بیدر۔ 30؍اکٹوبر(نامہ نگار): دولہا کو چاہیے کہ دلہن کی خاطرداری ضرور کرے ۔ کیوں کی اس کی شریک حیات ، دراصل دوسرے خاندان ، دوسری بستی (یامحلہ)یادوسرے شہر ؍گاؤں میں پل بڑھ کر اور وہاں کی فضا میں رچ بس کرکے آئی ہے۔ اس لئے کچھ چیزوں میں تفاوت ، فاصلہ ، اور پسند کا دیگرمعاملہ پیش آسکتاہے ، اس لئے خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے ایک دوسرے میں قوت ِ برداشت کا ہونا ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ شوہر کابیوی کے ساتھ رویہ کچھ چھری کی طرح ہونا چاہیے نہ کہ سوکھی چھڑی کی طرح جو جدھر چاہے اُدھر موڑنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انجینئر اقبال الدین نے بیدر کے موضع مندکنلی کی مدینہ مسجد میں منعقدہ نکاح کی ایک تقریب کے دوران کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں آگے کہاکہ زندگی گزارنے کے لئے حضوراکرم ﷺ کا اسوہء حسنہ ہمارے ذہنوں میں موجودہو۔ اس لئے آپ ﷺ کی سیرت کامطالعہ بھی اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں شامل کرلیں۔ شوہر کی حیثیت سے آپ ﷺ نے کس طرح کی زندگی گزاری تھی، وہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ امہات المؤمنین سے اللہ نے امت کی اصلاح وتربیت کا خوب خوب کام لیاہے۔ اسلئے انہیں امت کی ماؤں کادرجہ دیاگیاتاکہ رسول ﷺ کی وفات کے بعد لوگ ان کی تعلیم سے استفادہ کرسکیں۔ اور وہ امت کی تربیت کے لئے فارغ رہ سکیں۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ رسول ﷺ کاعلم وعمل جتنا رسول ﷺ کی ازدواج مطہرات کے ذریعہ ہے ، اس کی مقدار صحابہ کرام ؓ کے ذریعہ پھیلے ہوئے علم سے کسی طرح کم نہیں۔ جناب اقبال الدین نے اپنے خطاب کے آخرمیں کہاکہ خاندان کی ابتداء شادی سے ہوتی ہے۔ میاں بیوی کاتعلق اصل میں محبت والفت کاتعلق ہے۔ شادیوں کی تقاریب اور بے جارسومات میں دولت کابے تحاشہ خرچ کرنا اللہ کی ناشکری کے ذیل میں آتاہے۔ کیوں کہ اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہوتے ہیں۔ اور شیطان اپنے رب کابڑا ناشکرا تھا۔ خوشی کے موقع پر اللہ کی حمد اور شکر ضروری ہے۔ اللہ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہاہے۔کیوں کہ لباس انسان کے لئے زینت کاباعث بھی ہے، سردی وگرمی سے حفاظت کا ذریعہ بھی۔ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے صبر وشکر اور قناعت کامزاج بھی پیدا کرناضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ نصیحت کی کہ جہاں کہیں بھی رہواللہ سے ڈرتے رہو۔ اور گناہ سرزد ہوجائے تو اس کی تلافی کے لئے نیک عمل کرو۔ نیکی برائی کو مٹادیتی ہے۔ اور لوگوں کے ساتھ حسن ِ اخلاق کابرتاؤ کرو۔
