سہارنپور( احمد رضا): ملی تعلیمی ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلائی جا رہی *تحریک اصلاح خواتین* کے تحت شاہین لائبریری ہال جامعۃ الطیبات سارنپور میں ایک عظیم الشان اجلاس عام برائے خواتین منعقد ہوا جس کی صدارت جامعہ کی ناظمہ محترمہ عائشہ صدیقہ صاحبہ نے کی جلسے کا آغاز جامعہ کی طالبہ بشری بنت قاری نعمان نے قرآن پاک کی تلاوت سے کیا اور جامعہ کی معلمہ گلستاں طیبی نے نعتیہ کلام پیش کیا جلسہ میں تشریف لانے والی مہمان انعم بنت عبدالواحد سرساوہ نے بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و سیرت کتنے بلند تھے اسی طرز پر ہمیں زندگی گزارنی چاہیے.

جامعہ کی معلمہ رابعہ طیبی نے نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ °قد افلح المومنون° بے شک وہ لوگ کامیاب ہو گئے جنہوں نے اللہ کے ڈر کی وجہ سے نماز نہ چھوڑی جامعہ کی معلمہ عادلہ راشد نے خطاب کے دوران اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دی اور بتایا کہ تمام علوم کا مقصد اللہ تک پہنچنا ہے اس خلوص کے ساتھ دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے.

جامعہ کی معلمہ شارقہ طیبی نے اخلاق نبوی کا نمونہ پیش کیا جلسہ کی مہمان خصوصی سماجی تنظیم پرچم کی صدر محترمہ قدسیہ انجم صاحبہ نے دین کی اہمیت کو سمجھاتے ہوئے بتایا کہ ہمارے معاملات کا درست ہونا بہت ضروری ہے، مسلمانوں کے بچے تعلیم سے دور کیوں ہیں اپنے بچے اور بچیوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

جلسے کی مہمان خصوصی محترمہ شہناز صاحبہ نے بڑی اصلاحی تقریر کی اور سمجھایا کہ جیسے لکڑی کا کیڑا لکڑی کو کھا جاتا ہے ریشم کا کیڑا ریشم کو کھا جاتا ہے اسی طرح ہم نے شریعت کو کھا لیا اللہ ہمیں دین کی فکر کرنے والا بنائے اور اس پر عمل کرنے والا بنائے اگر ہم نے اس مجلس سے ایک موتی بھی چن لیا تو ہمارا یہاں آنا کامیاب ہو جائے گا۔ اجلاس عام میں محترمہ مسعودہ خاتون اہلیہ حضرت مولانا محمد یعقوب بلند شہری، جامعہ کی طالبہ اقراء شہزاد، مصباح مرسلین، ظفرہ مفتی محمد اشرف اعظمی، وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔

اجلاس عام کے اختتام پر محترمہ شہناز صاحبہ نے ملک و ملت کے لئے امن و امان اور بھائی چارہ قائم رہنے کی دعا کرائی جلسے کی نظامت جامعہ کی معلمہ علمہ مہر الدین نے کی اور جامعہ کی پرنسپل محترمہ کریم بانو صاحبہ نے جلسے میں تشریف لانے والی تمام خواتین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا شرکت کرنے والوں میں ثناء جبیں، آصفہ عاقل، دانشتہ عاقل، صوبیہ شمشاد، ناظرین نسیم، زینب اسلام ،ارم باجی وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں قرب و جوار کی خواتین کے  نام نامی قابل ذکر ہیں !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے