اشٹور کی جامع مسجد (بہمنی) میں جناب اقبال الدین انجینئر کا خطاب

بیدر۔ 4؍اکٹوبر(محمد یوسف رحیم بیدری): عقیدہء ختم نبوت کے موضوع پراشٹور کی جامع مسجد (بہمنی) میں خطاب کرتے ہوئے جناب اقبال الدین انجینئر نے بتایاکہ سورہ ء احزاب میں اعلان فرمایاگیاکہ آپ ﷺْ خاتم النبیین ہیںاورمردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں۔ ہماراعقیدہ ہے کہ پہلے رسول نوح ؑہیں اور آخری رسول محمد ﷺ ہیں۔ اور دونوں کو رسالت کی ایک ہی ذمہ داری دے کر مبعوث کیاگیاتھاجس کا ذکر قرآن میں ہے کہ ’’حق بات کہنے ، خوشخبری سنانے اور ڈرانے والے بناکر بھیجاگیاہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر کہاکہ انبیاء کی مثال اسی طرح ہے جیسے ایک خوبصورت محل ہو، لوگ دیکھ کر بے انتہاخوش ہورہے ہوں لیکن اُن کے دل میں یہ خیال بھی آرہاہوکہ ایسے خوبصورت محل کومکمل ہونے کے لئے ایک اوراینٹ لگانے کی ضرورت ہے۔ اور وہ اینٹ آپ ﷺ ہیں۔ جس کے بعد محل مکمل نظر آرہاہے۔ اور ایک موقع پر آپ ﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ سے کہاکہ اے عمرؓ، تمہاری بصیرت نبیوں والی ہے مگر خبردار میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

9؍ہجری کو تبوک کے سفر کے لئے تمام صحابہؓ کو آپ ﷺ نے اپنے ساتھ (جنگ پر) چلنے کے لئے ضروری قرار دیا۔ اور آپ کے سفرسے واپسی تک مدینہ کی نگرانی کے لئے آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو امیرمقررفرمایا۔ جس پر حضرت علی ؓ نے پیارے نبی کریم ﷺ سے فرمایاکہ میں بھی ساتھ چلوں گا کیوں کہ پچھلی ہرمہم میں آپ مجھ کوآگے آگے دیکھتے تھے۔ تو آپ ﷺ نے جواب دیاکہ خبردار، اے علیؓ، میں نے جوفیصلہ کیاہے وہ مناسب ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اللہ نے تمہیں علم وفراست وبہادری میں نبیوں جیسے صفات دئے ہیں مگر خبردار کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

حضرت معاذبن جبلؓ کو آپ ﷺ نے یمن کاگورنر نامزد کرکے رخصت کرتے ہوئے فرمایاکہ دیکھوقرآن اور سنت کے حساب سے فیصلے کرنا ، اور قرآن وسنت کی روشنی ہی سے اجتہاد کرنا۔ 10ہجری میں حجتہ الوداع کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ میں یہ آیتیں نازل کردیں کہ اللہ نے دینِ اسلام کو پسند فرمالیا۔ اب زندگی گزارنے کاصرف یہی ایک طریقہ ہے جس کے حساب سے جنت اور جہنم کافیصلہ ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ جب تک ہم مومن نہیں ہوسکتے ، جس نے میرے لائے ہوئے دین کے حساب سے زندگی نہ گزارے ۔ اور ایک موقع پرآپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ اور ایک انگلی ہاتھ کھول کربتائی کہ میرے اور قیامت کے بیچ اتناہی فاصلہ ہے۔ یعنی قیامت تک کے لئے صرف آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرناضروری ہے۔ جوشخص بھی کلمہ ء طیبہ کے اقرار سے اسلام میں داخل ہوتاہے اور اس کے اقرار کرتے ہی ہمیں دِل میں بھی یہ کہناچاہیے کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ ورنہ جس کسی نے ایسی بات کااقرار نہ کیا وہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں تمام فتنوں سے محفوظ رکھے ۔ یہاں تک کہ کانا دجال کے فتنہ سے بھی ۔ اے اللہ ، ہم مجبور ہیں تو ہم پررحم فرما، کرم فرما۔ ہماری زندگی اسلام پر قائم رکھ اور ہماری موت ایمان پرکرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے