گلوبل پبلک اسکول بیدرکی ’’عالمی یومِ اردو ‘‘ تقریب سے ڈاکٹر گلسین ، محمد یوسف رحیم بیدری ، سید فرقان پاشاہ اور دیگر کاخطاب 
بیدر۔ 9؍نومبر (پریس نوٹ): ’’اردو دوست ایوارڈیافتہ ‘‘ ڈائٹ کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر گلسین نے اپنے خطاب میں کہاکہ علامہ اقبال قوم کابول بالا، اورمذہبی و ادبی انقلاب چاہتے تھے۔ہمارے ادیب اور شاعر کتابیں لکھناچھوڑ دیں تو اردو ختم ہوجائے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ ہندوشاعروں نے بھی اردو زبان کومالا مال کیاہے۔ آج کے دور میں بھی لتاحیااور ڈاکٹر سنیل پنوارجیسے اردو کے شاعر موجود ہیں۔ گلوبل پبلک اسکول ، موقوعہ پنسال تعلیم ، نزد فتح دروازہ بید رمیں ’’عالمی یومِ اردو‘‘ تقریب سے وہ خطاب کررہے تھے۔
انھوں نے مزید کہاکہ میں اساتذہ سے مخاطب ہوں ۔ ان سے میری اپیل ہے کہ وہ طلبہ کو اردو پڑھائیں۔لائبریریز میں اردو کتابیں رکھی جائیں اور ایسا ماحول ہوکہ طلبہ لائبریریز میں اردوکتابوں سے استفادہ کرتے رہیں۔ اردو مدارس اگر بندنہیں کرناہے توا س کے لئے اردو پڑھنا ضروری ہوگا۔ کوٹھاری کمیشن کے سہ لسانی فارمولے کی بدولت ہرطالب علم تین زبانیں اسکول میں سیکھ سکتاہے۔ آپ جتنی انگلش سیکھ رہے ہیں، اتنی ہی اردو اور کنڑی سیکھیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد اردو کوقومی زبان کادرجہ دیناچاہتے تھے۔
موصوف نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اردو اخبارات پڑھیں اور ہوسکے تو خرید کربھی پڑھیں ۔اخبارات خریدنے سے زبان کی خدمت ہوتی ہے۔جناب سید فرقان پاشاہ سبجکٹ انسپکٹر ڈی ڈی پی آئی دفتر نے اپنے خطاب میں صاف طورپر کہاکہ انگریزی میڈیم سے میرے پڑھنے کا عظیم نقصان یہ رہاکہ میں قرآن کی تفاسیر ، احادیث کی تعلیمات سے دور رہا۔ یہ میراایسا نقصان ہے جس کی پابجائی ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا انگریزی میڈیم کے طلبہ اپنے مذہبی نقصان سے بچنے کے لئے اردو ضرور پڑھیں۔ دوسری بات یہ کہ زبانیں جب تک بولی جاتی ہیں وہ زندہ رہتی ہیں۔ اور جب زبانیں ختم ہوجاتی ہیں تو زبان بولنے والی قوم بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس لئے اردو کی حفاظت کے لئے کوشش کریں۔ اور وطن کے لئے سرمایہ بنیں ۔
کراٹا بنگلور کے ریاستی نائب صدرجناب انصاربیگ نے اپنے خطاب میں کہاکہ میں نے اپنے دوبچوں کوانگریزی میڈیم سے نکال کراردو میڈیم سے تعلیم دلائی ہے اور میں اپنے بچوں سے خوش ہوں لیکن یادرکھیں کوئی زبان بھی ہواس کو سیکھنا چاہیے۔ کنڑا سیکھیں اس کے اخبارات پڑھیں۔ اورنیوز دیکھیں۔ جب کہ اردو کو بچانے کے لئے اپنی جان اور اپنا مال لگا دیناچاہیے۔
جناب محمدیوسف رحیم بیدری نائب صدر ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کرناٹک نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج عالمی یوم ِ اردو ہے ، ہمیں دیگر زبانوں کے بجائے اردو سے متعلق ہی غور کرنا اور سیکھنا ہے۔ بھ پھ تھ ٹھ جھ جیسے الفاظ کا عمومی تعلق ہندی سے ہوتاہے۔ اور وہ الفاظ جو ت پر ختم ہوتے ہیں جیسے حکومت ، قیادت ،عبادت وغیرہ یہ عموماً عربی کے الفاظ ہوتے ہیں۔ ہماری مادری زبان دکنی ہے لیکن اگر مادری زبان اردو ہے تب تو ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہم اچھی زبان بولیں اور اردو سیکھیں۔ بھان نہیں بہن بولیں ۔ بھایاں نہیں بھائی بولیں ۔ جاتوں آتوں کے بجائے جاتاہوں ، آتاہوں کہنا ہوگا۔ موصوف نے یہ بھی کہاکہ انگریزی کااپنا کوئی لفظ نہیں ہے سوائے Stool کے ، جس پر چپراسی بیٹھتاہے۔ جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اردو کے مقامی روزنامہ ’’حیدرآباد کرناٹک ‘‘ میں آج شائع ہوئی ان کی نظم ’’اردو ڈے‘‘ پڑھ کرطلبہ کو سنائی۔اور کہاکہ علامہ اقبال کے مستند اشعار طلبہ یاد کریں ورنہ سوشیل میڈیا پر سینکڑوں غلط اشعار علامہ اقبال سے منسوب ہوگئے ہیں۔
کانگریسی قائد جناب شیخ مسیح الدین نائب صدر مینارٹی ڈپارٹمنٹ بیدر نے اپنے خطاب میں کہاکہ مدرسہ محمودگاوان کبھی یونیورسٹی تھا ہم اسی شہر کے باشندے ہیں اسلئے ہمیں تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ کئی زبانیں سیکھیں۔ جناب سید خورشیدقادری ،اردوای سی او برائے ڈی ڈی پی آئی بیدر نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور تفصیلی تعارف بھی طلبہ سے کرایا ۔ابتداء میں کئی ایک طالبات نے تلاوت ، حمد ، نعت ، کے علاوہ انگریزی میں تقاریر بھی پیش کیں۔
آخر میں جناب محمد اظہر پاشاہ چیرمین گلوبل پبلک اسکول نے تمام مہمانوں کی گلپوشی کرتے ہوئے سبھی کاشکریہ اداکیا۔ ٹیچرس بھی اس تقریب میں موجودتھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے