غزل

دسمبر 20, 2024

میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

موبائل :9845628595

آنکھوں کااک رونا بھی تھا
آگے مدینہ مکہ بھی تھا

زندگی کرنے والے جانیں
موت سے پہلے مرنا بھی تھا

خطرہ تھا بیٹھے رہنے میں
چلنے میں کچھ دھوکا بھی تھا

کیاگالی دوں گااس کو میں
اس نے مجھ کو چاہا بھی تھا

آج دروپدی سامنے تھی خود
کھیلنا اُس سے جوا بھی تھا

پہنچا گاؤں تو سب پوچھے
ممبئی میں کیا دھوکا بھی تھا

شیر کی آمد ہے نکلو نہیں
آنے والا بھوکا بھی تھا

اس کو آنکھیں ڈھونڈ رہی تھیں
چاٹنے والا تلوا بھی تھا

اب کہ دِیا نہیں، پاس اس کے میرؔ
روٹی ،چاول، پیسہ بھی تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے