جامعۃ الفیصل تاج پور،بجنور میں 21 حفاظ کی دستار بندی
بجنور(پریس ریلیز) 29؍نومبر2024: دارالعلوم دیوبند کسی اینٹ پتھر سے بنی ہوئی عمارت کا نام نہیں ہے بلکہ رجال سازی کا نام دارالعلوم دیوبند ہے ۔یہ ایک نظریہ ہے ،اس نظریہ کے سانچے میں جہاں بھی طلبہ کی تعلیم و تربیت کا کام ہوگا وہ دارالعلوم ہی ہوگا ۔ دارالعلوم دیوبند کا سنگ بنیاد 30؍مئی1866 کو مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس وقت رکھا تھا جب استعمار کے سبب ہزاروں مدارس بند ہوگئے تھے ۔مدارس کے بند ہوجانے سے مسلمانوں کے دین و ایمان کے تحفظ کا مسئلہ درپیش تھا ۔مولانا قاسم نانوتوی ؒ نے فرمایا تھا کہ آج اقتدار ہاتھوں سے گیا ہے جو کسی وقت واپس بھی آسکتا ہے ،لیکن مدارس کے بند ہوجانے سے ایمان چلاجائے گا جس کی واپسی ناممکن ہوجائے گی۔ اس لیے مدارس کا قیام ،ان کو چلانا ،اس کار خیر میں کسی طرح بھی حصہ لینا مسلمانوں کی دینی و شرعی ذمہ داری ہے۔
ان خیالات کا اظہار دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے جلسہ دستار بندی کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا ۔مذکورہ جلسہ جامعۃ الفیصل تاج پور میں 28؍ نومبرکوبعد نماز مغرب منعقدہوا۔موصوف نے کہا کہ مسلمانوں کی عزت و سربلندی قرآن سے وابستہ ہے ۔اس لیے قرآن کی تعلیم میں مسلمانوں کو حصہ لینا چاہئے ۔مولانا نے کہا کہ پورے دین کا خلاصہ تین جملوں میں کیا جاسکتا ہے۔ دین نام ہے خدا کی عبادت کا ،رسول کی اطاعت کا اور خدا کی مخلوق کی خدمت کا ۔موصوف نے حفاظ طلبہ ،ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی نسبت سے منعقد ہونے والی یہ مجلس خیر و برکت والی مجلس ہے ۔اس میں شرکت کرنا دینی عمل ہے ۔جامع مسجد امروہہ کے صدر مفتی مولانا ریاست حسین قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک مسلمان کے لیے عصری تعلیم سے بھی زیادہ ضروری اس کا ایمان ہے ۔اس لیے مسلمان بچوں کی ابتدائی تعلیم ایسے اسکولوں اور مکاتب میں ہونی چاہئے جہاں دین و ایمان کی تعلیم دی جاتی ہو تاکہ مسلمان بچے والدین اور عام انسانوں کے حقوق سے واقف ہوسکیں۔
مسجد ابوبکر کے امام و خطیب مولانا اخلاق حسین قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو قرآن کا حافظ بنتا ہے وہ نبی کا وارث بنتا ہے ۔نماز کے مصلے پر کھڑے ہونے کاوہی شخص مستحق ہے جو قرآن کا زیادہ علم رکھتا ہے۔ قرآن کی تعلیم بچوں کو امام بناتی ہے۔ جلسہ کا آغاز قاری صلاح الدین استاذ جامعۃ الفیصل نے تلاوت قرآن سے کیا ۔جامعہ کے سیکریٹری محمد یاسین ذکی نے افتتاحی تقریر کی ،ناظم جامعہ مولانا سراج الدین ندوی نے معزز مہمانوں کی خدمت میں خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ شاہین سینٹر کے انچارج مولانا مسعود جمال قاسمی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
جلسہ میں 21حفاظ کی دستار بندی علمائے کرام کے دست مبارک سے کی گئی۔ حافظ محمد عنایت اللہ ، حافظ محمد فراز، محمد ابوالحسن اور محمد عمر نے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔ نظامت مولانا محمد ذوالفقار ندوی نے کی ۔ پروگرام میں ضلع کے مختلف مقامات سے سینکڑوں علمائے کرام اور ہزاروں سامعین شریک ہوئے ۔ جن میں،مفتی محمد عفان منصور پوری ، مفتی اویس اکرم ، مولانا ابرار قاسمی ، مولانا شوکت مظاہری، مولانا محمد شفیق قاسمی ، مولانا خلیق الرحمان قاسمی ، مولانا عطاء الرحمان قاسمی ، مولانا انظر قاسمی ، مولانا شمشیر احمد مظاہری ، مولانا رضوان الرحمان صدیقی ، مولانا عتیق احمد، ڈاکٹر خلیق احمد ، مفتی ذکی اعجاز ، حافظ محمد ارشاد ، مولانا ارشدحقی، مولانا امتیازقاسمی ، مولانا محمد شاہد، ماسٹر سرتاج صدیقی، معاذ انور، قاری محمد گوہر، پردھان محمد طلحہ ، محمد افنان، محمد ناصر ، محمد فیضان ، ماسٹر محمد آفاق ، مولانا ظفیر الدین ندوی ، مولانا ندیم قاسمی ، مولانا جنید قاسمی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
پروگرام کے انتظامات میں جامعۃ الفیصل ، شاہین کوچنگ سینٹر ، شبلی پبلک اسکول ، مدرسہ احیاء العلوم کے اساتذہ و طلبہ اور ملت اکیڈمی کے ذمہ داران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پروگرام کے بعد جملہ حاضرین عشایہ سے لطف اندوز ہوئے۔
محمد دانش انجینئر
میڈیا انچارج(81262 84709)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے