مکرمی!
میں آپ کی توجہ دوماہ قبل پڈرونہ،ضلع کشی نگر کے محلہ چھاؤنی کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں، جہاں نو راتری کے موقع پر ہوئے تنازعہ میں گینگیسٹر کے تحت کاروائی کی گئی ہے، انتظامیہ نے یکطرفہ کاروائی کرکے۳۳ افرد کو گرفتار کیا تھا جس میں چار خواتین بھی شامل ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون صرف اقلیتی طبقہ ہی کے لئے ہے؟ کیونکہ اس قسم کا تنازعہ جب بھی کھڑا ہوتا ہے تو صرف ایک مخصوص طبقہ کی گرفتاری کی جاتی ہے اور مطلوبہ رشوت نہ ملنے پر اس قانو ن کے تحت کاروائی کردی جاتی ہے۔
۷؍اکتوبر درگا کی مورتی لے جانے والا جلوس جو محلہ چھاونی ،پڈرونہ، ضلع کشی نگر سے گذر رہا تھا اس میں اشتعال انگیز،ہتک آمیز ڈی جے سے گانے بجاتے جارہے تھے، جس پراس محلہ کے کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تو وہ مجمع برانگیختہ ہوگیا اور تناعہ کھڑا ہوگیا جس میںدونوں طرف سے پتھر بازی ہوتی رہی، یہ خبر قرب وجوار میں پھیلتے ہی اکثریتی طبقہ جمع ہوگیا اور پڈرونہ کے سارے راستوں کو جام کردیا،بڑی مشقت کے بعد انتظامیہ نے اس جام کو ختم کرایا، مگر اس نے یکطرفہ کاروائی کرکے اقلیتی طبقہ کے ۳۳ افرد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا،اور مطلوبہ رشوت نہ ملنے پر گینگیسٹرقانون لاگوکردیا، بعض وثوق وذرائع سے یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ بعض پولیس آفیسران نے یہاں تک کہہ دیا کہ غریبوںکو گرفتار کرکے کیوں بھیج دیا؟ امیروں کو بھیجو تب ان سے آمدنی ہوگی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت پولیس والوں کی ذہنیت خالص تاجرانہ بن چکی ہے،عوام کی خدمت کا جذبہ مفقود ہوچکا ہے، اس لئے ان کی اخلاقی تربیت بیحد ضروری ہے ورنہ یہ ذہنیت قوم وملت کو تباہ کرکے رکھ دے گی جیسا کہ مشاہدہ ہورہا ہے۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنازعہ یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہوتا ہے تو پھر گرفتاری یکطرفہ کیوں؟اس لئے پولیس کی اعلیٰ آفیسران سے مطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی ازسر نو تفتیش ہونی چاہئے اور ان مظلوموں کو گینگیسٹر قانون سے نجات ملتی چاہئے ، تو دوسری طرف اکثریتی طبقہ کامواخذہ ہونا چاہئے تا کہ آئندہ اس قسم کی حرکت کرنے کی کوئی جسارت نہ کرسکے۔
مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی
