سدھارتھ نگر: گزشتہ شب بروز جمعہ کھجوریا روڈ پر واقعہ فیض عام لائبریری کے ہال میں ایک شعری نشست کا انعقاد اسسٹنٹ سیلس ٹیکس کمشنر آگرہ جناب علیم الدین صاحب کے اعجاز میں کیا گیا۔ پروگرام کا اغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید کمال نے بتایا کہ یہ نشست سدھارتھ نگر میں اسسٹنٹ سیلس ٹیکس کمشنر کے عہدے پر رہ چکے جناب علیم الدین صاحب کے اعجاز میں کی جا رہی ہے۔جو اج کل آگرہ میں مقیم ہیں۔پچھلے دنوں آگرہ سے ضلعے میں تشریف لائے جناب علیم الدین صاحب ،جن کے کاوشوں کے نتیجے میں فیض عام لائبریری وجود میں آئی اور جس میں علم و ادب سے تعلق رکھنے والی ہر طرح کی کتابیں دستیاب کرائی گئی ہیں تاکہ خواہش مند طا لب علم اس لائبریری میں اکر اپنی پڑھائی اور اپنے نصاب سے تعلق رکھنے والی اشیاء کتابوں میں تلاش کر سکیں اور اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس لائبریری میں ہر طرح کی کتابیں دستیاب ہیں جو طالب علموں کے لیے کافی مفید ہیں۔ فیض عام لائبریری نے اسی سلسلے میں ایک چیریٹیبل کلینک کی بھی شروعات کی ہے جو تقریبا پچھلے ایک سال سے بخیر و خوبی چل رہی ہے۔جس میں مریضوں کو صرف 20 روپے رجسٹریشن کی فیس ادا کرنی پڑتی ہے اور انہیں دوائیں مفت میں دی جاتی ہیں۔خون جانچ وغیرہ کے لیے بھی تقریبا بازار سے ادھی فیس پر انہیں سہولت مہیا کرائی جاتی ہے ۔
اسی سلسلے میں ایک شعری نشست کا انعقاد بھی کیا گیا۔ آغاز مولانا مہدی حسن کی نعت پاک سے ہوا۔۔۔
آقا ہمیں دیدار کرائیں تو عجب کیا،
دیدار کے قابل جو بنائیں تو عجب کیا ۔
نشست میں شامل دیگر شاعروں کے کچھ اشعار——
ہو سکھد زندگانی نئے سال میں،
دل کرو آسمانی نئے سال میں ۔
سنگشیل جھلک
رہا ہے برسوں یہ عالم کی بارہا ہم نے ،
کہیں کی چیز اٹھائی کہیں پہ چھوڑ دیا۔
ایڈوکیٹ شاداب شبیری
آپ اپنی مدد اگر نہ کریں
مہرباں آسمان نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر فضل الرحمن یاس
بھائی تو ہیں یہ بھی تیرے غیر ہیں بالکل نہیں،
بےکسوں کی جان لینا گھر جلانا چھوڑ دو۔
شو ساگر سحر
وہ گھر سے کہہ کے یہ نکلا تھا بس ابھی آیا
زمانہ گزرا کوئی راہ اب بھی تکتا ہے
ڈاکٹر جاوید کمال
رام دھرا پر کب اؤ گے،
میں نے پھر راون دیکھا ہے۔
برہم دیو شاستری پنکج
اس کے علاوہ ڈاکٹر نوشاد اعظمی اور پنکج سدھارتھ نے بھی اپنے کلام پیش کیے۔
نشست میں بطور مہمان خصوصی اسسٹنٹ سیلس ٹیکس کمشنر جناب علیم الدین صاحب موجود رہے۔ صدارت برہم دیو شاستری پنکج نے اور نظامت شیو ساگر سحر نے کی۔ آخر میں جناب علیم الدین صاحب نے سبھی شاعروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادب کی اس طرح کی محفلوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم آپس میں قومی اتحاد اور بھائی چارگی بنائے رکھیں۔ ایسی محفلیں برابر ہوتی رہنی چاہیے جہاں بنا کسی بھید بھاؤ اور تفرقہ کے ہر مذہب کے لوگ شامل ہو کر اپنے بہترین خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور سماج کو اپنے اشعار کے ذریعے ایک اچھا پیغام دیتے ہیں۔
نشست میں ماسٹر نسیم، اختر حسین اور دیگر کئی مقامی لوگ موجود رہے۔ ویڈیو گرافی مولانا ابوالکلام آزاد ندوی نے کی۔
