مدرسہ اسلامیہ نصیرالعلوم کھٹہنہ میں جلسہ تقسیم انعامات وتصیفی اسناد کا انعقاد، مفتی اشرف قاسمی نے مہمانوں کا شکریہ اداکیا
اعظم گڑھ ( محمد جنیدقاسمی) ۹؍دسمبر دینی تعلیم کا بنیادی مقصد انسان کو اپنے خالق حقیقی کے قریب کرنا اور اسے اس کے مقصد حیات سے روشناس کراناہے، ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز صبح نوبجے سنجر پور حلقہ کے موضع کھٹہنہ میں واقع مدرسہ اسلامیہ نصیر العلوم میں علماء اور دانشوران نے کیا ۔ تفصیلات کے مطابق حلقہ سنجر پور کے موضع کھٹہنہ میں علامہ شبلی برینک بیٹل کے زیر نگرانی مدرسہ اسلامیہ نصیرالعلوم کے وسیع وعریض میدان میں تاریخ ساز پروگرام کا انعقادکیا گیا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت مولانا محمد علی جوہریونیورسٹی رام پور کے سابق وائس چانسلر پروفیسر لقمان خان تشریف لائے، انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑی مسرت اور خوشی ہے کہ اعظم گڑھ کے مختلف علاقوںکے اسکول اور کالجز کے طلبہ وطالبات نے کوئز کمپٹیشن میں حصہ لیا اور پوزیشن یافتہ بچوں کو گراں قدر انعام سے نوازاگیا ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم گاہوں کی کمی نہیں بلکہ افرادسازی اور تعلیمی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے ، اگر ہم نے اگلے بیس سے پچیس سال تک اپنے خرچوں میں کمی کرکے تعلیم پر پیسہ لگایا تو آنے والا وقت ہمارا ہے۔ضلع اناؤ سے تشریف لائے مفتی محمد جنیدقاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے کہا نصاب میں توازن پیداکیاجائے، تعلیمی اداروں کی اصلاح کی جائے ، فکر ی رہنمائی کی جائے ،ایسے نوجوانوں کو اس بات کا شعور دیاجائے کہ دین اور دنیا الگ نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے مختلف پہلو ہیں ۔ بمبئی سے آئے فرقان ممتاز نے کہا کہ ہائر ایجو کیشن کی ضرورت ہے، تعلیم گاہوں کی کمی نہیں ہے، بلکہ کمی اس بات کی ہے کہ بچے تیاری نہیں کرتے ، آسانی سے امتحان پاس کرلیں؟ شبلی کالج اعظم گڑھ کے استاذ سرفراز نواز نے کہا کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے قرآن کا پہلا لفظ اقرأ ہے، بلاشبہ یہ علم اگر نہ ہو تو ہم تاریکیوں کی طرف بھٹکتے رہیں گے ،دراصل اس ہلچل کی دنیامیں تڑپ اور سوز پیداکرناہوگی۔ جو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتاہے، وہ کا میاب ہوتا ہے۔ پروفیسر محمد طاہرشبلی کالج اعظم گڑھ نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انسانیت کا سفر کریں ۔ جلسے کے صدرمولانا عمیر الصدیق ندوی دارالمصنفین شبلی اکیڈمی نے کہا ہمارے درمیان کچھ نوجوان بچے ہیں، جو قوم کے لیے سوچتے ہیں، پہلے سے زیادہ جوش وخروش ہے۔ یہ ہماری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کی ہمیں قدر کرنا ہوگی،شوشل ورکر فیروز طلعت نے اس اجلاس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا اس ٹھنڈک میں آپ تشریف لائے ہم سب کے لیے سعادت مندی ہے،پم آپ کے شکر گزار ہیں ۔ محمد احمر سکریٹری علامہ شبلی برینک بیٹل نے اکیڈمی کا تعارف کرایا ،بتایا کہ ہم لوگ بیس سے پچیس لوگ ہیں، جو اس کام کو انجام دیتے ہیں۔جلسے کے روح رواں ،مدرسہ نصیرالعلوم کھٹہنہ کے ناظم اعلیٰ مفتی محمد اشرف قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ مدرسہ اسلامیہ نصیرالعلوم کھٹہنہ کا یہ عظیم الشان پروگرام علامہ شبلی نعمانی برینک بیٹل کے عنوان سے منعقد کیا جارہاہے، جس میں ہزاروں لوگوں کی شرکت ہم خدام مدرسہ کے لیے باعث سعادت ہے، آپ حضرات کی محنت اور توجہ ولگن سے مدرسہ ہٰذا کا تعلیمی معیار روز بروز بہتر ہوتا چلاگیا ، آج الحمدللہ مدرسہ ہٰذاکے مختلف شعبۂ جات ہیں ، ہمیں خوشی ہے کہ مدرسہ کی دعوت پر کثیرتعدادمیں لوگوں نے شرکت کی،جلسے کا آغاز درجہ دوم کے طالب علم محمد اذہان نے تلاوت قرآن سے کیا، درجہ ششم کی طالبہ حمیر ابانونے نعت کا نذرانہ پیش کیا، ایوب وفانے نظامت کے فرائض انجام دیے ، اس موقع پر عالم بدیع ودھایک نظام آباد، ڈاکٹر شفیق اعظمی، ڈاکٹر شکیل مؤ، مولانا عدنان قاسمی، مفتی ابودجانہ قاسمی صدر جمعیۃ علماء حلقہ ہیراپور،ڈاکٹر فہیم مرزا، ساجد خان ، وسیم عرف پپوپیجر،ماسٹرشاہ عالم، ماسٹر آصف، قاری حبیب، مولانا ہاشم قاسمی، ماسٹرانظر، ماسٹر آصف، مولانا شمشاد قاسمی، حافظ نواز، ماسٹرطٰہ ،محمد عدنان، محمد ثاقب پرھان وغیرہ موجود رہے،ان کے علاوہ کثیرتعداد میں پس پردہ خواتین ملت اسلامیہ بطورخاص موجود تھیں، ۔ مفتی سلمان قاسمی کی دعاء پر جلسہ ختم ہوا۔
