(تصویر: علامہ قمر الدين گورکھپوریؒ)

✍️احمدحسين مظاہریؔ
حضرت علامہ قمر الدين گورکھپوریؒ دارالعلوم دیوبند کے شیخ ثانی،محی السنہ حضرت شاہ ابرارالحق ہردوئی رحمہ اللہ کے خلیفہ و مجاز، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد رشید اور مشہور عالمِ دین تھے،حضرت الاستاذ صاحب علم و عمل اور اخلاق وکردار کی ایک واضح علامت ہیں، تقویٰ و طہارت میں امتیازی شان رکھنے کے ساتھ دعوت و اصلاح کے جذبہ سے بھی معمور رہتے تھے۔
ولادت و تعلیم:
مشرقی یوپی ضلع گورکھپور کے قصبہ بڑہل گنج میں ۲/ فروری ۱۹۳۸ء کو پیدا ہوئے،آپ کے والد کا نام حاجی بشیر احمد صاحب رحمۃاللہ علیہ ہے۔
عربی کی ابتدائی و متوسط تعلیم مدرسہ احیاء العلوم مبارک پور اور دارالعلوم مئو میں حاصل کی۔۱٩٥٤ء میں دار العلوم دیوبند تشریف لائے، ۱۹۵۷ء میں اس وقت کے مقتدر و مشاہیر علماء شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمۃاللہ اور حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی رحمۃ اللہ وغیرہ اساتذہ سے کسب فیض کر کے سند فراغت حاصل کی۔فراغت کے ایک سال قبل اور دورۂ حدیث شریف سے فراغت کے ایک سال بعد کامل دو سال فنون کی تکمیل کی۔
اساتذۂ دورہ حدیث شریف:
جن اساتذہ سے آپ نے کسب فیض کیا ان کے اسماء مع کتب حسب ذیل ہیں:
بخاری شریف: حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃاللہ اور حضرت مولانا فخر الدین صاحب مراد آبادی رحمۃاللہ۔
ترمذی شریف،مسلم شریف: حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بلیاوی رحمۃاللہ
نسائی شریف: حضرت مولانا بشیر احمد خان صاحب بلند شہری رحمۃاللہ۔
سنن ابی داؤد: حضرت مولانا فخر الحسن صاحب مراد آبادی رحمۃاللہ۔
شمائل ترمذی: حضرت مولانا عبد الاحد صاحب دیو بندی رحمۃاللہ۔
طحاوی شریف: حضرت مولانا سید حسن صاحب دیو بندی رحمۃاللہ۔
ابن ماجہ جہ شریف، موطا امام مالک: حضرت مولانا ظہور احمد صاحب دیوبندی رحمۃ اللہ۔
موطا امام محمد:حضرت مولانا جلیل احمد کیرانوی رحمۃ اللہ۔
درس و تدریس :
دارالعلوم میں فنون کی تکمیل کے بعد مدرسہ عبد الرب دہلی سے تدریسی سلسلہ کا آغاز فرمایا۔ ۱۹٦٦ء میں دارالعلوم دیوبند میں تقرر عمل میں آیا، ترقی کرتے ہوئے درجہ علیا تک پہنچے۔حدیث کی مشہور کتابیں مسلم شریف اور نسائی شریف وغیرہ زیرِ درس رہیں، اس وقت بخاری شریف جلد ثانی ( از کتاب المغازی تا ختم کتاب التفسیر اور تفسیر ابن کثیر سورہ صافات“کا سبق بھی آپ سے متعلق تھا۔
بیعت و سلوک:
منازل سلوک طے کرنے کے لیے حضرت مولانا و علامہ محمد ابراہیم صاحب بلیاوی رحمۃ اللہ نے حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رحمہ اللہ کے پاس بھیجا، اور ایک رقعہ تحریر فرمایا کہ جو کچھ علوم ظاہری دینا تھا وہ میں نے دے دیا،اب علوم باطنی اور تزکیہ نفس کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں،اور میں اس سلسلہ میں کوئی سفارش بھی نہیں کرتا،حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ نے اس پر مسکراتے ہوئے فرمایا یہ بھی تو ایک سفارش ہے پھر بیعت فرمالیا، آپ کی نیک طبیعت،اخلاق کریمانہ اور کسر نفسی کی بناء پر چند دنوں میں ہی آپ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ کے منظور نظر بن گئے اور ایک دن بڑی محبت میں ارشاد فرمایا کہ جب بھی کوئی بیعت ہو تو تم بھی شامل ہو جایا کرو،پھر حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے بعد حضرت محی السنہ مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہر دوئی رحمۃ اللہ سے اصلاحی تعلق قائم فرمایا۔ اور بہت جلد منازل سلوک طے فرماتے ہوئے اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے،آپ کو حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بلیاوی حضرت مولانا قاری صدیق صاحب باند ویؒ حضرت مولانا محمود صاحب خلیفہ حضرت مدنی رحمہم اللہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے۔
دعوتی و اصلاحی سرگرمیاں:
آپ دعوت و اصلاح اور تبلیغ و ارشاد کی غرض سے ملک و بیرونِ ملک کے اسفار فرماتے رہے ہیں،کئی مرتبہ انگلینڈ اور امریکہ بھی تشریف لے گئے ہیں،اور کئی سالوں سے رمضان کے اخیر عشرہ میں مسجد ہاشم آمبور میں اعتکاف فرماتے تھے۔ اور دل پذیر نصیحت اور حضرات اکابر کے واقعات سناتے رہتے تھے، اور”ان من الشعر لحکمہ“ کے مصداق اشعار سے مزین مواعظ حسنہ سے شہر و بیرون شہر کے سینکڑوں افراد کو مستفیض فرماتے رہے ہیں۔
تصنيفات:
حضرت والا کی مستقل تصنیف بندہ کے علم میں نہ آسکی، البتہ آمبور تمل ناڈو کی مسجد ہاشم میں جو بیان فرمایا ہے اسے جمع کر کے” جواہرات قمر” نام سے کئی جلدوں میں کتاب منظر عام پر آئی ہے۔
(مستفاد:اساتذۂ دارالعلوم و اسانیدہم فی الحدیث/56)
وفات: حضرت علامہ قمر الدين گورکھپوریؒ طویل علالت کے بعد (22/12/2024) بروزاتوار اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
اسی دن بعد نماز ظہر احاطۂ مولسری میں جنازے کی نماز امیرِ ہند حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم نے پڑھائی۔جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت رہی۔اور مزارِ قاسمی میں سپرد خاک کر دئیے گئے۔
