کلبرگی 9 / اکتوبر (محمدیوسف رحیم بیدری): تاریخ وہ بیش بہا خزانہ ہے جس کی واقفیت سے انسان اپنے ماضی کے تجرباتی احوال کی رہنمائی سے حال کو خوش گوار اور مستقبل کو روشن کرسکتا ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے خواجہ بندہ نوازؒ ایوان اردو میں آج انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے زیرِاہتمام ” آرٹیکل 371 (جے) کی خصوصی مراعات” کے زیرِ عنوان منعقدہ توسیعی لکچر سے قبل ڈاکٹر لکشمن دستی و دیگر کا اجلاس میں خیر مقدم کرتے ہوئے کیا. انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ مقدس قرآن مجید کائنات کی وہ آسمانی کتاب ہے جس میں انسانی زندگی کے تمام شعبہ ہائے حیات کی مکمل تاریخ اور ایک پرفکٹ ضابطہ حیات ہے جس میں تاریخ، فلسفہ، سائنس، دستورِ حیات و دیگر علوم موجود ہیں اور اس کی تلاوت، اس کا پڑھنا، اس کی تَشْرِیحات و تَوضیحات کے ساتھ مُفَصَّل جانکاری و عمل انسانوں کے لئے دنیا و آخرت میں خوش حالی کا باعث ہے.
انہوں نے تاریخ اور دستور کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگی کے لئے قرآن مجید سے تاریخ اور قانون و دستور کی جانکاری کی اَہْمِیَت و اِفَادِیت واضح ہے. انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ جانتے ہیں قرآن مجید میں انبیاء کے حالات اور ان کے دَور کا عِلم موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں تاریخی واقعات کو بیان کیا ہے جس سے بنی نوع انسان کو نبیوں کی گُزْری ہوئی زندگی اور اُن کے اقوام، تہذیب و تمدن اور اس دَور کے عُلوم کا پتہ چلتا ہے. انہوں نے کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تاریخ و دستور کی جانکاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ و دستور اور اصولِ زندگی کے بغیر کوئی قوم کوئی نسل کوئی انسان مکمل نہیں ہے بلکہ تاریخ اور دستور کے بغیر دنیا کا ہر علم بے فیض معلوم ہوتا ہے۔
تاریخ کو مختلف سوانح عمریوں کا نچوڑ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ در اصل سوانح عمریوں کا نچوڑ ہے جس سے حاصل مفید تجربات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے. انہوں نے کہا کہ تاریخ مختلف ادوار کے تہذیبی، ثقافتی اور سماجی کردار کے تقابلی جائزہ سے ہمیں مفید و کارآمد رہنمایانہ تجربات کے ذریعے جرات مندی کا جذبہ عطا کرتی ہے اور لازمی ہے جس معاشرے کو اپنی تاریخ کا علم ہوگا وہی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
انہوں نے تاریخ سے بے بہرہ قوم پر ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ جو قوم تاریخ، دستور اور ضابطوں سے بےخبر ہوگی وہ بے بس ہوگی اور جو قوم بے بس ہوگی لازماً وہ ہمیشہ معاشرے کے رحم وکَرم پر ہوگی زمانہ اس کے ساتھ اِسْتِحصال کریگا، جیسا چاہے سلوک کریگا ، ظلم و ستم ڈھائے گا۔ جس کے تدارک کا واحد علاج تاریخ اور دستور سے واقفیت ہے. انہوں نے کہا کہ آج کے اس اجلاس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی تاریخ کے علاوہ اس علاقہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم تحریکات کے پس منظر کے ساتھ ساتھ علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو آرٹیکل 371 (جے) کے تحت تعلیم، روزگار، پروموشنس اور دیگر شعبوں میں حاصل خصوصی مراعات و حقوق سے واقف ہوں ، تاکہ ہم میں سے کسی کے ساتھ کوئی نا انصافی ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھائی جاسکے اور ہر حال میں اپنے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے.
اس موقع پر صدر اجلاس ڈاکٹر اکرم نقاش صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ ،ڈاکٹر وہاب عندلیب سابق صدرنشین کرناٹک اردواکیڈمی بنگلور ، جناب امجد جاوید موظف پرنسپال نیشنل پی یو کالج گلبرگہ،ڈاکٹر منظور احمد دکنی لیکچرر شعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی، نائب صدر انجمن ڈاکٹر ناصب قریشی و دیگر موجود تھے.
