جلسہ تفویض ’’محب اردو کارنامہ حیات ایوارڈ‘‘ سے محترمہ کنیز فاطمہ ایم ایل اے گلبرگہ کا خطاب

گلبرگہ۔30؍ستمبر 2024: (محمدیوسف رحیم بیدری): اردو ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کی گراں قدر خدمات کا اعتراف، ان کی حیات میں کیا جانا قابل قدر اور خوش آئند قدم ہے۔ان خیالات کا اظہار محترمہ کنیز فاطمہ ایم ایل اے کلبرگی (شمال)،چیئرپرسن کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن بنگلور نے محبانِ اردو گلبرگہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ میں محبانِ اردو گلبرگہ کا اولین محبِ اردو کارنامہ حیات ایوارڈ برائے 2024،اردو کی ممتاز و معتبر ادیبہ اورڈاکٹر حلیمہ فردوس کو تفویض کرنے کے بعد کیا۔انھوں نے ڈاکٹر حلیمہ فردوس کی علمی، ادبی، تعلیمی اور تدریسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلبرگہ کے علمی و ادبی گھرانے کی چشم و چراغ ڈاکٹر حلیمہ فرودس نے نہ صرف اپنی شناخت بنائی بلکہ گلبرگہ کے نام کو روشن کیا ہے۔انھوں نے مزید کہ دو ماہ قبل ہی میں نے محبانِ اردو کا افتتاح کیا تھا، اتنی قلیل مدت میں اردو سرگرمیوں کے انعقاد کے ضمن میں جس فعالیت کا ثبوت دیا ہے وہ لائق ستائش ہے۔

اس موقع پر ادیب، ناقد و شاعر مرحوم خالد سعید کی نظموں کی کتاب ‘تارا تارا نظمیں’ اور ڈاکٹر حلیمہ فردوس کے خاکوں کا مجموعہ ‘اجالے یادوں کے’ کی رسم اجرا بالترتیب ممتاز انشائیہ نگار اور ادیب اطفال ڈاکٹر محمد اسد اللہ (ناگپور) اور پروفیسر آمنہ تحسین، صدر شعبہ تعلیم نسواں، مانو، حیدرآباد کے ہاتھوں انجام پائی۔ڈاکٹر محمد اسد اللہ نے ڈاکٹر حلیمہ فردوس کی خاکہ نگاری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاکوں پر انشائیہ نگاری کا رنگ غالب ہے اور ژرف نگاہ خاکہ نگار نے اصحاب خاکہ کے ظاہر و باطن کو بڑی عمدگی سے اپنے خاکوں میں سمیٹا ہے۔خالد سعید کی نظموں کے تعلق سے انھوں نے کہا کہ یہ نظمیں یقیناً ادب اطفال کے خزینے میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں کہ ان میں روایتی ناصحانہ طرز کے بجائے کھیل کود، قدرتی مظاہر، موسموں اور جانوروں کے موضوعات کے ذریعے بچوں کی ذہنی و فکری نشوونما کی سعی ملتی ہے۔پروفیسر آمنہ تحسین نے اظہار خیال سے قبل اوّلین محبِ اردو کارنامہ حیات ایوارڈ کے لیے ایک خاتون کے انتخاب اور ایک خاتون کے ہاتھوں ہی اسے تفویض کیے جانے پر محبانِ اردو کی ستائش کی اور اسے عورتوں کی قدر شناسی کی بے نظیر مثال سے تعبیر کیا۔انھوں نے ڈاکٹر حلیمہ فردوس کی خاکہ نگاری کے تعلق سے کہا کہ یہ خاکے اصحاب خاکہ کی شخصیت کے ہی نہیں بلکہ تہذیبی و معاشرتی عوامل کے آئینہ دار ہیں۔ علاوہ ازیں ان میں بدلتی تہذیب اور قدروں کے رنگ بھی ملتے ہیں۔

ڈاکٹر انیس صدیقی نے کہا کہ حلیمہ فردوس نے اپنے خاکوں کے تانے بانے اصحاب خاکہ سے وابستہ یادوں سے بنے ہیں۔ان میں انشائیوں کی شگفتگی اور لطافت بیانی پائی جاتی ہے اور مبالغہ آرائی کی جگہ معروضیت کا عنصر نمایاں ہے۔ ڈاکٹر غضنفر اقبال نے خالد سعید کی نظموں کی کتاب ‘تارا تارا نظمیں’ کے حوالے سے خالد سعید کی بچوں کی نظم نگاری کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان نظموں کی زبان اور ان میں پائی جانے والی سلاست اور نغمگی بچوں کی دلچسپی اور ذہنی استعداد کے مطابق ہے۔ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین صدر محبانِ اردو نے خالد سعید، جناب ملنسار اطہر احمد اور ڈاکٹر حلیمہ فرودس سے اپنے دیرینہ مراسم کے حوالے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اہل گلبرگہ، دنیا میں جہاں کہیں بھی رہیں، گلبرگہ سے ان کی محبت اور دل بستگی میں کمی نہیں ہوتی۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ برسوں سے بنگلور میں مقیم ڈاکٹر حلیمہ فردوس نے اپنی کتاب کی رسم اجرا کے لیے شہر گلبرگہ کا انتخاب کیا۔ڈاکٹر حلیمہ فرودس کے اظہار خیال سے قبل، جناب چاند اکبر کی زیر ادارت، مقبول برقی مصور روزنامہ ‘گھومتا آئینہ’ کا ڈاکٹر حلیمہ فردوس کے نام معنون خصوصی شمارے کا اجرا بھی عمل میں آیا، جس میں ان کی حیات و خدمات پر مشتمل تحریریں شامل ہیں۔ڈاکٹر حلیمہ فردوس نے اپنے اظہارِ خیال میں کہا کہ دنیائے شعر و ادب میں انھیں جو بھی مقام و مرتبہ حاصل ہوا ہے، وہ محض ان کے والدین کی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔انھوں نے اس جلسے کے انعقاد کے علاوہ محبِ اردو کارنامہ حیات ایوارڈ کے لیے ان کے انتخاب اور قدر افزائی کے لیے محبانِ اردو کے تمام عہدیداران کا شکریہ ادا کیا۔

جلسے کی کارروائی کا آغاز مولوی مظہر احمد گرمٹکالی کی قرات کلام پاک سے ہوا۔جناب سید طیب علی یعقوبی نے نذرانہ نعت پیش کیا۔جناب خواجہ پاشاہ انعام دار نائب صدر نے مہمانان و حاضرین کا خیر مقدم کیا۔جناب عارف مرزا شریک معتمد نے مہمانوں کا تعارف کروایا۔ڈاکٹر شمس الدین چودھری خازن نے، ڈاکٹر حلیمہ فردوس کی علمی، ادبی، تعلیمی و تدریسی خدمات پر محیط، ڈاکٹر انیس صدیقی کا قلمبند کیا ہوا سپاس نامہ پڑھا۔جلسے کی نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے جناب ملنسار اطہر احمد،سابق اسٹیشن ڈائریکٹر، آل انڈیا ریڈیو بنگلور نے انجام دئیے۔اس پر مسرت موقع پر اعزا و اقارب نے ڈاکٹر حلیمہ فردوس کی بہ کثرت گل پوشی کی گئی۔جناب محمد مجیب احمد نائب صدر کے اظہارِ تشکر پر یہ فقیدالمثال جلسہ اختتام پذیر ہوا۔اس بات کی اطلاع ڈاکٹر غضنفر اقبال گلبرگہ نے دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے