Oplus_131072

سہ روزہ بین الاقوامی سمینار کا آنکھوں دیکھا حال

 

از: ڈاکٹر محمد ناظم علی
سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج و اکیڈیمک سینٹ ممبر تلنگانہ یونیورسٹی

شعبہ عربی ویمنس یونیورسٹی کوٹھی کے زیراہتمام سہ روزہ بین الا قوامی سمینار بعنوان آصف جاہی دور حکومت ایک جائزہ ،(منظور شدہ تلنگانہ کونسل آف ہائر ایجوکیشن ) کا 8 تا 10 ؍ اکٹوبر 2024ء کامیاب انعقاد عمل میںآیا ۔ اس سمینار کا افتتاحی اجلاس ٹھیک 10:30 بجے پروفیسر پرمادا دیوی سمینار ہال پی جی بلاک میں ڈاکٹر ابوبکر صدیق لکچرر عربی سٹی کالج کی قرأت کلام سے آغاز ہوا ۔ پروفیسر خالداطرش ،نامور اسلامک اسکالر سیریا مہمان خصوصی تھے ۔ پروفیسر سید جہانگیر صدر شعبہ عربی و سابق ڈین عرب اینڈ ایشین اسٹڈیز انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آصف جاہی خاندان کے بادشاہوں کے کارنامے وقیع و سیع اور ارفع ہیں ۔ محبوب علی پاشاہ ، عثمان علی پاشاہ نے اردو تعلیم کے کئی ادارے قائم کئے ۔ دائرۃ المعارف عثمانیہ آصف جاہی سلاطین کا عربی زبان کی نشر واشاعت کیلئے قائم کردہ ایک جیتا جاگتا شاہکار ہے جس نے نہ صرف حیدرآباد دکن بلکہ سارے ہندوستان کا عرب دنیا کے اندر نام روشناس کروایا ۔ اس کے علاوہ ان بادشاہوں نے فارسی زبان کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ۔ ان کے قائم کردہ اسکول آج بھی کامیابی سے چل رہے ہیں ۔ حیدرآباد کے بادشاہوں کے کارناموں و شہرت سے متاثر ہوکر کئی عرب ممالک کے باشاندگان نے دکن کا رخ کیا اور یہی پر بود و باش اختیار کی۔ ان بادشاہوں کی زندگی کا اہم مقصد انسانیت کی خدمت تھی ۔وہ نہ صرف رعایا پرور تھے بلکہ اپنی عوام کیلئے غمگسار و ہمدرد بھی تھے ۔ تمام طبقات کے خدمت گار تھے ۔ انہوں نے منادر کیلئے نہ صرف فراخ دلانہ مالی امداد دی بلکہ کئی منادر تعمیرات کروائے ۔ میر عثمان علی خان کہتے تھے کہ ہندو اور مسلم میرے دو آنکھیں ہیں ۔ انہوں نے شہریوں کے ساتھ بلا لحاظ مذہب و ملت یکساں سلوک اور روا رکھا ۔ ان کو رستم دوراں ۔ ارسطو زماں ۔ آصف جاہ ۔ مظفر الملک ۔ نظام الملک ۔ نظام الدولہ۔ صدیقی ۔ بہادر ۔ فتح جنگ۔ سلطان العلوم وغیرہ کہا جاتا تھا ۔ سرکار ۔ اعلیٰ حضرت حضور نظام بھی کہا جاتا تھا ۔ ان کی عوامی خدمت کا جذبہ بہت زیادہ تھا ۔ ان کے کارناموں کا فیض آج بھی حکومت اور عوام حاصل کررہی ہے اس اجلاس میں 2022ء میں منعقدہ بین الا قوامی سمینار ، بعنوان مولانا ابوالکلام آزاد : جدید ہندوستان کے معمار ، میں پیش کردہ مقالہ جات کی رسم اجرائی عمل میں آئی جس کو ڈاکٹر سید شجاع الدین قادری صدر شعبہ عربی نے ترتیب دیا ۔ معززمہمانان کو مومنٹوزگلدستہ اور شال پوشی کی گئی ۔ سرسوتی میڈیم اسپیشل آفیسر نے انجام دیئے ۔ ڈاکٹر شجاع الدین قادری صدر شعبہ عربی ویمنس یونیورسٹی کوٹھی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ عربی کی جانب سے یہ آٹھواں سمینار ہے ۔ مندوبین مہمانوں خصوصی سامعین کی آمد شرکت پر ان کا شکریہ و استقبال کیا گیا ۔ ڈاکٹر سید انعام الرحمن نیوز فری لانس جرنلسٹ الکٹرانک و پرنٹ میڈیا مہمان اعزازی نے خطاب میں کہا کہ آصف جاہی خاندان کی حکومتکا قیام 1724ء عمل میں آیا۔اور 1948ء میں اختتام پذیر ہوا ۔ ان 224 سالہ دور حکمرانی میں آصف جاہی بادشاہوں نے فراخ دلی سے عوامی فلاح و بہبود کے بے مثال کارنامے انجام دیئے ۔ ان کے دور میں رعایا خوشحال تھی۔ انگریزی رسیڈینسی کیلئے دربار ہال کوٹھی کا پورا علاقہ دیا گیا وہاں ایک انگریز کلکٹر انچارج ہوتا تھا ۔ میر محبوب علی خان ، میر عثمان علی خان کے تعلیمی ، علمی ، تعمیری ، ثقافتی ، تہذیبی ، طبی ، آبپاشی کے کارنامے ان گنت ہیں ۔ وہ بے مثال مثالی قابل تقلید بادشاہ تھے ۔ تاریخ میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا مورخین تاریخ داں وی ڈی مہاجن اور تاراچند نے بھی ذکر کماحقہ نہیں کیا ۔ پروفیسر سید علیم اشرف جائیسی صدر شعبہ عربی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شجاع الدین عزیز اور ان کے رفقاء کار نے 15 سالوں سے کامیاب سمینار منعقد کرتے آرہے ہیں جب میں لیبیا میں تھا تو دائرۃ المعارف ادارہ کی شہرت سے متاثر ہوکر لوگ مجھ سے پوچھتے تھے ۔ اس علمی ادارہ کی شہرت و مقبولیت دنیا میں مشہور تھی ۔ میر عثمان علی بادشاہ نے 5000 کیلو سونا Donation دیا تھا ۔ ہند کے تعلیمی اداروں کی مالی امداد کی تھی ۔ تاریخ میں مامون رشید کو جو خطاب سلطان العلوم کا ملا تھا عثمان علی بادشاہ کو بھی تعلیمی ، علمی ، ادبی خدمات پر کئی اور خطابات کے علاوہ سلطان العلوم کا خطاب حاصل ہوا تھا ۔ کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی ممتاز سماجی جہد کار و دانشور نے کہا کہ میں حیدرآباد دکن میں 75 سال سے ہوں اور یہاں کی تہذیب و تمدن اورآصف جاہی بادشاہوں کے کارنامے دنیا میں شہرت رکھتے تھے۔ ان بادشاہوں کی وجہ سے تلنگانہ اور ہندوستان مضبوط و ترقی حاصل کرسکا ۔ اس خاندان کے سات بادشاہ قمرالدین خان ، نظام علی خان ، سکندر جاہ ناصر الدولہ ، افضل الدولہ ، محبوب علی خان ،میر عثمان علی خان آج بھی تلنگانہ کے عوام کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں ۔ عوام انہیں نہیں بھولیںحکومتیں ان کے کارناموں و خصوصیات کا حوالہ جمہوری دور میں کرتی ہیں لیکن ان کو تاریخ میں مستحقہ مقام نہیں ملا۔
تلنگانہ کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔ مورخین انصاف کریں ۔ پولیس ایکشن کے ذریعہ آصف جاہی سلطنت کی شبیہہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کو آج بھی عوام دل سے چاہتے ہیں ۔ سلاطین آصفیہ حقیقی حکمراں تھے ان کے بغیر دکن کی تاریخ کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتی ۔ ڈاکٹر اے کے گوئل آئی اے ایس ریٹائرڈ پراجکٹ کوآرڈی نیٹر تلنگانہ نے کہا کہ احمد نگر کی چاند بی بی کی بھانجی ماہ لقا چندا بائی تھیں بہت حسین و جمیل خوب صورت خاتون تھی ۔ وہ ماہر موسیقی ، خطاطی اور علمی و کتب کی دلدادہ تھی ۔ کتب خانے قائم کی ، تعلیمی اداروں کے لئے اپنی ذاتی زمین جامعہ عثمانیہ نامپلی گرلز کالج کودے دی۔ آج وہاں کئی تشنگان علم حصول تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ خاتون 1764ء میں پیدا ہوئی وہ شاعرہ بھی تھی ۔ حیدرآباد محبت کا شہر ہے یہاں عوام میں محبت و الفت آج بھی باقی ہے۔ پروفیسر خالد اطرش کویت یونیورسٹی نے کہا کہ سمینار طلبہ و اسکالر کیلئے مفید ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سمینار کے ذریعہ ان کو بہت کچھ سیکھنے اور آصف جاہی حکمرانوں کے عظیم الشان کارناموں کو سمجھنے کا موقع ملا ۔ خاص طور پر تعلیمی میدان میں ان کی خدمات ایک سنہرا باب ہے ۔ بادشاہت کے دور میں بے مثال علمی و فلاحی کام انجام دیئے گئے ۔علم کوششوں محنت ریاضت سے حاصل ہوتاہے ۔ علم کے بغیر انسان کا کوئی مقام نہیں ۔ سماج میں اگر کچھ مقام و مرتبہ حاصل کرنا ہے تو زیور تعلیم سے آراستہ ہونا ضروری ہے ۔ تعلیم ہی انسان کی شخصیت میں نہ صرف انقلاب لاتی ہے بلکہ نکھار بھی پیدا کرتی ہے اور ظہرانہ کے بعد 2 تا 3:30 بجے پہلا اکیڈیمک سیشن منعقد کیا گیا جنہیں پروفیسر ایس ایم عزیز حسین اعزازی ، پروفیسر سنٹر فار اردو لکچر اسٹڈیز مانو نے آصف جاہی حکمراں اور تعلیم نسواں۔ ڈاکٹر جاوید ندیم مانو ، الملمکۃ الاصفیہ و دور ھافی نشیط العلم والاء ڈاکٹر محمد شہاب الدین سبیلی آبرزالابخازات لامحاکم السابع الا حیدرآباد میر عثمان علی خان ، ڈاکٹر انظر احمد الندوی ، التسامح الدینی و التعایش السلیمی فی العصر الاصفجاہی ۔ اس کے بعد سکنڈ اکیڈیمک سیشن میں ، ڈاکٹر فرحت علی مانو دی لیکس آف میر عثمان علی خان، آصف جاہ سابع اور دی ٹرانسفارمیشن آف حیدرآباد ، ڈاکٹر اے سبھاش مانو 1869ء تا 1948ء آصف جاہی کی سرگرمیاں شکار گاہ کی تفصیلات پیش کی ۔ ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے مذہبی رواداری آصف جاہی دور میں ، ڈاکٹر دردانہ شاہین میر عثمان علی کے دور میں اردو زبان کا موقف ، ڈاکٹر معین الدین کئی کرایہ تہذیب و ثقافت کا تحفظ ، میر عثمان علی پاشاہ کے دور میں ، ڈاکٹر علی نوفل دور سلطنت آصفیہ میں تاسیس دائرۃ المعارف ، ڈاکٹر خواجہ مخدوم الدین آصف خاندان اور ثقافت 1724ء تا 1928ء تک ، سید علیم اشرف جائیسی نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے تمام مقالہ نگاروں کے موضوعات کا تجزیہ کیا ۔ سیکنڈ سیشن میں ڈاکٹر علی نوافل کالی کٹ کیرالا نے مقالہ نگاروں کے موضوعات مقالات پر تبصرہ کیا ۔ ڈاکٹر خواجہ مخدوم محی الدین نے Moderator کے فرائض انجام دیئے ۔اس سمینار کو کامیاب بنانے کیلئے ایک تنظیمی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جب کہ صدر نشین کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی نائب صدر نشین پروفیسر سید علیم اشرف جائیسی صدر شعبہ عربی مانو
ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد سابق اسوسی ایٹ پروفیسر
ڈاکٹر ایم منظور حسین اسوسی ایٹ پروفیسر جی ڈی سی فار ویمنس گولکنڈہ
ڈاکٹر ایس محمد الہاشمی اسوسی ایٹ پروفیسر ای ایف ایل یو تارناکہ حیدرآباد
ڈاکٹر سعید بن مخاشن اسسٹنٹ پروفیسر ان عربی مانو
ڈاکٹر آمنہ بیگم اسسٹنٹ پروفیسر آف ہسٹری این ٹی آر جی ڈی سی
مسٹر زاہد فاروقی ہیڈ آف آپریشن سیاست ٹی وی حیدرآباد
صاحبزادہ محمد معز الدین خان جنرل سکریٹری مجلس صاحبزادگان سوسائٹی
مسٹر عبدالحفیظ ریاستی صدر ایس آئی او تلنگانہ
مسٹر صاحبزادہ مجتبیٰ فہیم مدیر رنگ و بو
ڈاکٹر بی وی کرشنا جی راؤ صدر شعبہ ماس کمیونیکیشن اینڈ پی آر او ٹی ایم وی کوٹھی حیدرآباد
ڈاکٹر ایم ذوالفقار محی الدین اسوسی ایٹ پروفیسر عربی جی ڈی سی حسینی علم گرلزس
ڈاکٹر فضل اللہ شریف اسوسی ایٹ پروفیسر عربی اے کے ایم ڈگری و پی جی کالج کاچی گوڑہ
ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین صدر شعبہ اردوڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی
ڈاکٹر محمد عرفان محی الدین اسسٹنٹ پروفیسر آف عربی سینٹ جوزف ڈگری اینڈ پی جی کالج
مسٹر محمد شہاب الدین ریسرچ اسسٹنٹ منسٹری آف ایجوکیشن گورنمنٹ آف انڈیا نیو ڈیل
ڈاکٹر ایم اے رحمن گیسٹ لکچرار ان عربی یو سی ایس ایس او یو
ڈاکٹر سیدہ مریم غزالہ اسسٹنٹ پروفیسر آف عربی سینٹ اینس ڈگری کالج حیدرآباد
مقابلہ نگاروں میں
ڈاکٹر شرف عالم (اشہر المکتبات فی حیدرآباد)
ڈاکٹر سعید بن مخاشن (سمو الملک میر عثمان علی خان و دورہ فی نشر العلوم و المغنون)
ڈاکٹر محمد شاکر رضا (مساہمۃ النظام میر عثمان علی خاں فی تطویر العلوم و الغنون )
ڈاکٹر محمد عرفان محی الدین (مدح الشعراء العربیۃ الملوک الآصفجاہیۃ
ڈاکٹر محمد مصلح الدین (علوم عربیہ کی ترویج)
ڈاکٹر شہاب الدین (آصف جاہی خاندان میں علوم و فنون کی ترقی)
ڈاکٹر ابوالحسین (مورخین کی خدمات)
ڈاکٹر منظور دکنی (آصف جاہی خاندان کی علمی و ادبی خدمات )
ڈاکٹر محمد ناظم علی (آصف جاہی خاندان کے علمی ۔ تعمیراتی ، آبپاشی ، تعلیمی ، صنعتی کارنامے )
ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادق (جامعہ عثمانیہ) کی تعلیمی خدمات
ڈاکٹر غوثیہ بیگم (آصف جاہی کا تعلیمی ماحول)
پروفیسر قمر غفار (حیدرآباد دکن دورہ آصف جاہی کی علمی و ادبی و ثقافتی خدمات)
ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا) گلبرگہ
اختتامی سیشن کے علاوہ جملہ پانچ سیشنوں میں جملہ 35 مقالے مختلف متنوع موضوعات آصف جاہی خاندان حکمرانوں بادشاہوں کے تعلق سے پیش کئے گئے ۔ بعض مقالہ نگار ۔ کرناٹک ، دہلی ، یوپی ، کیرالا اورآندھرا اور تلنگانہ کے شامل تھے ۔ ان کے علاوہ محمد عبداللہ شاہ مملکت آصفیہ کی علمی ادبی خدمات ڈاکٹر محمد ابوبکر صدیق ثقافت اسلامیہ آصفیہ دور میں تہنیت بیگم نظام اور سمستھان
ستیہ پرکاش اٹلی اور دکن کا پس منظر
مریم غزالہ انشاء المؤسسات التعلیمیۃ والدارسیۃ العلیا في العھد الآصفجاہي
اختتامی جلسہ سرسوتی میڈم اسپیشل آفیسر وائس پرنسپل ویمنس کالج کوٹھی کی صدارت میں منعقد ہوا تاثرات پیش کرنے والوں میں
ڈاکٹر محمد ناظم علی
ڈاکٹر محمد فضل اللہ شریف
ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
خواجہ فریدالدین صادق
ڈاکٹر غوثیہ بانو
ڈاکٹر ثمینہ بیگم
ڈاکٹر علی نوفل کیرالا شامل تھے ۔ ڈاکٹر خالد اطرش نے خطاب میں کہا کہ میں حیدرآبادی تہذیب سے بہت متاثر ہواہوں یہاں کے لوگ واقع بہت ملنسار اور خوش مزاج ہیں ۔ میرے پاس منتظمین کی جانب سے کئے گئے والہانہ استقبال اور مہمان نوازی کیلئے الفاظ نہیں ہے ۔اس اہم سمینار کے انعقاد پر میں منتظمین کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہاں آکر عرب سے عجمی ہوگیا ۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ ویمنس یونیورسٹی سرسوتی میڈم نے خطاب میں شعبہ عربی کی جانب سے عربی زبان و ادب کے مسلسل فروغ کیلئے کی جانے والی کوششوں کو قابل ستائش قرار دیا اور کہا کہ اس شعبہ کے صدر نے بہت ہی کم عرصہ میں بین الا قوامی سمینارس کے کامیاب انعقاد کے ذریعہ شعبہ کے نام کو بین الا قوامی سطح پر بھی متعارف کروایا ہے اور میں صدر شعبہ کو اس بات کا یقین دلاتی ہوں کہ ویمنس یونیورسٹی کے ذمہ دار ہمیشہ شعبہ کے اس علمی کام میں تعاون کرتے رہے ہیں ۔
ویمنس یونیورسٹی میں 5000 سے زائد طالبات PG – UG کے مختلف کورسیس میں زیر تعلیم ہیں ۔
ڈاکٹر سید علیم اشرف جائیسی مانو صدر صدارت ڈاکٹر سعید بن مخاش نظامت
ڈکٹر سیدانعام الرحمنممتاز مورخ صدر ۔ نظامت : ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین
ڈاکٹر خالد اطرش صدر ۔ ڈاکٹر محمدابوبکر صدیق نظامت
پروفیسر ایس ایم عزیز الدین مانو صدر ڈاکٹر محمد عرفان محی الدین
ڈاکٹر خالد اعطرش صدر ڈاکٹر آمنہ بیگم نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
افتتاحی سیشن میں کالج کے طالبات نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی وجولتا کی سرپرستی اور رہنمائی ۔ ڈاکٹرسید شجاع الدین قادری کوآرڈی نیٹر سمینار ان کے رفقاء کار و طالبات کی انتھک کوشش سے سمینار کامیابی سے ہمکنار ہو۔ گرمی کی تمازت کے باوجود کثیر تعداد میں اسکالر، اساتذہ طالبات نے شرکت کی۔ ڈاکٹر محمد عرفان محی الدین، ڈاکٹر آمنہ بیگم اور ڈاکٹر مریم غزالہ نے انتظامات میں حصہ لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے