نوراللہ خان
نوگڈھ
یوپی مشرق ایک غریب مگر زرخیز خطہ رہا ہے۔ اسی پوروانچل نیپال سرحد سے متصل سدھارتھ نگر جو بستی ضلع سے ۱۹۸۸ میں الگ ہوکر بنا ہے وہ بھی مشرقی اترپردیش کا ایک معروف ضلع ہے جو کئی اعتبار سے مشہور ہے۔
یہاں پانچ تحصیلوں میں نیپال سے آئی ہوئی ندیاں نظر آتی ہیں جو کافی اہم ہیں اور سیلاب کا سبب بھی بنتی ہیں مگر ان کا فائدہ بھی ہے۔ اسی لئے یہاں کی زرعی زمین بہت اچھی ہے جسکی وجہ سے ہر موسم میں کافی اچھی فصل ہوتی ہے۔ الیدہ پور برڈ پور کا علاقہ کالا نمک چاول کیلئے معروف ہے جو ہم سب جانتے ہیں۔ کچھ صحافیوں کے بقول یہ دنیا کا واحد اور منفرد چاول ہے جو ما قبل مسیح سے پایا جاتا ہے اور یہ گوتم بدھ کے زمانے سے اس علاقے میں ہے۔
یہ خطہ نہ صرف مدارس، اردو اور ممبئی کے سینٹھوں اور تاجروں سمیت عام کسانوں اور سادگی کیلئے مشہور ہے وہیں اب بطور خاص تعلیم کے حوالے سے بہتر شبیہ کا حامل ہوگیا ہے۔ اور ساتھ ہی یہاں گورکھپور اور لکھنئو کے درمیان سب سے اچھے اسپتال موجود ہیں جن میں مادھو پرساد میڈیکل کالج ، صدر اسپتال ، الشفا ہاسپٹل، مسکان عذرا ہاسپٹل، جے جے ہاسپٹل ، نور ہاسپٹل ، مشرا ہاسپٹل، فاطمہ ہاسپٹل ، ڈاکٹر چندریش اور ڈاکٹر بی پی میموریل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
یہ علاقہ تعلیم کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ سدھارتھ یونیورسٹی (علیگڈھوا ) اس وقت کافی اہمیت کی حامل ہے اور پڑوسی اضلاع کے طلبہ کی توجہ کا بہترین مرکز ہے۔
“اُسکا بازار” نوگڈھ یہ وہ علاقہ ہے جہاں منشی پریم چند کا تقرر ہوا تھا۔ آپ نے یہاں تدریس کے فرائض انجام دیئے اسی طرح اردو کے معروف ادیب فراق گورکھپوری کی آمد ہوتی تھی۔ جس میں کھجوریا گاؤں کا ذکر آتا ہے۔
اسکول ومدارس یہاں زمانہ قدیم سے ہیں ۔ شیوپتی ڈگری کالج جسے راجہ شہرت سنگھ نے بنوایا تھا۔ اسی طرح رتن سین ڈگری کالج راجہ بانسی کی دین ہے جو کئی اعتبار سے تعلیم کے اہم ادارے مانے جاتے ہیں۔
جامعہ دارالہدی یوسف پور ، دارالعلوم ششہنیاں، الجامعتہ الاسلامیہ ، تلکہنا نیز ریواں، ٹکریا، اوسان کوئیاں یہ سب بھی تین بڑے گاؤں ہیں جہاں پرانے مدارس ہیں۔ اور موجودہ دور میں دو اہم شخصیات نے بڑا کام کیا ہے جن میں عبدالواحد مدنی صاحب ( نا ظم صفا شریعت کالج ) جن کے کئی ادارے ہیں۔ اور ڈاکٹر عبدالباری خان مرحوم جن کے کئی ادارے ڈومریاگنج سمیت نوگڈھ میں چل رہے ہیں۔
نوگڈھ علاقے میں کانگریسی لیڈر اور قاضی عدیل عباسی کے دوست آنجہانی رام شنکر مشرا نے بڑا کام کیا ہے جو قابل ذکر ہے۔ آپ نے سب سے پہلے اسکولوں کا جال بچھایا جس وقت تعلیم سے کافی دوری تھی۔ پرانی نوگڈھ سے متصل “ مسلم انٹرکالج ، مہدئیا بھی قابل ذکر اسکول ہے جس معیاری اسکول مانا جاتا تھا اور جغرافیہ ضلع سدھارتھ نگر میں اسکا ذکر تھا۔
رام شنکر مشرا جی نے نہ صرف دُلہا بازار میں انٹرکالج بنایا بلکہ برڈپور اور پرانی نوگڈھ میں انٹر میڈیٹ کالج قائم کیا تھا۔ اتفاق سے تینوں اسکول اسی ایک ہی روڈ پر واقع ضلع ہیڈ کوارٹر سے ککرہوا تک عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اور ان کی فہرست کچھ یوں ہے۔
۱- بُدھ ودیا پیٹھ ڈگری کالج نوگڈھ
۲- بدھ ودیا پیٹھ انٹرکالج برڈپور
۳- بدھ انٹر کالج دُلہا ککرہوا
۴- نہرو انٹرکالج پرانی نوگڈھ
۵- بدھ کنیا ڈگری کالج بھیما پار، سدھارتھ نگر ۔
رام شنکر مشرا مدھوبنیا چوراہا نوگڈھ ، سدھارتھ نگر سے تعلق رکھتے تھے۔ اور بعد میں ریلوے اسٹیشن کے پاس منتقل ہوکر ڈگری کالج کے بغل میں مقیم ہوگئے تھے۔
بقول بعضے آپ نے ایم پی کا ٹکٹ خود نہ لے کر عباسی صاحب کو دلادیا تھا۔ اور آپ نے پوروانچل کو صوبہ بنائے جانے کا مطالبہ بھی کیا تھا اور اس تحریک میں آگے آگے تھے۔
ان کے داماد ڈاکٹر راجیش چند شرما ( .C.A)کے مطابق آپ نے گورنر ہاؤس کے طور پر سرکار کو اپنا بنگلہ تک دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔ مشرا جی کی بھی کوشش شامل تھی جس سے ضلع ہیڈ کوارٹر نوگڈھ میں بن سکا ورنہ ڈومریاگنج میں ضلع ہیڈکوارٹر بنانے کا پلان ہورہا تھا اور تقریبا یہ فیصلہ ہوچکا تھا۔ مشرا جی کی نرینہ اولاد نہیں تھیں ۔ آپ کی دو بیٹیاں ہیں جو تعلیم سے وابستہ ہیں۔ مشراجی نے جو کوشش کی تھی وہ نہ صرف قابل تعریف بلکہ لائق تقلید اور سماج کیلئے آئینہ بھی ہے۔ اور یہی وہ خدمات تھیں جنکے سبب ان کو لوگ سدھارتھ نگر کا پنڈت مدن موہن مالویہ کہتے تھے۔
اہل علاقہ سدھارتھ نگر قابل مبارک باد ہیں کہ وہاں مشراجی جب مالویہ بنے تو ڈاکٹر عبدالباری خان نے سرسید خان بھی بنکر دکھایا جس سے نہ صرف مثبت کام کا مسابقہ ہوا بلکہ ایک بڑا تعلیمی ماحول بھی بنکر سامنے آیا۔
