نئی دہلی: آج جہاں ہمارے ملک میں ہزارہا مسائل زیر بحث ہیں بلکہ سماج کو گھیرے ہوئے ہیں وہیں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے سامنے کئی اہم مسائل ان کو چیلینج کر رہے ہیں۔ ان میں بطور خاص یوپی مدرسہ ایکٹ سمیت وقف املاک اور “ پلیسز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ “ جیسے اہم امور سامنے ہیں۔ آج اس پر گفت و شنید کے ساتھ زور دار آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

ان خیالات کا اظہار آج استقبالیہ کلمات میں نوجوان کانگریسی لیڈر جاوید اشرف خان نے کانسٹی ٹیوشن کلب، دہلی میں یوپی اقلیتی کانگریس کے ذریعہ منعقد پروگرام میں کیا۔

معروف سماجی کارکن پروفیسر اپوروانند نے کہا کہ معاملہ اتنا بگڑ گیا ہے کہ اب شرپسند مذہبی مقامات تو دور گھروں میں عبادت پر بھی شرپسندی کر رہے ہیں۔ ذاتی معاملات میں بھی مداخلت ہورہی ہے۔ اس لئے دستور کا تحفظ ضروری ہے۔ اور آپ نے مزید کہاکہ یہ لڑائی اقلیتی کانگریس شعبہ کی نہیں بلکہ پوری پارٹی بلکہ ہر شہری کی لڑائی ہے۔

عوامی تاثرات میں بات کرتے ہوئے سماجی کارکن اور گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی، سدھارتھ نگر کے ڈائریکٹر جناب نوراللہ خان نے کہا کہ مذہبی مقامات کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور اس قانون کے چھیڑ چھاڑ سے فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوگا۔

گفتگو میں آگے بڑھتے ہوئے “انڈیا ٹومارو“ کے چیف ایڈیٹر جناب میسح الزماں نے کہا کہ یہ پروگرام اقلیتی سیل نہیں بلکہ مین باڈی کو کرنا چاہئے۔

واضح رہے کہ یہ پروگرام یوپی اقلیتی کانگریس شعبہ کا اختتامی سیشن تھا۔ یوپی اقلیتی شعبہ نے ورشپ ایکٹ پر سارے اضلاع میں ضلع ادھیکاریوں کو میمورنڈم دیکر صدر جمہوریہ ہند کو اپنے غم و غصے سے آگاہ کرتے ہوئے موجودہ قانون کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ۱۹۹۱ کا ایکٹ باقی رہے اور کوئی سیاسی پارٹی سماج میں تناؤ پیدا کرکے سماجی ہم آہنگی کو خراب نہ کرسکے۔

سامعین میں کئی ارکان پارلیامنٹ سمیت یوپی کانگریس کے ارکان ، کارکنان، اقلیتی کانگریس کے قومی صدر شاہ نواز صاحب، جنرل سکریٹری توقیر صاحب ، سجاد خان ، راشد علی، کامران احمد وغیرہ موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے