مکرمی!
جب ایک قانون تحفظ مقامات مقدسہ ۱۹۹۱ء؁ میں بن چکا ہے کہ کسی بھی مسجد ،مندر،گردوارہ،اور گرجا کی جو حیثیت ۱۹۴۷ء؁ سے پہلے تھی اس کو برقرار رکھا جائے گا تو پھر یہ تو طوفان سروے مقامات مقدسہ پر کیوں؟
(۱)نچلی عدالت نے شاہی مسجد سنبھل کے سروے کی درخواست کیوںقبول کیا؟
(۲)پھر درخواست منظور ہونے کے بعد اتنی سرعت سے سروے کافیصلہ کیوں لیاگیا؟
(۳)تو پھر دوسرے سروے کی کیا ضرورت پڑی؟ کیونکہ اس سروے کا رنگ ہی دوسرا تھا جس میں جے شری رام کے نعرے بھی لگائے گئے؟
(۴)اس قسم کے سروے سے جو خلاف قانون ہے مسلم نوجوانوں کا جمع ہونا ایک فطری بات ہے۔
(۵)مسلم نوجوانوں کے ایکشن کاجواب کیوں گولیوں سے دیاگیا؟
(۶)اس مجمع کو منتشر کرنے کے لئے پانی کے گولے،آنسوگیس اورپھر لاٹھی چارج پر اکتفا کیوں نہیں کیاگیا؟
(۷)جب یہ نوجوان پتھر بازی کررہے تھے تو اس کا جواب انتظامیہ بھی تو پتھر دے سے رہی تھی اور لاٹھی چارج بھی کررہی تھی،توپھر گولیاں کیوں چلائی گئی؟
(۸)چھ مسلم نوجوانوں کی شہادت کا ذمہ دار کون ہے؟
(۹)یہ درحقیقت سنبھل کی موجودہ انتظامیہ کی غلط پالیسی کا ثبوت ہے، اس لئے اس کو معطل کرکے دوسرا آفیسر مقرر کیا جائے، اور اس کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے۔
(۱۰)اس فساد کی تفتیش سی،بی ،آئی کے ذریعہ کرائی جائے،اور قاتلوں کو سخت سزا دی جائے ۔
ان واقعات سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ فساد ایک گھناؤنی سازش کا نتیجہ ہے جس کوانتظامیہ اورحکومت نے انجام دیا ہے۔

مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا، کسیا،کشی نگر،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے