امیرمقامی جماعت اسلامی ہند ظہیر آباد محمد ناظم الدین غوری نے امت مسلمہ سے استفادہ کی اپیل
ظہیرآباد ۔7/نومبر (غلام مصطفٰی محصولدار): امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ظہیر آباد محمد ناظم الدین غوری نے اسلامک سنٹر میں مقامی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کہا کہ تلنگانہ میں آج سے ذات پات پر مبنی سروے کا آغاز ہوچکاہے، جس میں 80 ہزار سرکاری ملازمین ریاست بھر میں گھر گھر جا کر تمام طبقات کی سماجی، معاشی، تعلیمی، اور سیاسی پسماندگی کا جائزہ لیں گے۔ اس کا مقصد بی سی (بیک ورڈ کلاسیس) زمرہ کے تحت پسماندہ طبقات کی صحیح نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے مسلمان اس مردم شماری میں بھر پور حصہ لیں ۔ تلنگانہ میں بی سی زمرہ میں مسلمان اقلیت کے بعض گروپس کو بی سی (بی) اور بی سی (ای) میں شامل کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے 14 طبقات کو بی سی (ای) زمرہ میں شامل کرتے ہوئے انہیں وزیر اعلی وائی ایس آر کانگریس حکومت کے دور میں 4 فیصد ریزرویشن فراہم کیے گئے تھے۔
یہ مردم شماری مسلمانوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی پسماندگی کی بنیاد پر سرکاری اسکیمات میں اپنے شیئر کو یقینی بنائیں۔ہم کیا کریں؟ اپنے محلے کی مساجد میں مردم شماری کی آگاہی فراہم کریں اور لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ بی سی (ای) زمرے میں اپنی شناخت درج کروائیں۔ اپنے اجتماعات، محلہ واری سطح پر ذی اثر افراد اورجہاں ممکن ہو وہاں دیگرتنظیموں کے تعاون سے شعور بیدار کریں تاکہ کوئی بھی مسلم خاندان اس موقع کو نہ گنوائے، اپنے گھر کے تمام افراد کی درست معلومات درج کروائیں اور اطمینان کرلیں کہ تمام تفصیلات صحیح اور مکمل ہیں۔ سروے کے نمائندوں کی آمد پر اپنے خاندان کے ہر فرد کا نام BC-E کے خانے میں لکھوائیں۔ اگر سید، پٹھان، یا مرزا جیسے نام ہیں تو انہیں اس زمرے میں درج نہ کرائیں۔ اپنے دوست احباب، خاندان، اور آس پڑوس کے لوگوں کو بھی آگاہ کریں کہ یہ مردم شماری ایک اہم موقع ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کی سماجی و معاشی حیثیت کی درست نمائندگی ہو سکتی ہے۔
اس پیغام کو امت مسلمہ کے ہر فرد تک پہنچانا اور شعور بیدار کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اس موقع پرمعاون امیرمقامی محمد معین الدین مقامی مجلس شوریٰ کے ارکان قیصر غوری محمد مصطفی سیداظہرالدین محمد ارشاد رضوان احمد زبیر احمد عبدالروف اور عبدالحمیداحمد موجود تھے۔۔
