سہارنپور (احمد رضا): جس طرح سے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو محمد پور اور ملّا پور گاؤں کے نام کو بدلنے سے قبل ہزاروں کی بھیڑ کے سامنے مندرجہ بالا ناموں کا مزاق بناتی ہیں اس سے ان کی د لکی منشاء صاف صاف جھلک رہی ہے کہ از خد موہن یادو اور انکے جلسہ میں موجود سبھی لوگ نام محمد اور ملّا کا احترام نہی کرتے بلکہ اسلامی مقدس ناموں کا مزاق بنانے میں یقین رکھتے ہیں جبکہ دنیا بھر کے مسلمان  نبی اکرم محمّد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور حکومت سے  ہی سبھی مذاہب کے ماننے والوں کا اور انکے پور وجوں کا ہمیشہ سے احترام کرتے آئے ہیں قرآن بھی سبھی کے احترام کا سبق دیتا ہے مگر ملک کے شدت پسند افراد نے تو مسلم دشمنی میں آسماں سر پر اٹھا لیا ہے واضع ہو کہ مہا کال مندر کا راستہ ہموار کرنے کے لئے ملک کے آئین اور قانون کا مزاق بناتے ہوئے موہن یادو کی مدھیہ پردیش سرکار نے دو پرانی عظیم الشان مسجد وں کے علاوہ دو سو اسّی سے زائد مسلمانوں کے مکانوں کو مٹّی میں ملا دیا ہے جس میں سیکڑوں سال پرانی تکیہ مسجد بھی شامل ہے اس کھلے اور اعلانیہ سرکار ی ظلم اور جبر کو ملک کی عدلیہ اور سبھی سیاسی جماعتوں نے کھلی ہوئی آنکھوں سے بہ غور دیکھا ہے اور بڑے بڑے اخبارات میں شائع ہوئی خبروں کو اچھی طرح سے پڑھا بھی ہے مگر اس کے باوجود بھی سبھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آپ کو بتاتے چلیں کہ ملک کی آزادی سے قبل سے اجّین شہر میں مسلم آبادی قریب قریب 20 فیصد چلی آرہی ہے  بس اس قوم سے نفرت اور حسد کے نتیجہ میں لگاتار ملک بھر میں مسلم آبادی پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں علاوہ ازیں ہمارے اپنے ملک میں سی اے اے، این سی آر این پی آر کے علاوہ اوقاف پر سرکاری تسلط اور کامن سول کوڈ کو لاگو کرنے کے اقدام کے حوالہ سے اگر آپ غور و فکر کریں تو یہ شہریوں کو پریشان کرنے انکو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے یا محروم کرنے کی کوشش ہی ہے اور یہ پلاننگ اصل میں ظلم کے دائرے میں آتی ہے اپنے حقوق کے دفاع کے لئے ہندوستان میں احتجاج مظاہرے اور دھرنوں کا طویل اور تاریخی سلسلہ شروع ہوا تھا اور ملک کی بڑی آبادی احتجاج کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ان دنوں حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم نے  پھر سے اوقاف کے تحفظ کیلئے احتجاج اور جیل بھرو تحریک کیلئے تیار رہنے کو کہا ہے ممکن ہے اس کی نوبت آجائے احتجاج اور مظاہرے عالمی طور پر ناانصافیوں کو ختم کرنے میں مؤثر رول ادا کرتے ہیں اور حکمراں جماعت اسی زبان کو سنتی اور سمجھتی بھی ہے، اس لئے ظلم کی دفاع میں پوری دنیا میں اس کو مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، البتہ اسلام مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے دفاع کیلئے کسی بھی ایسے کام کو پسند نہیں کرتا جس سے اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا لازم آتا ہو، ارشاد خداوندی ہے”وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ“ اس ممانعت کا حاصل یہ ہے خود سوزی اور اس طرح کے دوسرے کام جس سے اپنی اور غیر متعلق لوگوں کی جان و مال کا نقصان پہونچے اس کی حمایت نہیں کی جا نی چاہئے،اسلام میں ظلم کے دفاع کے لئے بھی حدود و قیود مقرر ہیں اور ہم اس کی خلاف ورزی کر کے ظلم کے دفاع کا کام نہیں کر سکتے اس گفتگو کی مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کہ ظلم کی الگ الگ قسموں کے دفاع کے لئے اسوہ رسول اکرم میں الگ الگ نمونے موجود ہیں،ان کو برت کر ہم اس دنیا کو ظلم وستم سے پا ک کر سکتے ہیں،اس معاملہ میں شرک سے پاک سماج کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،رب مانی کا مزاج بنتا ہے تومن مانی ختم ہوتی ہے،اور انسان خدائی احکام اور نبوی ہدایات کا خوگر ہو کر ہر قسم کے ظلم کا خاتمہ کر سکتا ہے،قانون الٰہی کی پابندی اورمنکرات سے اجتناب ظلم کے دفاع میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے! ان سب کا تعلق تیسری قسم کے ظلم سے ہے،یہ معاملہ بڑا سنگین ہے، مسلم شریف میں ایک روایت”باب تحریم الظلم“کے ذیل میں درج ہے،اس میں فرمایا گیا کہ قیامت کے دن امت کا مفلس ترین وہ انسان ہوگا جس نے حقوق اللہ میں کوتاہی نہیں کی ہوگی، لیکن حقوق العباد میں ظلم کو راہ دیا ہوگا، اس دن اس کے سارے نیک اعمال کا ثواب مظلوموں کے کھاتے میں چلا جائے گا اور نیکی برباد گناہ لازم آئے گا،ظلم کے اس سلسلے کو ختم کرنے کے لیے  آقائے نامدار محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی جامع حدیث بخاری شریف میں آئی ہے کہ  ۔۔۔۔۔ * اُنْصُرْاَخَاکَ ظَالِماً اَوْ مَظْلُوْماً * ۔۔۔۔۔ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم،اس حدیث میں ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کے لئے کہا گیا ہے،ظالم کی مدد تو یہ ہے کہ اس کی کلائی پکڑلی جائے کہ وہ ظلم سے باز آ جائے، موجودہ دور میں اس سے مراد وہ تمام جائز طریقے ہیں،جن کا سہارا لے کر ظلم سے روکا جا سکتا ہو، مظلوم کی مدد یہ ہے کہ اس پر ظلم نہ ہونے دیا جائے اور ہر ممکن طور پر اس کی حمایت اور دفاع میں آگے آیا جائے تاکہ ظالم کی ہمت اور کمر ٹوٹ جائے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے