سہارنپور( احمد رضا): قابل احترام شخصیت سر سید احمد خان رح کے يوم پیدائش پر کل یہاں مشہورِ تعلیمی ادارے الا مین اسکول میں سر سید احمد خاں کی زندگی اور انکی اعلیٰ خد مات پر ایک مذاکرہ منعقد کیا گیا جسمیں مہمان خصوصی اسلامیہ انٹر کالج کے سابق پرنسپل جناب جلال عمر رہے آپنے اس موقع پر سر سید احمد خان رح کی حیات مبارکہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ سر سید جدید تعلیم کے بانی اور ایک عہد ساز شخصیت تھے اور دنیا میں ہونے والی خوشگوار تبدیلیوں کو قبول کیا اور جو مسلم معاشرے میں تعطل تھا اسکو دور کیا سرسید خوشنصیب تھے کہ تعلیمی مشن کو اگے بڑھانے کے لیے انہیں اچھے رفقاء ملے سرسید نے سیکولرزم کی بات اس وقت کی جب لوگ اس سے ناآشنا تھے گیسٹ اف آنر ڈاکٹر شاہد زبیری نے کہا کہ مسلمانوں میں جہالت بے روزگاری اور اندھیرے کو دور کرنے کے لیے سر سید نے ایک تحریک شروع کی ماڈرن تعلیم کی تحریک یہ دن ایک عظیم شخصیت اور اس کے وزن اس کی لگن اور اس کی قربانیاں اور خدمات کے اعتراف کا دن ہے حسن کاشفی نے کہا کہ ہندوستان میں جتنی بھی اصلاحی تحریکیں ہوئیں علی گڑھ تحریک ایک بہت بڑی تحریک تھی جس کا اثر دیرپا اور دورتک ہوا نے کہا کہ لندن جا کر سرسید نے وہاں کی تہذیب اور تعلیم کا تعلیم کا جائزہ لے کر یہاں بھارت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام کیا صدارت کر رہے عابد حسن وفا نے کہا کہ ایک عظیم شخصیت کی پہچان یہ ہے کہ وہ ایسی میراث چھوڑتا ہے جو وقت کے ساتھ جامد نہیں رہتا بلکہ ان کے جانشین اس پر مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں سر سید نے یہی وزن معاشرے کو دیا۔
پروگرام کنوینر ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ نے کہا کہ سر سید نے مسلمانوں کو تقلید اور توہم پرستی اور تنگ نظری سے نکالنے کی ہتی المقدور کوشش کی اور نامساعد حالات میں سائٹفک سوسائٹی قائم کی اور سائنٹیفک سوچ پیدا کی اور جدید تعلیم کی طرف نہ صرف توجہ دلائی بلکہ جدید تعلیم کے لیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ جیسے ادارے کی بنیاد رکھی لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ماحول بننا شروع ہوا سلمان تھانوی الامین اسکول نے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے سرسید کی پوری زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ 1857 کے نتیجے میں مسلمانوں میں پیدا ہونے والی شکست خوردگی اور قنوطیت سے باہر نکالنے کے لیے بڑی جدوجہد کی اور عملی اقدامات کیے اور تعلیم کے ہتھیار سے مسلمانوں کو اگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
ریچرچی انگلش اسکول کی پرنسپل خدیجہ توقیر اور شبانہ نے کہا کہ سرسید نے اپنے رسالے تہذیب الاخلاق کے ذریعے مسلمانوں میں تعلیمی اور سماجی بیداری پیدا کی شبانا اور خدیجہ توقیر خواجہ افنان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اس موقع پر نصرت پروین نے بچوں کے بیچ میں سر سید کوئز کا انعقاد کیا گیا اور سر سید کے حیات اور خدمات کے بارے میں بچوں سے سوالات کیے گئے جن بچوں نے صحیح جواب دیے ان کو پرچم کی طرف سے انعامات سے نوازا گیا پروگرام میں شریک ہونے والوں میں بشرا پروین افسرہ، نشا ،منتشا رحینا افرا روبی شمائلہ، انشا عظمٰی اور بڑی تعداد میں الامین اسکول کے ٹیچرز اور بچے موجود رہے!
