بیدر۔ 19؍ڈسمبر (پریس نوٹ): دنیا بھر میں زبانوں کے تحفظ کے لئے کام کیاجاتاہے۔ ہماری ریاست کرناٹک میں یکم نومبر کو حکومت’’یوم ِ تاسیس کرناٹک ‘‘ کے نام پر ’’یومِ کنڑا‘‘ مناتی ہے۔ اور اس دن کو ’’کنڑی راجیوتسو‘‘ بھی کہاجاتاہے۔ اسی طرح حیدرآباد فرخندہ بنیاد جو تلنگانہ کاصدرمقام ہے، وہاں پر بھی ’’یوم ِ تلنگانہ‘‘کے نام سے دراصل ’’یوم ِ تلنگی؍یوم ِ تیلگو‘‘ مبینہ طورپرمنایاجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ جو ہم اپنے آپ کو دکنی کہتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں، کہیں پر بھی اپناتعارف اہل ِ دکن ، حیدرآبادی ،مدراسی ، بنگلوری، ویلوری ، بیدری ، شیموگوی ، میسوری وغیرہ کہہ کر کرواتے ہیں کیا ، کبھی ’’یومِ دکنی ‘‘ یا ’’دکنی فیسٹیول ‘‘ مناتے بھی ہیں ؟یہ سوال شاعروادیب جنا ب محمدیوسف رحیم بیدری نے اٹھایاہے جس کاجواب شاید ہاں میں نہ ہو۔
موصوف نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہا ہے کہ ’’جانپد ادب‘‘ ’’داس ساہتیہ‘‘اور ’’وچن ساہتیہ( ادب) ‘‘جیسے بیسیوں عناوین کے تحت دیگر اقوام کام کررہی ہیں اور اردو والے ہیں کہ صرف ’’اردو ، اردو پھر اردو‘‘ کہہ کر ’’رومن انگلش ‘‘ میں سوشیل میڈیا پر لکھتے ہوئے دکنی زبان وادب کو ٹھکانے لگائے ہوئے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ اہل ِ دکن کی مادری زبان ’’دکنی ‘‘ ہے اردو نہیں ۔ علامہ اقبال کی مادری زبان ’’پنجابی‘‘ تھی ۔ اس کے باوجود انھوں نے ’’اردو‘‘ کے لئے کام کیا اور اردو کے سب سے بڑے تین اہم شعراء میں اپنانام درج کروالیا۔غالب ؔ کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھالیکن فارسی میں ان کاسکہ نہیں چل سکا۔ اسی طرح ہم لوگ بھی مادری زبان کے اعتبار سے دکنی ہوتے ہوئے بھی خود کی مادری زبان ’’اردو‘‘ بتاتے ہیں تو یہ کتنا انصاف کے قریں ہے ؟اوراگر دکنی کے پانچ بڑے شعراء کے نام بتانے کے لئے کہاجائے تو (اہل حیدرآباد کو چھوڑکر )ہم لوگ شاید تین شعراء کے نام بھی نہ بتاپائیں۔ جناب یوسف بیدر ی نے دکن کے اردواخبارات(حیدرآباد، اورنگ آباد، گلبرگہ، بنگلورو، مدراس، بیدر، پربھنی، ناندیڑ وغیرہ) سے گزار ش کی ہے کہ وہ اپنے ہاں ’’دکنی‘‘ کے لئے بھی جگہ نکالیں اور دکنی زبان وادب کی ترقی وترویج کے لئے اپنے اوپر عائد فریضہ انجام دیں۔ یہی گزارش ڈیجیٹل اخبارات نکالنے یا تراشے وائرل کرنے والوں سے بھی ہے۔ دکن کا نام لیتے ہی دنیا ہمیں ’’مسخرہ‘‘ تصور کرتی ہے ۔ کیا اہلِ دکن مسخرے ہیں؟ نہیں نا؟ تو پھر ع
کہتی ہے تجھے خلقِ خدا غائبانہ کیا
یہ اہلِ دکن ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو معراج العاشقین ، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ، سب رس اور دیگر کتابیں دیں ۔ اور دنیا نے ان کتابوں کو تسلیم بھی کرلیا۔اور اہل ِ دکن کی اولیت کو بھی تسلیم کرلیا۔ اس کے باوجود اہل ِ دکن اگر احساس کمتری کاشکار ہیں تو انہیں اس سے باہر نکلناہوگا۔ جناب بیدری نے دکن میں رہنے بسنے والے قلمکاروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ دکنی میں خبرنویسی کریں، دکنی میں افسانے، ناول، غزل، ہزل، نظمیں اور ناولیں لکھ کراس متمول دکنی زبان کو اکیسویں صدی میں دوبارہ متمول بنانے کاعزم کریں۔ آج دنیا اپنی جڑوں کی طرف مراجعت کررہی ہے۔ اس لئے بھی ہمیں دکنی زبان کی ترقی وترویج اور اس کے ابلاغ کی طرف توجہ دیناچاہیے۔ جو لوگ تنظیمیں بناکر کام کرتے ہیں وہ دکنی زبان وادب کے لئے بھی تنظیمیں بنائیں۔ رجسٹرڈ تنظیمیں بھی ممکن ہیں۔ اشتہارات دینے والے اپنے اشتہارات میں دکنی لب ولہجہ اور دکنی جملوں کااستعمال کرنانہ بھولیں۔ دکنی فلمیں بن رہی ہیں ایسے میں دکنی اشتہارات بھی خوب خوب سراہے جارہے ہیں۔ حیرت ومسرت کی بات یہ بھی ہے کہ جب کبھی دکنی لب ولہجے میں دین کی باتیں پیش کی گئیں ، لوگوں نے ہنس ہنس کرسہی ، ان باتوں کوقبول کیا۔اوراپنی زندگی کوسنوارلیا۔
