میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
موبائل :9845628595
آنکھوں کااک رونا بھی تھا
آگے مدینہ مکہ بھی تھا
زندگی کرنے والے جانیں
موت سے پہلے مرنا بھی تھا
خطرہ تھا بیٹھے رہنے میں
چلنے میں کچھ دھوکا بھی تھا
کیاگالی دوں گااس کو میں
اس نے مجھ کو چاہا بھی تھا
آج دروپدی سامنے تھی خود
کھیلنا اُس سے جوا بھی تھا
پہنچا گاؤں تو سب پوچھے
ممبئی میں کیا دھوکا بھی تھا
شیر کی آمد ہے نکلو نہیں
آنے والا بھوکا بھی تھا
اس کو آنکھیں ڈھونڈ رہی تھیں
چاٹنے والا تلوا بھی تھا
اب کہ دِیا نہیں، پاس اس کے میرؔ
روٹی ،چاول، پیسہ بھی تھا
