بیدر۔21؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): مفکر اسلام حضرت العلامہ مفتی خلیل احمد قبلہ امیر شریعت اسلامیہ و امیر جامعہ نظامیہ و معزز رکن آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ ہیں جنہوں نے علم و فضل، اخلاص و اختصاص علمی وروحانی سے نہ صرف دکن کی سرزمین بلکہ اقطاع عالم میں اپنے فیوض و برکات کو بکھیرا ہے۔یہ بات حضرت مولانا حافظ و قاری مفتی محمد فیاض الدین نظامی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ و صدر نائب قاضی بیدرنے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہی اور حضرت مفکر اسلام کے امیر الجامعہ کے عہدہ کو مستقلا قبول فرمانے اور ڈاکٹر محمد سیف اللہ کے جامعہ نظامیہ کے شیخ الجامعہ کے عظیم منصب پر فائز ہونے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مفتی خلیل احمد کی گفتگو خلق عظیم کی تفسیر، علم و بردباری میں منفرد، جب کوئی مشورہ کرے تو وہ اس مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھ کر اپنی زریں آراء سے سرفراز فرماتے اور اس کے حل کیلئے رہنمائی فرماتے ہیں۔ تصوف و طریقت کی بات ہوئی تو اصل اللہ کے واقعات اور تعلیمات کی روشنی میں تفصیلی احاطہ فرماتے، جس محفل میں آپ تشریف لاتے بس اس محفل کے روح رواں و رونق بزم ہوا کرتے، کلام الامام امام الکلام کے مصداق ساروں کی گفتگو ایک سمت اور حضرت کا خطاب ایک سمت۔ جنہوں نے جامعہ کے کئی عہدوں پر فائز ہوئے جیسے نائب مفتی صدر مفتی، شیخ الفقہ، کے بعد اب امیر جامعہ کے منصب پر فائز ہیں اور جس عہدہ پر ممکن ہوئے اس کا حق ادا کیا۔
مفتی محمد فیاض الدین نظامی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ و صدر نائب قاضی بیدرنے ڈاکٹر محمد سیف اللہ قادری ملتانی کو شیخ الجامعہ، جامعہ نظامیہ کے عظیم منصب پر فائز کیے جانے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت اپنی ادبی علمی صلاحیت، ظرافت و خوش طبعی، کیلئے جانے جاتے ہیں، آپ سابق میں پرنسپل نوریہ کا لج رہے ہیں اس لئے دینی و عصری تعلیم کی ضرورت واہمیت اور طلبہ و طالبات کو اس سے آراستہ کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ جامعہ کے شیخ الادب کے علاوہ نائب شیخ الجامعہ عظیم منصب پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان شاء اللہ بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کے روحانی و علمی فیضان کو آپ کے دور مبارک میں خوب ترقی نصیب ہوگی۔ اللہ عز وجل دونوں بزرگان دین کو صحت و عافیت کے ساتھ ان کے ذریعہ بانی جامعہ کے مشن کو مزید بلند یاں نصیب فرما، آمین۔
اس بات کی اطلاع جناب عبدالصمد منجووالا نے دی ہے۔
