور قاسمی (ریاض)
اب بحر و بر سے دیکھو شام و سحر سے دیکھو
آواز آ رہی ہے شمس و قمر سے دیکھو
یوم الوطن مبارک ، یوم الوطن مبارک
( نور جمشیدپوری)
میں کسی روز تجھے خواب میں چھو لوںلیکن
تیری خوشبو میری سانسوں میں اتر آئے تو ؟
سلیم کاوش(ریاض)
ایسا نہیں کہ گل کے ہی سائے میں ہم رہے
پر خار راستے پہ بھی تحریر کی غزل
سعید نظر (کویت)
دیکھ کر عکس اپنی آنکھوں کا
سارے تالاب کو شراب نہ کر
سہیل اقبال ( ریاض)
عدو سے اس لئے ملتا ہوں ہنس کے میں فیاض
کہ اس ادا سے عداوت کو مار سکتا ہوں
فیاض وردگ(کویت)
شام ہوتی ہے تو ہم گھر سے نکل جاتے ہیں
اور کچھ دیر کو غم گھر سے نکل جاتے ہیں
( باقی احمدپوری)
ہزاروں فلسفی سمجھے نہ دانشور سمجھ پائے
یہ جیون اک معمہ ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
( ڈاکٹر سعید روشن )
اپنے وطن سے دور عرب کے جہان میں
الفت کے گیت گائیں گے اردو زبان میں
خورشید علیگ(بحرین)
