مکرمی!
بڑے افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑرہا ہے کہ آج کل انسان عہدہ تو سنبھال لیتا ہے مگر اس کو اپنے اختیارات کا علم نہیں ہوتا، ایسے ہی کچھ معاملہ چھتیس گڑھ میں وقف بورڈ کے چیرمین سلیم راج کا ہے، جنہوں نے بغیر اپنے حدود اختیارات کا جائزہ لئے ہوئے ایک ایسا حکم نامہ جاری کیا ہے جس سے ملک کے ۲۵ کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ،فرمان یہ ہے کہ اب ائمہ مساجد کو اپنے خطبہ کا سنسر کرانا ہوگا اور حکمران پارٹی کی حمایت کی تعریف میں قصیدے پڑھنے ہوں گے اور پرچار بھی کرنا ہوگا،جہاں تک معاملہ خطبہ کے سنسر کرنے کا ہے تو اس کا اختیاران کو حاصل نہیں ہے،کیونکہ ان کی ذمہ داری صرف بورڈ کے املاک کی نگرانی ہے تو دوسری طرف جہاں تک معاملہ حکمراں پارٹی کی شان میں قصیدے پڑھنا اور پرچار کرنے کا ہے تو اس کی ذمہ داری حکمراں پارٹی کے ممبران کی ہے نہ کی ائمہ مساجد کی،ائمہ مساجد کی ذمہ داری صرف اور صرف سماج کی اصلاح وسدھار ہے اور انسان کو انسانیت کا بھولا ہوا سبق یاد کرانے کا ہے اور اس ملک کو معزز، ایماندار شہری فراہم کرنے کا ہے جس میں ائمہ مساجد بہت حد تک کا میاب ہیں ، کیونکہ ہمارے ملک میںنہ مال ودولت کی کمی ہے اور نہ فوج و طاقت کی بلکہ کمی ہے تو صرف اس کی ہے کہ ہمارے ملک میںمعزز ایماندار شہری پیدا نہیں ہورہے ہیں،اللہ کا شکر ہے کہ یہ ائمہ مساجدآج بھی خطبوں سے ملک کو معزز وایماندار شہری فراہم کررہے ہیں یہ ایک ایسا کا م ہے جوہمارے ملک میں کوئی بھی ادارہ انجام نہیں دے رہا ہے ، اس لئے اس قسم کا نازیبہ فرمان نہ جاری کیا جائے جس سے خود وقف بورڈ کے چیرمین کی شخصیت مجروح ہو، امید ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے گا اور جس روش پر آج چودہ سو سال سے ہمارے ائمہ مساجد چل رہے ہیں ان کو اسی روش پر گامزن رہنے کا موقع فراہم کیا جائے گا،تاکہ ملک کو معزز ایماندار شہری فراہم کرسکیں۔
آپ کا
مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
قومی نائب صدرمسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا کسیا،کشی نگر،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے